تازہ ترین

عوام تبدیلی چاہتے ہیں۔۔

سب سے پہلے ہمیں یہ مانناہوگاکہ پاکستان تحریک انصاف پاکستان کی سب سے بڑی جماعت بن کرسامنے آئی ہیں،ہمیں یہ بھی مانناہوگاکہ تحریک انصاف کوالیکشن میں ایسی جیت کاخودعمران خان کوبھی یقین نہیں تھا،الیکشن سے قبل میں سوچ رہاتھاکہ پاکستان مسلم لیگ ن کے بانی میاںمحمدنوازشریف کی وطن واپسی سے ا ن کے ووٹ بینک میں اضافہ ہواہے،لندن سے آڈیالہ تک کاسفرعمران خان کیلئے خطر ے کی گھنٹی ہے،میرااندازہ تھاکہ تحریک انصاف ذیادہ سے ذیادہ ستر،اسی سیٹیں ہی جیت پائیں گے،لیکن میرے اندازے غلط ثابت ہوئے ،آج میں انتہائی خوش ہے،پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں116سے زائدنشستیں حاصل کرکے پیپلزپارٹی اورپاکستان مسلم لیگ ن کوشکست سے دوچارکیا،اس جیت پرپاکستانی عوام بھی مبارک بادکے مستحق ہے،انہوں نے پہلی بارمورثی سیاست کیخلاف ووٹ دے کرنئے پاکستان کی جدوجہدمیں اپناحصہ ڈالتے ہوئے عمران خان کوملک کاسربراہ مقررکرنے میںکرداراداکیا،ملکی تاریخ کامہنگاترین الیکشن بالاخراختتام کوپہنچا،اورپاکستان تحریک انصاف اتحادیوں کوساتھ ملاکروفاق میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے،امیدہے عمران خان نئے پاکستان کیلئے اپناتن من دھن قربان کرنے سے بھی دریع نہیں کریں گے،یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ عمران خان کوقرضوں سے ڈوبے ہوئے ملک میں حکومت کرناسرکاتاج نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ثابت ہوگی۔
پاکستان تحریک انصاف کی تبدیلی کی نئی لہرنے بڑے بڑے بُرج اُلٹ دیے،اوروہ لوگ اپنی ناکامی کارونارورہاہے،ویسے کس نے سوچاتھامسلسل تیرہ سال قومی اسمبلی کاممبررہنے والے نامورشخصیت جمعیت علماء اسلام ف کے بانی مولانافضل الرحمان ڈیر ہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کے دونوں نشستوں سے ہارکرقومی اسمبلی سے باہرہوسکتے ہیں،کون سوچ سکتاتھاکہ اسفندیارولی اپنے آبائی حلقے چارسدہ سے تحریک انصاف کے گم نام امیدوارکے ہاتھوں شکست کھاجائیں گے،کسی کے وہم وگمنان میں بھی نہیں تھاکہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق متحدہ مجلس عمل میں شامل ہونے کی سزابھگتیں گے،کون کہہ سکتاتھابلاول بھٹوزرداری پیپلزپارٹی کے گھڑلیاری سے شکست سے دو چارہوسکتے ہیں،کس کو پتہ تھاکہ سابق وزیرداخلہ چودھری نثارکاقومی اسمبلی کی سیٹیں جیت کرمسلم لیگ ن کواپنی نشستیں تحفے میں دینے کاخوا ب چکناچورہوسکتاہے،اوران کی جیب کھائی میں گرسکتی ہے،کس کے ذہین میں تھاکہ ایم کیوایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستارکراچی کے دونوں نشستوں سے ہاتھ دوبیٹھیں گے،کون سوچ سکتاتھامصطفی کمال انتخابات میںکمال نہیں دیکھاپائیں گے،کون سوچ سکتاتھاعوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشیددستی سمیت آفتاب شیرپاو ،آفاق احمداورثروت اعجازقادری انتخابی دنگل سے باہرہوجائیںگے۔
25جولائی کی شام کوانتخابات میں بڑے بڑے بُرج الٹنے شروع ہوئے توپاکستان مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی سمیت دیگرجماعتوں نے انتخابات کودھندلاقراردے کرانتخابات کومستردکرنے کااعلان کیا،میرے خیال میں انہیں واویلاکرنابھی چاہیے تھاکیوں نہ کریں ملکی تاریخ میں پہلی بارشفاف الیکشن ہوتے ہوئے بڑے بڑے بُرج الٹ جوگئے ہیں،ویسے آپس کی بات ہے دھاندلی کے الزامات 1970سے لگاتے آرہے ہیں،جیتنے والی جماعت انتخابات کوشفاف اورہارنے والی جماعتیں دھندلاقراردیتے ہیں،بحرحال ان شکست خوردہ جماعتوں نے آل پارٹیزکانفرنس کے نا م پراجلاس بھی بلائی،اس میں کچھ جماعتوں نے شرکت بھی کی،وہ دیکھنے میں آل پارٹیزکانفرنس تھا، لیکن میں سمجھتاہوں کہ وہ آل پارٹیزکانفرنس نہیں بلکہ انجمن متاثرین عمران خان تھا،اسے کسی صورت آل پارٹیز کانفرنس نہیںکہہ سکتا،کچھ رہنماوں کی قومی اسمبلی میں حلف نہ لینے کی خواہش اس وقت چکناچورہوگیا، جب پاکستان مسلم لیگ ن کے صدرمیاں شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں حلف لے کراپوزیشن میں بیٹھ کرعمران خان کی حکومت کوٹف ٹائم دینے کاعندیہ دے دیا،عندیہ کیوں نہ دیں انجمن متاثرین عمران خان جوہے۔
تاریخ گواہ ہے اس سے پہلے 1970کے انتخابات میں لوگوں نے ذوالفقارعلی بھٹوسے ایسی امیدیں وابستہ کی تھی جتنی آج عمران خان سے وابستہ کی جارہی رہی ہے،لیکن بیج میں جمہوریت پرشب وخون مارنے کی روایات کے باعث عوامی امنگوں کی صحیح ترجمانی نہ ہوسکا،آج عمران خان عوامی امنگوںکی ترجمانی کیلئے میدان کارسازمیں اُتراہے،اگراپوزیشن بیج میں لوہے کی دیواربن کرکام کرنے نہ دیں تویہ ہمارے ملک کاسب سے بڑاالمیہ ہوگا،اورشایدہم اس کاازالہ برسوں بعدبھی نہ کرسکیں گے،عمران خان واقعی میں ملک کی فلاح وبہبودکیلئے کچھ نہ کچھ کرناچاہتاہے،جوکہ خودانہوں نے بارہااپنی تقاریرمیں کہا ہے،انہوںنے خیبرپختون خواہ میں اپنی پانچ سالہ دورحکومت میں تبدیلی کانعرہ لگاتے لگاتے عوام کیلئے بہت کام کیاہے ورنہ تاریخ گواہ ہے کے پی کے کے عوام نے کسی بھی حکومت کومسلسل دوسری مرتبہ منتخب نہیں کیا،آج کے پی کے میں پاکستان تحریک انصاف کی اکثریت اس بات کا منہ بولتاثبوت ہے۔
نئی حکومت کو کئی چیلنجزکاسامناہے،بیرونی قرضے بھی اُتارنے ہے،تباہ حال معیشت کوبھی بہتربنانے ہے،ملک میں پانی کی کمی کوبھی پوراکرناہے،دہشتگردوں کے خلاف جہادبھی کرناہے،عالمی سطح پرپاکستان کی امیج بھی بہتربناناہے،پھراس پرعمران خان نے جلسوں کے دورا ن عوام سے کیے ہوئے وعدوں کوبھی پائیہ تکمیل تک پہنچاناہے،ایک کروڑ نئی نوکریاں پیداکرناہے،پچاس لاکھ مکانات تعمیرکرانے ہیں،صحت اورتعلیم کے میدان میں بہتری سمیت بہت کچھ کرناہے،اسی لیے میراخیال ہے کہ حکومت سرکاتاج نہیں کانٹوں کی

سیج ثابت ہوگئی،مخالفین تحریک انصاف کی ماضی کے ریکارڈ،عمران خان کی شخصیت اورخیالات سے اختلاف کرسکتے ہیں،مگریہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ پاکستانی عوام نے پانچ سال کیلئے تحریک انصاف پراعتمادکااظہارکیاہے،اب عوام تبدیلی کے منتظرہے،ملک میں واقعی تبدیلی چاہتے ہیں،اورتبدیلی کاوقت آن پہنچاہے،اسی لیے پرانے حکومت کے رہنمااورنئے حکومت کے اپوزیشن اراکین کوچاہیے عمران خان کوکام کرنے کاموقع دیں،اوراگراپوزیشن درمیان میں لوہے کی دیواربنے رہے توآج کے حکومت کل اپوزیشن میں ہوگی اوروہ حکومت کیخلاف ڈٹ کے کھڑاہوگا،یوں ایک دوسرے کے درمیانی اختلافات سے ملک بحران کاشکارہوکرکمزورہوجائے گا۔

تحریر: ممتازعبا س شگری

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*