تازہ ترین

دیامر میں اسکولوں پر حملے کے واقعے میں اہم مذہبی شخصیت کےمنفی کردار،اور انتظامیہ پر سوالہ اُٹھ گیا۔

چلاس( نمائندہ خصوصی) ضلع دیامر کے مختلف علاقوں میں اسکولوں پر دہشت گردوں کی جانب سے حملے کے بعد اس وقت پورے گلگت بلتستان میں غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ اس واقعے پر ویسے تو سپریم کورٹ نے سو موٹو ایکشن لیتے ہوئے وفاقی اور مقامی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ اسی طرح نگران وزیر اعظم نے بھی اس معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ لیکن گلگت بلتستان کے عوام خاص طور پر دیامر کے یوتھ اس حوالے سے ابھی بھی ناخوش نظر آتا ہے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے کل سے خوب بحث جاری ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے بدقسمتی سے ماضی میں ریاستی ذمہ دار ادارے شرپسند عناصر کی پشت پناہی کرتے رہے ہیں جسکا خمیازہ اب بھگتنا پڑ رہا ہے۔چلاس کے ایک اہم کاروباری اور سیاسی شخصیت نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ دیامر کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ ریاست کو مطلوب اور چلاس اور کوہستان میں ہونے والے واقعات میں نامزد مولوی اس وقت چلاس کے مزکری مسجد میں خطابت فرماتے ہیں ، اُنکا کہنا تھا اس قسم کے مولوی ہمیشہ دیامر کے سادہ لوح عوام کو مذہب کے نام پر بیوقف بناتے ہوئے کھلے عام عوامی اجتماعات میں شرانگیز تقاریر کرتے رہے ہیں اور خاص طور پر لڑکیوں کو تعلیم دینے کے معاملے میں اُس مولوی کا موقف سب کے سامنے ہے لیکن بدقسمتی سے یہاں حکومتی رٹ کا کوئی عنصر نظر نہیں آتا اس وجہ سے دیامر ہمیشہ بدنام ہوتے رہے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ اس سے بڑھ کر بدقسمتی اور کیا ہوسکتا ہے کہ طرف اس قسم کے مولویوں کو کھلی آذادی حاصل ہے دوسری طرف دیامر سپوتوں کو جیل میں ڈلا جارہا ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ ڈاکٹر زمان جیسے پر امن، داعی اتحاد بین المسلمین اور ممتاز سیاسی و سماجی شخصیت کو دہشت گردی کے جھوٹے مقدمات میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلا گیا اور نفرتوں کی پرچار کرنے والا مولوی آج بھی منبر رسول پر قابض ہیں ایسے میں طرح کے اسکول جلانے اور سیاحوں اور بیگناہ مسافروں کے قتل و عام کے واقعات رونما ہوتے رہینگے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*