تازہ ترین

وجود زن اور کامیاب معاشرہ۔۔

مہر و وفا ومحبت کا استعارہ دنیا میں اگر کسی ذات کو سجھتا ہے تو وہ عورت کی ذات ہے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ عورت کے بغیر یہ دنیا ادھوری ہے۔معاشرے کی باگ دوڑ کا کوٸی ستون ہے تو وہ عورت کی ذات ہے۔اس صنف نازک کے بغیر کوئی بھی معاشرہ چاہے وہ ترقی یافتہ ہو یا ترقی پذیر عورت کی اہمیت کو نظر انداز کرنا جہالت کی علامت ہے۔وفا کا نام لیا جائے یا مہربان سمجھا جائے اپنے خصوصیات کی بدولت یہ صنف نازک منفرد مقام رکھتی ہے۔ایک جو ماں بن کر مرد ذات کیلئے مہرومہربان بن کر پرورش کرتا ہے تو دوسری بیوی کی روپ میں جلوہ افروز ہو کر سکون و راحت کا باعث بن جاتا ہے۔اگر ہم اپنی پوری زندگی پر زرا غور کریں تو مرد ذات کو جلدی دل برداشتہ ہوتا دکھائی دینگے اور جب یہ مرد ناامیدی کی گوں نا گوں کفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے تو یہی عورت کھبی ماں کی روپ میں کہی بیٹی و بہن تو کہی بیوی جیسی ہمدرد ساتھی کی روپ میں مرد ذات کیلئے مہربان بن میدان میں اترجاتی ہے۔اگر ہم تاریخ کا مطالعہ کریں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ماضی و حال میں کھبی مرد زن نے اس صنف نازک کو وہ مقام و مرتبہ نہیں دیا ہے جو فطرتاً ان کا حق ہے۔چاہے مغربی معاشرہ ہو یا مشرقی معاشرہ دونوں صورتوں کا بغور مطالعہ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہاں پر ہمیشہ عورت کا استحصال ہوا ہے۔مغرب میں عورت ذات کو ہوس،شہوت اور دولت کے میکدہ کا تخفہ دیا ہوا ہے تو مشرق میں فضول رسم ورواج کی بھینٹ چڑھا کر ہر طرح کی بنیادی و انسانی حقوق سے محروم رکھا ہوا۔یعنی دونوں معاشرے میں عورت ذات کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اس کے شایان شان کے مطابق ہو۔معاشرتی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ معاشرے کے تمام افراد مل جل کر سماج کیلئے کام کریں۔اگر ہم تناسب آبادی کا بغور جائزہ لے تو معلوم ہو جاتا ہے کہ دنیا کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔یہ کیسے ممکن ہے کہ آدھی آبادی کو نظرانداز کر کے سماجی ترقی کیلئے راہ ہموار کیا جائے یہ ناممکن سی بات ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ عورت کو بھی سماجی معمولات میں اتنی ہی اہمیت حاصل ہو جو کہ ایک مرد کو حاصل ہوتا ہے۔کہتے ہے کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کی ترقی و تعمیر کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے میرا سوال ہے کہ اس نوجوان کی پرورش کن کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔وہ کونسی نوجوان ہے جو معاشرتی ترقی کیلئے راہ ہموار بنا سکتی ہے وہ کونسے نوجوان ہے جو بہتر راستے کا انتخاب میں عمل لا سکتا ہے تو یقیناً آپ کا جواب بھی میری طرح ایک کامیاب نوجوان کا ہو گا۔لیکن آپ نے یہ سوچا نہیں ہو گا کہ ایک کامیاب و سماج شناس نوجوان کو کس طرح کی پرورش درکار ہوتی ہے اور وہ کون ہو سکتا ہے جو معاشرے کیلئے ایک باوقار نوجوان دے دے ۔یقیناًایک کامیاب نوجوان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہمہ وقت کے تمام مشکلات و مصائب سے مقابلہ کرنے کی سکت رکھتا ہو وہ ایک سماجی جہد کا امین ہو۔بلند حوصلے کا مالک ہو بہادر سپاہی اور عقل کل معلم کی طرح فکر پابند سماج ہو ۔اور ایک شاگرد کی طرح سماج کا فرمابردار ہو۔حسین اخلاق سے مزین ہو اور تو اور ایک وسیع القلب و وسیع نظر حاکم کی صلاحیت رکھتا ہو۔اگر کوئی مجھ سے پوچھے تو میں اپنے مطالعے کی بنیاد پر یہی کہوں گا کہ ایک نوجوان کی شخصیت کا دارمدوار ایک ماں کی پرورش پر ہے۔کیونکہ کسی بھی نوجوان میں ایسی خوبی کا پیدا ہونا ایک مہربان ماں کے علاوہ کوئی دوسرے کے بس کی بات نہیں ہوتی ہے۔عورت کی شخصیت و مہربانی ایک انسان کو مکمل انسان بنا سکتی ہے۔میرا دعویٰ ہے کہ اگر پرورش و تربیت کا کوئی ادارہ دنیا کی بہترین ادارہ ہے تو وہ ماں کی گود ہے جہاں پر پرورش اولاد کا معاوضہ بھی محبت ہے اور پروش کا سبق بھی پیار و الفت ہے۔تو کیوں نا ہم آج اس ادارے کو مضبوط بنانے کیلئے آگے بڑھتے ہیں تو کیوں نا ہم اس ادارے کے معلم کو ایک سماج شناس اور تعلیم سے بہرہ من معلم بنانے کیلئے تگ و دوکرتے ہیں ۔تو کیوں نا ہم آج اپنے مستقبل کو سنوارنے کی بات کرتے ہیں۔تو کیوں نا ہم آج کے نوجوانوں کو کل کے بہتر مستقبل بنانے کیلئے میکنزم ترتیب دینے کیلئے کام کرتے ہیں۔آئے تو پھر شروع کریں ایک منظم وترقی یافتہ سماج کے شہری بن کر سفر کریں ایک کامیاب و کامران ملک کے باسی کی حیثت سے رہیے۔ایک بہترین سماج کے اندر اپنی زندگی گزاریں۔لیکن ٹھہریں کیسے بنے گا ایسا سماج!! تو جان لیجے ہمیں عورت کو وہ مقام دینی ہو گی جو فطرتاً ان کا بنیادی حق ہے۔ان کو بھی تعلیم دینی ہو گی ان پر دینی و دینوی علوم کے بند دروازے کھولنے ہونگےان کو سماجی معمولات میں آگے لانا ہو گا۔ان کو بھی مشورہ سازی کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنا ہونگے۔ان کی بھی خیالات اور جذبات کی قدر کرنا ہو گی۔اب یہ روش ترک کرنا ہو گی کہ عورت پاوں کے چپل کی برابر ہے۔یہ صرف اور صرف جہالت ہے۔یہ کمزور طبقہ نہیں ہے بلکہ یہ ذات معمولا فہم اور محبت و وفا کی خوبصورت مورت ہوتی ہے جب کہ مرد زن عورت کی مہر و وفا و محبت کی کمزوری کو ان کی صنفی کمزوری سمجھتے ہیں۔یہ ایک خطرناک فعل ہے جو معاشرے کو کمزور و لاغر کر رہا ہے۔ایک شاعر نے عورت کو وجود کے بارے میں کیا خوب کہا ہے
وجود زن سے تصویر کائنات میں رنگ
سچ کہا ہے عورت کے بغیر یہ دنیا جہنم کے ایک گولے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔اگرعورت کی وفاداری نہ ہوتی تو مرد دنیا کا کمزور و تنہا انسان بنے گا۔اسی دعاکے ساتھ رب کریم ہمیں
عورت ذات کی حقیقی مرتبے و منزلت کو سمجھنے اور ان کے بنیادی و انسانی حق کو کھلے دل سے سمجھنے اور خود اور خاندان سے عورت کو حقیقی” مقام عورت“ دینے کی توفیق عطا کریں۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*