تازہ ترین

رشتے ۔۔۔ ا

انسان معاشرتی جانور ہے یہ جب تک زندہ رہتا ہے گروہ ،قوم ، قبائل اوراپنے جیسے دیگر لوگوں کے ساتھ رہتا ہے انسان تن تنہا،لاتعلق اور اکیلا کسی جنگل یا پہاڑپرساری زندگی نہیں گزار سکتا ۔انسان جب اس جہاں میں ورد ہوتا ہے تو پیدائش کے ساتھ ہی کئی رشتوں میں منسلک ہوجاتا ہے جیسے بیٹی،بہن ،بیٹا،بھائی،کزن،بھتیجا،بھتیجی،پوتا،پوتی اور ان جیسے دیگر کئی اور رشتوں میںانسان منسلک ہوجاتا ہے ہررشتے سے برتائو اورادب وآدب کے تقاضے مختلف ہے خاص طور پرمشرق میں رشتے کے رکھ رکھائو قدرے مختلف ہے جیسے باپ بیٹاکارشتہ چاہے ناکردہ گناہوںپرہی کیوں نا ڈانٹ ڈپٹ ہو رہی ہو چندایک کے علاوہ باپ کے سامنے بیٹے کو اپنے ناکردہ گناہوں کے خلاف بھی آوازبلند کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور اگر کوئی عظیم ہستی ان ناکردہ گناہوں پر ہونے والی ڈانٹ ڈپٹ کے خلاف آواز بلند کرنے کی ہمت کرتی ہے تو صرف ڈانٹ ڈپٹ کرنے والے شخصیت کی شریک حیات ہی کرتی ہے اور اس وکالت کے جرم میں وکالت کرنے والی کو بھی ملزم کے کٹہرے میںکھڑاکردیا جاتا ہے او ر وکالت کرنے والی کو ملزم کا سہولت کار قراردے دیا جاتاہے ۔جس طرح کوئی انسان تنہا،لاتعلق رہ کر زندگی نہیںگزار سکتا ہے اسی طرح کوئی ملک ساری دنیا سے لاتعلق نہیں رہ سکتا شایدانسان تو لاتعلق رہ کر زندگی گزار سکتا ہے لیکن کسی ملک کے لیے یہ ممکن نہیں کہ لا تعلق رہے۔ملکوں کے درمیان تعلقات بھی عام انسانوں کے درمیاں قائم تعلقات سے قدرے مختلف نہیں ہوتے جیسے ایک گروپ میں شامل تمام دوستوں کے بارے ہم اچھے سے جانتے ہے کہ کس کی کیا کمزوری ہے کس کی کیا اوقات ہے گروپ میں کس کو کتنی اہمیت و توجہ دینی ہے گروپ میںکون برابری کے بنیاد پر تعلقات استور کرنا چاہتا ہے اور کسے محض چند کاموں کے لیے شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح ممالک بھی ایک د وسرے کو اس کی اہمیت اور اوقات کے مطابق توجہ اور اہمیت دیتے ہے۔پاکستان اور اس کے روایتی حریف بھارت کے درمیاں قائم تعلقات ان دو پڑوسیوں کے تعلقات جیسے ہے جواپنے سارے کام اس بات کو مد نظر رکھ کر کرتے ہے کہ اپنے پڑوسی پر سبقت لے سکے دونوں اپنے گھر کے حالات کے مطابق فیصلے نہیں کرتے اگر ایک نے بیش بہا قیمتی اسلحہ خریدا ہے تو دوسرے کو بھی اس جیسا اسلحہ چاہیے اس کے لیے رقم کا انتظام کہی سے بھی کرنا پڑے اور دونوںعلاقے کے بڑے بد معاش سے بھی ہر ممکن بہتر تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہے تاکہ مخالف پڑوسی اس بد معاش سے مل کر اس کے لیے مشکل نہ کھڑی کردے۔اس سے اندازہ کر لینا چاہیے کہ ایک برا پڑوسی کتنا خرچہ کرادیتاہے اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں خیال رکھنا چاہے کہ ہم مزید برے پڑوسیوں کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ۔جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے وکٹری تقریر میں جس طرح کھلے دل کے ساتھ پڑوسیوںکے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کا اظہار کیا ہے یہ قابل تعریف ہے۔اگر ہم چاہتے ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک ہمارے ساتھ برابری کے بنیاد پر تعلقات قائم رکھے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی اہلیت ثابت کریںاور دنیا بھر کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک میجور اور مستحکم ملک ہے اس کےلیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر کام کریں اسی طرح پاکستان کوایران اور سعودی عرب کے درمیان ایک(Mutualfriend)کا کردار ادا کرنا چاہے تاکہ دونوں حریف پاکستان سے کسی خاص رعایت کی توقع نہ کرسکے ۔ دوسری طرف چین ہے جس کے بارے میں ہم بچپن سے سنتے آرہیں ہے کہ پاک چین دوستی زندہ بادمگر ہمیں اس چیز کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ دوستی برابری کے سطح پر قائم ہوتی اور رہتی ہے۔ایسا نہ ہو کہ ہم چین پر دوستی کی بنیاد پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ کرلیں اور اگر ہم ضرورت زیادہ چین پر انحصار کرنے لگے تو پھر یہ دوستی نہیں رہے گی بلکہ ایک ضرورت مند اور ضرورت کوپورا کرنے والے کے تعلق سے زیادہ کچھ نہیں رہے گااور ضرورت پورا کرنے والا اس کی قیمت بھی طلب کرئے گا۔ رشتے اس وقتی زندگی کو خوبصورت بنانے کاساماں ہے انہی رشتوں کے بدو لت انسانی زندگی پر لطف ہے۔علامہ ڈاکٹر محمداقبال ؒ تو ہمیں بتا
گئے رشتے استوار کرنے کے اصول:
بقول علامہؒ:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
ر زم حق وباطل ہو تو فولاد ہے مومن

تحریر: ذوالفقار علی احسان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*