تازہ ترین

بھارت کا جموں کشمیر کی ریاستی شناخت کو تحفظ فراہم کرنے والی آرٹیکل35A ختم کرنے کی مذموم کوشش، جموں کشمیر اور لداخ میں ہڑتال۔

سری نگر( آن لائن) جموں کشمیر اور لداخ کے عوام نے آرٹیکل 35Aکے حق میں تینوں ریجن کے اہم مقامات پرتاریخی دھرنا دیا اور احتجاجی مظاہرے کئے ،دھرنے میں شامل لوگوں نے بینر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن میں رٹیکل 35Aکو ریاست کی وحدت ،انفرادیت ،اجتماعیت کا ضامن قرار دیا گیا اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے آخری دم تک منصوبوں کو ناکام بنانے کا عہد ظاہر کیا گیا ۔مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے دو روزہ ہڑتال کے پہلے دن تاریخی ریاست میں میں رٹیکل 35Aکے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر تحفظ کو یقینی بنانے کے سلسلے میں احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں تاجروں اور مختلف مکتب ہائے فکر کے افراد نے شرکت کی ۔ اس موقعے پر مقررین نے عدالت عظمیٰ میں رٹیکل 35Aکو منسوخ کرنے کے بارے میں دائر کی گئی رٹ پٹیشن کو ریاست کی وحدت ،انفرادیت اور اجتماعت کیلئے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہلی میں بیٹھے کئی عناصر ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کر کے اسے بھارت کا ایک اٹوٹ انگ بنانے کے جو خواب دیکھ رہے ہیں وہ کبھی پورے نہیں ہو نگے ۔ مقررین نے کہا کہ وقت وقت پر ریاست کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچا یا گیا اور اب رہی سہی کسر رٹیکل 35Aکو منسوخ کرنے کے بعد پوری کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم ایسے کسی بھی منصوبے کو اب کامیاب نہیں دیا جائیگا ۔ مقررین نے کہا کہ ریاست کے لوگوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ سیاست سے بالا تر ہو کر آرٹیکل 35Aکو یقینی بنانے کیلئے ایک ہیں اور کوئی بھی ریاست کے لوگوں کے اس اتحاد کو پارہ پارہ نہیں کر سکتا ہے ۔ مقررین نے کہا کہ آ رٹیکل 35Aکے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھارت کیلئے ایک بھیانک خواب ہو گا اور بھارت کے ساتھ تمام رابطے منقطع ہونگے ۔ مقررین نے کہا کہ ریاست کے لوگوںنے اس عظم کو دہرایا ہے کہ رٹیکل 35Aکے ساتھ تب ہی چھیڑ چھاڑ ہو گی جب ریاست میں رہنے والے لوگوں میں سے کوئی زندہ نہیں ہو گا ۔دھرنے میں شامل لوگوںنے بینر اور پلے کارڈ ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے جن پر رٹیکل 35Aکے تحفظ کو یقینی بنانے کا عہد ظاہر کیا گیا تھا۔ادھر ٹنگمرگ میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے رٹیکل 35Aکے حق میں احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے نئی دہلی کو خبر دار کیا کہ چھیڑ چھاڑ کا سودا انہیں بہت مہنگا پڑیگا اور ریاست کے لوگوں نے مصمم ارادہ کر لیا ہے کہ رٹیکل 35A کے تحفظ کیلئے وہ کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کریںگے ۔
احتجاج کے پہلے ہی دن بھارت کے سپریم کورٹ نے دفعہ35اے کیخلاف دائر عرضی پر سماعت2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی ہے۔ کیس کی اگلی سماعت 27اگست کو ہونے جارہی ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*