تازہ ترین

ضلع نگر میں انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی نااہلی سے 68 کروڑ کا ترقیاتی فنڈز واپس ہوگیا۔

نگر ( بیورو رورپورٹ) اداروں کی نا اہلی یا مجبوریاں68کروڑ کا ضلع نگر کا ترقیاتی منصوبوں کا فنڈ قومی خزانے میں واپس جمع ہو گیا جبکہ دوسری طرف نگر کی پر امن اور سیدھی سادی عوام مسائل کے گرداب میں پستی جارہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق نہایت اہم زرایع کے مطابق قدرتی وسائل سے مالا مال لیکن لنک روڑز ،تعلیم، صحت اور دیگر اداروں کے اعتبار سے پسماندہ ترین ضلع نگر کے لئے منظور کئے گئے 68کروڑ کے منصوبوں پر کسی بھی مرحلے میں کام نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے میں واپس ہو گئے ہیں ۔ ضلع نگر کے ہیڈ کوارٹر میں ضلعی سیٹ اپ کے لئے ما سوائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ہنزہ نگر کے دفتر کے ابھی تک کسی اور دفتر پر کام شروع ہی نہیں کیا گیا ہے ۔ عومی اور حکومتی مشترکہ منصوبہ بندی پر متفق ہو کر ہیڈ کوارٹر ہریسپو داس میں فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ سی آر بی سی کے ترک شدہ ڈربے نما دفاتر کو رنگ روغن پالش کرا کر گرمیوں اور سردیوں کی سخت ترین شدت میں عوام کے مسائل سن کر عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ جب عوامی مسائل میں شدت آجاتی ہے تو ضلعی انتظامیہ کے سربراہان علاقے کے متاثرہ دیہاتوں میں جا کر عوام کو تسلی دلانے کی کوشش کرتی ہے ۔ زیر تعمیر لنک روڑز کے معاوضوں کی نرخیں ہوں یا نرخوں کے رقوم کی دستیابی کے مسائل عوام حل کی طرف رینگتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ باوثوق زرایع کے مطابق محکموں میں ترقیاتی کاموں میں نگر سے بد نیتی اور اداروں کی نااہلی کے سبب 68کروڑ کے منصوبوں پر کام نہیں ہو سکا اور رقم قومی خزانے میں جمع کرادی گئی ہے ۔ ان منصوبوں میں سب سے زیادہ رابطہ سڑکوں اور ان پر میٹلنگ کا کام ہونا تھا لیکن کبھی ٹینڈر تو کبھی کسی انفرادی بندے کی مداخلت اور کبھی سیاسی پارٹیوں کی آپس میں چپقلش اور کبھی کسی اور بات کے بہانے کا زکر کر کے نگر کی پر امن عوام کو ترقی سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*