تازہ ترین

بوکوحرام افریقہ سے دیامر تک۔۔

آخری کئی سالوں سے اسلامی ممالک میں شدت پسندی بڑھتی جارہی ہے اور نت نئی جہادی تنظیمیں وجود میں آرہی ہیں اور مختلف مسائل سے ملکوں کو دوچار کر رہی ہیں۔ القاعدہ، طالبان، ٹی ٹی پی ہو یا پھر داعش وغیره ان سب کا وجود اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ 2002 میں ایک اور دہشتگرد تنظیم افریقہ کے ملک نائیجیریا میں وجود میں آئی جس کا ہدف وہاں کی معصوم بچیاں قرار پائیں۔ اس تنظیم کو محمد یوسف نامی شخص نے تشکیل دیا۔  (وہ  زمین گول ہونے کا بھی انکاری ہے ۔)

اس تنظیم کا نام “بوکو حرام” ہے اور ہوسہ زبان میں اس کا معنی “مغربی طرز تعلیم حرام” ہے۔ اور یہ تعلیم جب لڑکوں کے لیے حرام ہوئی تو بچیوں کے لیے تو زیادہ شد و مد کے ساتھ حرام ہوئی اور  اسی وجہ سے بچیوں کی تعلیم کی مخالفت میں زیادہ شدت آگئی اور پوری توجہ لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت پر مرکوز رہی۔  اس تنظیم کا  نام عربی  زبان میں  “جماعة اهل السنة للدعوة و الجهاد” جبکہ  ہوسہ زبان میں “بوکو حرام”  ہے۔ تنظیم نے پورے ملک میں اسلامی شریعت نافذ کرنے اور جدید طرز کے تمام سکولوں کو بند کرنے کا مطالبہ کیا اور شروع میں القاعدہ سے وابستہ رہی اور 2015 میں ابوبکر البغدادی کی بیعت کی۔

یہ تنظیم نائیجیریا سے پھیل کر نیجر، چاڈ اور کیمرون کے بعض علاقوں تک بھی پہنچ گئی۔ 2009 میں تنظیم کا بانی محمد یوسف مارا گیا اور اس کی جگہ ابوبکر شیخاؤنے سربراہی سنبھالی اور اس کی قیامت میں  دہشتگرد حملوں میں شدت آگئی۔ بوکوحرام وجود میں آنے کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ مختلف پولیس تھانوں اور فوجی بیرکوں پر حملہ کر کے وردیاں اور ہتھیار لوٹنے کے بعد ان کی مدد سے نہ صرف دہشت گرد حملے کیے بلکہ بینک بھی آسانی سے لوٹے گئے ہیں۔

ابوبکر شیخاؤ کی قیادت میں بوکوحرام نے بم دھماکوں اور اغوا کی وارداتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔ اس دوران کئی غیر ملکی سیاح بھی اغوا کیے گئے۔ اپریل2014 میں نائجیریا کے ایک گرلز سکول سے تین سو طالبات کو اغوا کیا جبکہ 12 سے پندرہ سال کی 11 بچیوں کو دوسرے علاقوں سے ۔ اور بعد میں اس بارے میں شیخاؤ نے ایک ویڈیو پیغام میں اس جرم کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ ان بچیوں کو کنیزوں کی شکل میں بیچا جائے گا یا زبردستی ان سے شادی کی جائے گی اور یہ بھی کہا کہ ان میں سے ایک نو سالہ اور دوسری 12 سال کی بچی سے وہ خود شادی کرے گا۔ اپنی اس حرکت کے لیے اس نے جو جواز پیش کیا، اس میں کہا کہ یہ لڑکیا ں اللہ کی ملکیت تھیں، مجھے اللہ نے حکم دیااور میں نے اللہ کی ملکیت (ان لڑکیوں) کو فروخت کر دیا۔ بعض ذرایع کے مطابق ان بچیوں میں سے بعض ، ہمسایہ ممالک میں 12 ڈالر کی قیمت پر بیچی گئیں

انگلینڈ کے اس وقت کے وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ صرف نائیجریا کا نہیں بلکہ مسلمان شدت پسند اس مسئلے کو پوری دنیا میں پھیلائیں گے کیونکہ وہ تعلیم اور ترقی کے مخالف ہیں لہذا دنیا کے ہر گوشے میں ایک محاز کا سامنا ہوگا۔ نایجیریا اور بعض افریقی ممالک اب تک کئی سالوں سے اس فکر کے ساتھ نبرد آزما ہیں اور قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کی جارہی ہیں۔ لیکن کل کی رات بوکو حرام کی فکر اور نظریہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر تک پہنچ گیا اور وہاں پر بھی حضرت حوا کی بیٹیوں کو تعلیم سے روکنے کی کوشش کی گئی اور 13 مختلف سکولوں کو نذر آتش کیا گیا، اور یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ سلسلہ آگے بڑھے گا اور اگر روک تھام نہ ہوئی تو اگلے مرحلے میں بوکو حرام والوں کی طرف بے گناہ بچیوں کو اغوا بھی کیا جاسکتا ہے۔

یہ فکر 2002 کو افریقہ میں جنم لیتی ہے اور 16 سال کے بعد پاکستان کا دور افتادہ علاقہ ضلع دیامر تک پہنچ جاتی ہے تو ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ یہ فکر ایکدم سے کیسے یہاں تک پہنچی اور 16 سال کا سفر مختصر عرصے میں کیسے طے کیا وہ بھی دنیا کے ایک طرف سے دوسری طرف۔ حکمرانوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ یہ فکر یہاں پر کیسے جنم لیتی ہے۔لیکن آخری چند سالوں میں گلگت بلتستان میں ہونے والے واقعات اور سانحات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سانحہ ایکدم اور اچانک سے نہیں ہوا ہے بلکہ بوکو حرام کی طرح مختلف مرحلوں میں پلان تیار کیا گیا ہے اور قدم بہ قدم اس مرحلے تک پہنچے ہیں۔

سانحہ چلاس اور سانحہ بابوسر یا سانحہ کوہستان اس سلسلے کی کڑیاں تھیں جس میں بےگناہ مسافروں کو گاڑیوں سے اتار اتار کر صرف ایک مسلک کے ہونے کو جرم سمجھ کر ذبح کیا گیا اور گلگت بلتستان کی عوام بھی جلدی سے مذہبی رنگ میں آکر شیعہ سنی الگ الگ ہوگئے اور دونوں مسلک کے ذمہ داروں نے اس سانحے کو مذہبی رنگ دیا اور شیعوں کی کوشش رہی کہ ان سانحات کے پس پردہ محرکات کو منظر پر لایا جائے اور شیعوں کے خون کا دفاع کیا جائے کیونکہ وہ سنی ہیں۔ جبکہ اہل سنت  برادری نے اس کو اہل سنت کے خلاف ایک سازش سمجھا اور  ذمہ دار افراد نے کوشش کی کہ کوئی شخص اس جرم میں پکڑا نہ جائے اور سزا نہ ہوجائے کیونکہ وہ سنی ہیں۔ یوں دن دھاڑے ذبح ہونے والے افراد کی شناخت نہ کی گئی اور یہاں تک کہ قرآن میں گواہی چھپانا حرام قرار دیا ہے لیکن مسلمانوں نے یہاں پر گواہی کو عبادت سمجھ کر یا جان کے خوف سے چھپا لیا اور ان سانحات میں مرتکب کسی ایک دہشتگرد کی نشاندہی نہیں کی تو ہوا یوں کہ دہشتگرد تو رفو چکر ہوگئے لیکن بدنام چلاس کی عوام ہوئی اور لوگوں کی نظر میں ضلع دیامر کے لوگوں کو شدت پسند اور دہشتگرد قرار دیا گیا۔ اور شیعوں نے بھی باور کیا یہ سب چلاسیوں کا کام تھا اور چلاسیوں میں سے بھی بہت سارے سادہ لوگوں نے باور کیا کہ جو بھی اس جرم کا مرتکب ہوا ہے اور جو عمل انجام دیا ہے مذہب اور عقیدے کے مطابق کیا ہے تو یوں ہماری اس غلط فہمی کی وجہ سے ہمارے طرز تفکر کی غلطی کی وجہ سے یامذہب اور اسلام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہم آپس میں دور اور دست بہ گریبان ہوئے اور دہشتگرد آزاد رہے۔

اسی طرح  ننگا پربت پر سیاحوں پر جو حملہ ہوا اس میں بھی علاقے کو بدنام کیا گیا اور بعض سادہ لوح عوام بھی اس کو باور کر گئی کہ یہ اسلام کے مطابق ہے اس میں بھی دہشتگرد آزاد رہا اور عوام پریشان ہوئی۔ یا ایک مظلوم بچے کو اغوا کیا گیا اور جنسی زیادتی ہوگئی اور میڈیا میں جنات کو بدنام کیا گیا اور گالیاں جنوں کو پڑیں اور گناہ کا مرتکب حضرت آدم کی اولاد ہوئی۔ اس طرح کی بہت ساری مثالوں پر آپ غور کر سکتے ہیں کہ یہ محض ایک حادثہ یا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے ذریعے سے علاقے کی عوام کا طرز تفکر اور تعقل کو جانچ لیا  گیا اور ہماری اسی سوچ کے مطابق آج   ہمارے تعلیمی اداروں کو نذر آتش کیا اور ہمارے مستقبل کی معماروں کو ٹارگٹ کیا گیا۔ اس بات سے شاید کوئی انکاری نہ ہو کہ تعلیمی اداروں میں بھی اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن اصلاح کے لیے قرآن مجید کے مطابق “جادلھم بالتی ھی احسن” کے تحت امر بالمعروف اور نہی از منکر کے پیرائے میں اقدام کرنا ہوگا۔ سکول جلانا راہ حل نہیں۔

البتہ یہ ان حکمرانوں کے لیے یہ خطرے کی گھنٹی ہے  کہ جو بڑے دعوں کے ساتھ کہتے تھے کہ ہم نے صوبے سے فسادات کو ختم کیا ہے لیکن یہ لاوا تو اندر اندر سے پک رہا تھا اور آج اس خوفناک اور ڈراونے شکل میں آشکار ہوا ہے۔ اور کل کو اس سے بھی خطرناک ثابت ہوگا۔ اور بعید نہیں ہے کہ بوکو حرام کے طرز تفکر پر عمل کرتے ہوئے ہماری بہنیں اور بچیاں سکولوں سے اغوا ہوجائیں۔ لہذا ان عوامل کو سخت سے سخت سزا دے کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور اصلی محرکات تک پہنچنے کی کوشش کی جائے تاکہ آیندہ سے آدم کی اولاد ایک دوسرے کے دست بہ گربیاں ہونے کے بجائے اصلی مجرموں کو پہچان سکیں۔ مشہور محاورہ ہے کہ کہیں پر پانی پہنچنے کے بعد اسے روکنا یا تو ناممکن ہے یا بہت ہی مشکل ہے لیکن پانی پہنچنے سے پہلے بند باندھے تو اس کو روکنا آسان ہے۔ جی بی کی  حکومت سے درخواست سے کہ یہ تحریک،  پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کے دوسرے علاقوں تک پہنچنے سے پہلے اس کے ناپاک نطفے کو ضلع دیامر میں ہی نابود کرے ورنہ آگے کام بہت مشکل ہوگا۔

تحریر: مشتاق حکیمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*