تازہ ترین

جمہوریت کی حد ود اور انا کی تسکین۔۔

مارشل لا کے نفاذ سے این آر او تک اور خارجہ پالیسی میں افغانستان پر لئے گئے یو ٹرن سے بیرون ملک فرار ہونے تک پرویز مشرف کے بہت سارے اقدامات سے مجھے نفرت کی حدتک اختلاف رہا ہے لیکن اس کے دو کام ایسے ہیں جن کی تعریف کئے بغیر چارا نہیں۔ایک نیشنل ڈیٹا بیس کا قیام اور دوسرا میڈیا کی آزادی۔ یہ دونوں اقدامات درحقیقت قومی وسائل کی لوٹ مار کو روکنے اور روز بیانات بدل کر قوم کو بیوقوف بنانے والے سیاستدانوں کے بیانات کی کلپس دکھا دکھا کے پوری قوم کے سامنے انہیں ننگا کرنے کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئے ہیں۔ ہمارے شہنشاہ مزاج سیاستدان چونکہ اپنے گزشتہ بیانات کی پاسداری کے روادار کبھی بھی نہیں رہے ہیں اس لئے نئی صورتحال انہیں خجالت میں مبتلا کئے رکھتی ہے۔ یہ سب کچھ اُن کے شاہانہ مزاج پر انتہائی گراں گزرتا ہے مگر کیا کریں کہ تاریخ کو واپس پیچھے کی طرف لوٹایا تو نہیں جا سکتا ۔ آگے بڑھنا اس لئے مشکل ہو رہا ہے کہ یہ لوگ اس کے عادی ہی نہیں اور مغل شہزادوں کی طرح پیدل چلنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کسی عدالت کے سامنے پیش ہونا انہیں اپنی حق تلفی لگتی ہے ۔ اپنی آمدنی کے جائز ہونے کا ثبوت فراہم کرنا ان کی انا کے خلاف ہے اور جعلی اکاونٹس کے ذریعے چوری کا مال باہر منتقل کرنا اپنا حق سمجھتے ہیںاور اس کا حساب کتاب مانگنے والے اداروں کے سامنے پیش ہونا اپنی توہین گردانتے ہیں۔یہ بادشاہ لوگ جس فضاء میں پروان چڑھے ہیںاس میں آقاوئوں کے لئے الگ قانون ہے اور محکومین کے لئے الگ ۔ یہی وجہ ہے کہ اس مملکت کے اعلیٰ ترین مناسب پر فائز رہنے والے افراد ہی نہیں اُن کے حواری بھی اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ اس ملک کے جن تھانوں، جن عدالتوں اور جن تحقیقاتی اداروں کے سامنے آئے روز لاکھوں شہری پیشیاں بھگتاتے ہیں، اگر اس طبقہء اشرافیہ کو کبھی کبھار اُن تھانوں، ان عدالتوں اور ان تحقیقیاتی اداروں کے سامنے حاضری دینی پڑے تو ان کا پورا پریوار یوں شور مچاتا ہے جیسے ان کے آباء و اجداد کی وراثت چھن گئی ہو۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم وطنی اعتبار سے 1947ء میں آزادہو گئے تاہم ذہنی طور پر ہم آج بھی برطانوی نوآبادیات کے دور میں جی رہے ہیں۔یہاں کا مراعات یافتہ طبقہ اپنے لئے جن رعایات کو شیر مادر سمجھتا ہے وہ تو رہا ایک طرف ، خود بہت سے نام نہاد پڑھے لکھے لوگ بھی جب ان مجرموں کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں تو میرا یہ یقین پغتہ ہوجاتا ہے کہ ہم اب بھی ذہنی غلام ہیں ۔ میں یہاں پر ایک برطانوی خاتون کی کتاب کا ایک اکتباس آپ سے شیئر کرنا چاہونگا جو میں نے کبھی پڑھا تھا۔ خاتون مصنف اور اس کی کتاب کا نام تو میرے حافضہ میں موجود نہیں تاہم واقعہ ہمارے حالات سے اتنا قریب تر ہے کہ بھلائے نہیں بھولتا ۔ خاتون کا شوہر برطانوی سول سروس میں آفیسر تھا اور کئی برسوں تک برصغیر میں تعینات رہا تھا۔ خاتون نے اپنے ہندوستان میں قیام اور شب و رو ز کو اپنی تحریر کا موضوع بنا یا ہے۔ خاتون لکھتی ہیں کہ اس کا شوہر ہندوستان کے کسی ضلع میں ڈپٹی کمشنر لگا ہوا تھا ۔ اُس وقت اُس کابیٹا محض چار برس کا تھا اور بیٹی ایک سال کی۔ڈپٹی کمشنر صاحب کی رہائش گاہ کئی ایکڑپر محیط تھی اور اس مختصر سے گھرانہ کی خدمت پر سینکڑوں افراد مامور تھے۔ان کے اعزاز میں آئے روز پارٹیاں منعقد ہوتیں۔ضلع کے بڑے رئیس انہیں اپنے ہاں مدعو کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔ آئے روز شکار کے پروگرام بنتے اور صاحب بہادر پورے لاو لشکر کے ساتھ شکار پر نکلتے۔ گویا ہندوستان میں تعینا ت اس ڈپٹی کمشنر کے ٹھاٹھ باٹھ برطانیہ کے شاہی خاندان سے کسی طرح کم نہ تھے۔ ڈی سی صاحب کے خاندان کو کبھی کبھار ریل میں سفر کرنا پڑتا تو اُن کی خاطر ریل کا پورا ایک ڈبہ انتہائی عالی شان طریقے سے آراستہ کیا جاتا اور چار افراد پر مشتمل یہ گورا خاندان اس میں سفر کرتا۔ جب یہ لوگ ٹرین میں سوار ہوتے تو سفید لباس میں ملبوس ٹرین ڈرایئور انتہائی مودبانہ طور پر دست بستہ اُن کے سامنے حاضری بھرتا اور سفر کے آغاز کی اجازت طلب کرتا۔ یوں یہ ٹرین صرف اُسی وقت آگے بڑھتی جب یہ خاندان اسکی اجازت مرحمت فرما دیتا۔ حسب معمول ایک بار بیچارا ڈرایئور جب سفر کے آغاز کی اجازت لینے حاضر ہوا تو اس وقت ڈپٹی کمشنر صاحب کے صاحبزادے کا موڈ خراب تھا۔ اس نے حکم دیاکہ ٹرین نہیں چلانی ۔ ڈرائیور بیچارا چھوٹے صاحب کا حکم بجا لاتے ہوئے موقع سے کھسک گیا۔ خاصی دیر گزرنے کے باوجود جب سفر کی اجازت نہ ملی تو اسٹیشن ماسٹر سمیت سارا عملہ چھوٹے صاحب سے دست بستہ ملتمس ہوا لیکن وہ تب بھی ٹرین چلانے کی اجازت دینے پر تیار نہ ہوا۔ بالآخر بڑی مشکلوں سے خاتون نے اُسے چاکلیٹ کا لالچ دے کر سفر کی اجازت دینے پر آمادہ کیا اور یوں خدا خدا کر کے سفر کا آغاز ہوا۔ چند ماہ بعد یہ خاتون اپنے رشتداروں سے ملنے برطانیہ چلی گئیں۔یہ لوگ بحری جہاز کے ذریعے لندن پہنچے اور اُن کی اگلی منزل ویلز کی ایک کاونٹی تھی جس کے لئے انہیں ٹرین سے سفر کرنا تھا۔ خاتون اپنے بچوں کو ریلوے اسٹیشن کے بنچ پر بٹھا کر ٹکٹ لینے چلی گئیں۔ قطار طویل ہونے کے باعث خاتون کو خاصی دیر ہوگئی ۔ جب وہ واپس اپنے بچوں کے پاس پہنچی تو بیٹے صاحب کا موڈ خاصا خراب تھا۔ خیر
وہ ٹرین میں سوار ہوئے تو عالیشان کمپاونڈ کے بجائے فرسٹ کلاس کی سیٹیں اُن کی منتظر تھیں۔یہ صورتحال دیکھ کربچیکا موڈ اور بھی خراب ہوا۔ عین موقع پر جب وسل کی گھنٹی پر ٹرین نے چلنا شروع کیا تو بچے نے چلانا شروع کر دیا۔وہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ یہ کیسا الو کا پٹھا ڈرایئور ہے جو ہم سے اجازت لئے بغیر ہی اس نے گاڑی چلانے لگا ہے۔ میں پپاسے کہہ کر اس کو جوتے لگواوں گا۔ یہ صورتحال دیکھ کر خاتون دوسرے مسافروں کے سامنے خاصی شرمندہ ہوئیں۔ اس کیلئے اپنے بیٹے کو یہ سمجھانا مشکل ہورہا تھا کہ یہ اُس کے باپ کا مقبوضہ ضلع نہیں بلکہ ایک آذاد ملک ہے ۔ یہاں ڈپٹی کمشنر جیسے تیسرے درجے کے سرکاری ملازم تو کیا خود وزیر اعظم بلکہ بادشاہ تک کو یہ اختیار حاصل نہ تھا کہ اپنی انا کی تسکین کے لئے عوام کو خوار کر سکے۔ کم و بیش سات دہایئوں بعد یہی صورتحال ہمارے ملک کی ہے۔ آج یہاں کے بلاول، یہاں کی بختارو، یہاں کا حسن نواز، حُسین نواز اور مریم نواز اپنے لئے وہی اسٹیٹس چاہتے ہیں جو اس ولایتی ڈپٹی کمشنر کا بیٹا چاہتا تھا۔۔ بلکہ سابق صدر کی بہن فریال تالپور اور سابق وزیر اعظم کا سمدی اسحاق ڈار تک اس استحکاق کے دعویدار ہیں۔ ہمیں ان دیسی نوابوں اور اُن کے ہاشیہ برداروں کے رویوں پر قطعی حیرت نہیں کہ وہ پوری قوم کو اپنی رعایا اور غلاموں سے زیادہ ذلیل سمجھتے ہیں۔ افسوس تو ان نام نہاد پڑھے لکھے جاہلوں پر ہے جو ان قومی وسائل پر عیش کرنے والے نام نہاد شاہزادوں اور شہزادیوں کے ٹھاٹھ باٹھ کے پیچھے کارفرما قومی وسائل کی لوٹ مار اور اس کے نتیجہ میں خود اُن کے پنے بچوں کا حق غصب ہوتا دیکھتے ہیںلیکن اس کے باوجود ان کے جوتے چاٹنا اپنے لئے فخر کا باعث سمجھتے ہیں۔حالانکہ بقول حبیب جالب کے؛
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض۔ پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے

تحریر: اے بشیر خان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*