تازہ ترین

دیامر روشنی کے نصاب پر حملہ ۔۔۔

ضلع دیامر میں بارہ سکولوں کو جلانا شعور وآگہی سے بلخصوص ضلع دیامر کو محروم کرنے کی مٹھی بھر شرپسندوں کی سازش ہے۔ عوام دیامر نے اس شرپسندی کے خلاف آواز آٹھا کر دہشت گردوں سے نفرت کا اظہار پہلے بھی کیا اور اس ناخوشگوار واقعے کے بعد مزید شدت سے برات کا اعلان کیا۔ عوام دیامر کو ایک سازش کے تحت تعلیم سے دور رکھنے کے لئے مخصوص مٹھی بھر شرپسند کئی عشروں سے سرگرم ہیں۔ مگر افسوس ان منتخب نمائندوں پر بھی ہوتا ہے جنہوں نے دیامر میں تعلیم کا حق سبکو دینے میں کنجوسی کا ہر دور میں مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کبھی بھی تعلیم کے مسلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ مجھے افسوس اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ جب جب ایسی شرپسند کاروائیاں ہوئی حکومت وقت نے ان ناخوشگوار واقعات کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ وقتی طور پر بیانات کا طوفان ضرور آٹھا لیکن عملی اقدامات کے بجائے خاموشی اختیار کی گئی۔سپیشل کمونیکشن آتھارٹی کے تین ملازمین کو آغواء کیا گیا۔ حکومت اور حکومتی آراکین نے صرف جرگے کا سہارا لیا۔ ملازمین کو چھوڑا گیا۔ لیکن بعد میں کوئی کاروائی تک نہیں ہوئی۔ حکومتی ممبران جب ان ملازمین کو بازیاب کروانے کے لئے جرگے کررہے تھے تو اسکا مطلب ہے کہ کوئی تو تھا جس سے ملازمین کی بازیابی کے لئے بات چیت ہورہی تھی۔ کہی نہ کہی ان مٹھی بھر شرپسندوں کا چھوٹا سا مضبوط سا ٹھکانہ ہوگا۔ جہاں پر سیکورٹی اہلکاروں کو جرگے پر جرگے بیٹھا کر جانے کیوں نہیں دیا جارہا ہے۔ شاید حکومتی اراکین کسی بڑے سانحے کے منتظر ہیں۔ خدانخواستہ کوئی بڑا سانحہ ہونے کے بعد ان مٹھی بھر شرپسندوں کے چھتے پر ہاتھ ڈالنے کا کوئی خاص فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔ ڈی۔ایس۔پی عطا اللہ فرام بونجی کو جب شہید کیا گیا تب بھی جرگہ بٹھایا گیا اور جرگے نے چند ملزمان کو لا کر حوالہ کیا۔ اب آگر حکومت آپنی عملداری قائم نہیں کرسکتی ہے تو پورے ضلعے کو جرگہ سسٹم کے حوالے کرے۔ شاید جرگہ دار وقتی طور پر عارضی ہی سہی کچھ نظام بحال رکھ سکیں۔ حکومتی ذمہ داران اور سیکورٹی اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ان واقعات پر سنجیدگی اختیار کریں۔ جرگہ داروں کا سہارا وہاں لیا جاتا ہے جہاں حکومتی عملداری بلکل بھی نہ ہو۔اور اس بات کی کون ضمانت دے سکتا ہےکہ جرگہ داروں کو اصل مطلوب بندے ہی دئے جاتے ہوں۔ ہوسکتا ہے کسی بیگناہ کو حوالے کیاجاتا ہو گا۔میرا معصومانہ سوال یہ بھی ہے ان مٹھی بھر شرپسندوں تک جرگہ داروں کی رسائی آسانی سے کیسے ہوجاتی ہے۔ اور پھر یہ پتھر دل شرپسند ان جرگہ داروں کے کہنے پر آپنے شرپسند ساتھیوں کو بغیر چون وچراء حکومت کے حوالے کیسے کرتے ہیں۔ شاید جرگہ دار آپریشن کی حکومتی دھمکی کا پیغام ان تک پہنچاتے ہونگے۔ اور یہ بھی کہتے ہونگے کہ آپریشن سے پورے علاقے کی بدنامی ہوگی۔ اور آپ مٹھی بھر شرپسند سخت مصیبت کا شکار ہونگے۔ پھر شاید پتھر دل شرپسند خود کو سخت مصیبتوں کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے کسی چرواہے کو یا کسی عام سے بندے پر تمام الزامات لگا کر جرگہ داروں کے حوالے کرتے ہونگے۔ مجھے تو نہیں لگتا کہ کبھی کوئی حقیقی مجرم آپنے مجرم ساتھی کو جرگہ داروں کے حوالے کرتا ہوگا۔مجھے بحثیت فرزند گلگت بلتستان ہر اس واقعے پر افسوس ہوتا رہا ہے جب گلگت بلتستان میں آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی تھی۔بھائی کو بھائی کے ہاتھوں سے مروایا جارہا تھا۔ صدیوں سے ایک ساتھ رہنے والوں کو ایک سازش کے تحت دور کروایا جارہا تھا۔ یہ سازش شاید وقتاً فوقتاً گلگت بلتستان کے لوگوں کو منظم ہوتا دیکھ کر پھر سے بھی ہوسکتی ہے۔ بلخصوص دیامر میں ہونے والے علم دشمن ان واقعات کے بعد میرا دل خون کے آنسو رویا۔ کہ اس مہمان نواز اور علاقہ دوست ضلعے کے لوگوں کی بڑھتی ہوئی شعوری کاوشیوں سے کون سے عناصر پریشان ہیں جو سکولوں پر دھماکے کروا کر پتہ نہیں عوام دیامر و گلگت بلتستان کو کونسا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ میں رویا۔میں ابتک سہی سے سو نہیں پایا۔ یہ سکولوں میں دھماکہ دیامر میں نہیں ہوا۔ میں یہ سمجھا یہ دھماکہ میرے جنم بھومی میرے ضلع استور میں ہوا۔ یہ دھماکہ میرے دل جان سے عزیز گلگت بلتستان کے ہر ہر اس جگہ ہوا۔ جہاں شعور وآگہی کا چراغ جلتا ہے۔ اس مکتب میں دھماکہ ہوا جہاں سے بھائی چاراگی اخوت اور گلگت بلتستان کے محب وطن باسی ہونے کا درس زور شور سے دیا جارہا ہے۔ یہ دھماکہ میرے وجود میرے ذہن ۔میرے گلگت بلتستان کے وقار پر ہوا ہے۔ یہ دھماکہ مولانا سلطان رئیس۔آغا علی رضوی۔ ڈاکٹر زمان و دیگر وطن دوست فرزندوں کی جدوجہد پر ہوا۔ ہم سبکی آرمانوں پر ہوا۔ دیامر کے محب وطن گلگت بلتستان کے باسیوں آپکی یکجہتی اور وطن شرپسندوں سے نفرت پر آپ خراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آپنی صفوں میں اتحاد رکھیں۔اور ایسی کالی بھیڑوں کی نابودی کے لئے منظم ہوجائیں۔ یہ کالی بھیڑیں پورے گلگت بلتستان کے وقار پر بدنما داغ ہیں۔ذمہ دار اداروں سے گزارش ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ان شرپسندوں کے خاتمے کے لئے اقدامات آٹھائیں۔ تاکہ عوام علاقہ اور پورے گلگت بلتستان کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مزید بدنامی نہ ہو۔

تحریر: وزیر نعمان علی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*