تازہ ترین

قوم پرست رہنما انجینئر منظور حسین پروانہ نے گلگت بلتستان کے حقوق کی تحفظ کیلئے نیا فارمولہ پیش کردیا۔

سکردو(پریس ریلیز)(باشندہ گان ریاست کا قانون)گلگت بلتستان سٹیٹ سبجیکٹ رولز،مجوزہ )درجہ اول : وہ تمام افراد جو گلگت بلتستان میں 16 نومبر 1947ء سے قبل مستقل رہائش رکھتے ہوں ، گلگت بلتستان کے مستقل شہری ہونگے۔ اگر کسی نے گلگت بلتستان کی شہریت ترک کر کے دوسرے ملکوں کی شہریت اپنائی ہے تو وہ دوبارہ گلگت بلتستان کی شہریت اپنا سکتے ہیں بصورت دیگر وہ درجہ سوم میں شامل ہوگا ۔ درجہ اول کے شہریوں نے مسئلہ کشمیر پر استصواب رائے کی صورت میں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا ہے۔درجہ دوم: وہ غیر مقامی افراد جنہوں نے گلگت بلتستان میں شادی کی ہیں ، اور مستقل طور پر گھر داماد یا بیوی کی جائیداد پر سکونت رکھتے ہیں ، اور کسی دوسرے ملک کی شہریت نہیں رکھتے۔ وہ بھی گلگت بلتستان کے نیم مستقل شہری کہلائیں گے اور ان کے بچے بھی اگر ان کی گلگت بلتستان میں مستقلا سکونت اور کاروبار ہو۔ یہ سہولت اس ترمیمی سٹیٹ سبجیکٹ کے اطلاق کے بعد کسی کو حاصل نہیں ہوگی۔یہ افراد کسی دوسرے ملک کی شہریت کا حامل نہیں ہونا چائیے اگر کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھتے ہیں تو ان کو درجہ سوم میں شمار کیا جائے گا۔درجہ سوم : وہ تمام افراد درجہ اول اور درجہ دوم کے علاوہ جو کہ 16 نومبر 1947ء کے بعد سے اس ترمیمی سٹیٹ سبجیکٹ کے اطلاق تک مسلسل گلگت بلتستان میں رہائش پذیر ہو اور جائیداد بنائی ہو ، وہ غیر مستقل یا عارضی رہائشی کہلائیں گے، ان کو حکومت گلگت بلتستان سے عارضی رہائش و جائیداد کا اجازت نامہ لینا ہوگا ۔ یہ افراد درجہ اول کے علاوہ کسی کو اپنی جائیداد فروخت نہیں کر سکے گی۔ ان افراد کو گلگت بلتستان کی قومیت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ یہ افرادگلگت بلتستان میں( یونین ، کونسل اور اسمبلی کے انتخابات میں ) نہ حصہ لے سکیں گے اور نہ ووٹ دے سکیں گے۔درجہ چہارم: وہ افراد جو 16 نومبر 1947ء کے بعد سے گلگت بلتستان میں کارو باری مقاصد کے لئے سکونت پذیر ہیں ، یا اس قانون کی اطلاق کے بعد کاروبار کرنے کا خواہشمند ہیں ان کو حکومت گلگت بلتستان سے یہاں عارضی رہائش رکھنے اور کاروبار کرنے کا اجازت نامہ لینا ہوگا ۔کاروباری مقاصد کے لئے درجہ اول کے سکونتی کو کفیل یا پارٹنر رکھنا لازمی ہوگا۔ تاکہ ان کے کاروبار کو ریاستی قانون کا تحفظ حاصل ہو سکے۔درجہ پنجم: گلگت بلتستان کی تمام اراضی یہاں کے عوام کی ذاتی یا اجتماعی ملکیت ہیں ، اگر کوئی شخص گلگت بلتستان میں کاروبار یا مائنگ کرنے کی غرض سے کمپنی بنانا چاہے تو اسے حکومت گلگت بلتستان سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا اورکسی ایک درجہ اول فرد یا کمیونٹی کے ساتھ شراکت سے کام کرنا لازمی ہوگا۔ درجہ ششم: درجہ سوم سے پنجم تک کوئی بھی فرد ریاست کا مستقل سکونت حاصل نہیں کر سکے گا اور نہ ہی ان کو ذاتی جائیداد بنانے اور انفرادی طور پر کاروبار کرنے کی اجازت ہوگی۔ جب تک درجہ اول کے کسی فرد کے ساتھ شراکت داری نہ ہو۔ملازمت :۱۔ گلگت بلتستان کے تمام گورنمنٹ سروسس میں مستقل ملازمت میں درجہ اول کے سٹیٹ سبجیکٹ کو ترجیح حاصل ہوگی۔ درجہ دوم کا مخصوص کوٹہ ہوگا ۔ اوردرجہ سوم تا پنجم کو اگر ملازمت کرنا مقصود ہو تو حکومت گلگت بلتستان سے عارضی ملازمت کا اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔۲۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں دفاع، امورخارجہ اور کرنسی حکومت پاکستان کے پاس ہوگی اس لئے صرف ان تینوں اداروں کے انتظامی سربراہوں کا تعلق گلگت بلتستان سے ہونا لازمی نہیں ہو گا ۔ ان تینوں کے علاوہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ملازمتوں صرف اور صرف درجہ اول کے افراد تعین ہونگے۔نوٹ : گلگت بلتستان کے ریاستی باشندے سیاست داں، علماء، وکلاء ، دانشور اور طلباء ان تجویز میں اپنی رائے شامل کریں تاکہ ایک بہترین سٹیٹ سبجیکٹ رولز مرتب ہو سکیں، جو گلگت بلتستان کی آنے والی نسلوں کی بقا ء و سلامتی کے لئے قانونی حیثیت اختیار کر ے ۔
( انجنئیرمنظور پروانہ: چئیرمین گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ) مورخہ : 10 اگست 2018ء

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

2 comments

  1. بہت خوب منظور پروانہ صاحب

  2. انجنیر منظور پروانہ نے گلگت بلتستان کے حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں جو فارمولا دیا ہے وہ بہت حد تک ایک بہتر فارمولا ہے اور اس میں مقامی لوگوں کے قانونی اور شہری حقوق کا تحفظ ہے ۔ یہ ایک طرح سے ریاست جموں کشمیر کے قانون اورسنہ ۱۹۲۶ مین نافذ کردہ سٹیٹ سبجیکٹ رولز کا مترادف ہے ۔ لیکن پروانہ صاحب کو مشورہ دوں گا کہ یہاں کی شہریت کو بہت زیادہ درجوں میں تقسیم کرنے کے بجاءے جموں کشمیر سٹیٹ سبجیکٹ رولز کی طرح چار درجوں میں تقسیم کریں ۔اس کے لیے وہ جموں کشمیر لاء اور سٹیت سبجیکٹ رولز سے رہبری لے سکتے ہیں ۔ پروانہ صاحب کے اس فارمولا میں ایک خرابی یہ ہے کہ زیادہ درجہ بندی اور ہر درجہ کی تفصیلات میں جاکر کل اس میں بھی کرپشن کی بڑی گنجاءش نکل سکتی ہے جس سے اس فارمولے کی افادیت اورشہری درجہ اول کے حقوق پھر سے چوری ہونا شروع ہونگے ۔ میری دوسری تجویز یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں جب تک استصواب رایے ہوکر کشمیر کی کشتی کسی ایک ساحل پر جا نہیں ٹک جاتی اسی پرانے جموں کشمیر لاء اور اسی کے تحت جاری کردہ سٹیٹ سبجیکٹ رولز ۱۹۲۶ کو گلگت بلتستان کا سپریم لاء قرار دے کر اسی کو پوری معنویت کے ساتھ گلگت بلتستان میں نافذ رکھدیاجاءے ۔ وسلام سیم محمد عباس کاظمی سکردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*