تازہ ترین

پیغام بنام نوجوانان!!!

اے میرے قوم کے نوجوانو!!!
آپ میرے قوم کے مستقبل کا معمار ہے۔آپ ہی وہ لوگ ہونگے جو کل معاشرے کی باگ دوڑ سنبھالنے والے ہونگے۔یقین جانیے قوم کی ساری امیدوں کا مرکز آپ نوجوانوں کی راہ میں سرگرداں ہے۔اے میرے قوم کے نوجوانو کیا آپ نہیں چاہو گے کہ آپ کے قوم عظیم مرتبت والی قوم کی صف میں شامل ہو۔یقیناً آپ سب بھی یہی چاہتا ہو گا کہ قوم عظیم سے عظیم تر بنے۔میرا ماننا ہے کہ کوٸی بھی قوم اس وقت تک ترقی کے منازل حاصل نہیں کر سکتا جب تک قوم کے نوجوانوں کی سوچ کا مرکز و محور قومی و سماجی بہتری کی طرف نہ ہو۔علامہ اقبال نے آپ کو شاہین و عقابی روح جیسی مثالوں سے تعبیر دیا ہے۔
کیا آپ عقابی روح اور شاہین کی خصلتوں سے بے خبر ہے؟۔نہیں! یہ نہیں ہو سکتا کہ میری قوم کے نوجوان اپنے ذمہ داریوں سے بےخبر ہو۔ہاں مگر یہ ضرور ہو سکتا ہے کہ میرے قوم کے نوجوان اس معمولے کو لے کر اگر اور مگر کی کفیت میں جکڑا ہو۔لیکن میں آپکو بتا دوں یہ اگر اور مگر کی جو کفیت ہے نا وہی اصل میں قوم کی بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔تو کیوں نا اے نوجوانو!! ہم اس اگراور مگر کی کفیت کو ہمیشہ کیلئے دفن کر کے شاہین جیسی خصلتوں کا ضامن بن جائیںاور قوم کیلئے وہ کردار ادا کریں جو قوم کے ہمارے اوپر قرض ہے۔ مجھ سےاکثر لوگ جب معاشرے کے متعلق مایوس کن سوالات کرتے ہیں تو میری جواب میں ایک امید کی کرن اس وقت پھوٹ جاتی ہے جب میں قوم کے نوجوانوں کو قوم کے مرکز کی حیثیت دے کر سوچ و بچار کرنا شروع کرتا ہوں میں ان مایوسیوں کو اس وقت دفن کرتا ہوں جب میری امید نوجوانوں سے جڑ جاتا ہے۔
اے قوم کے نوجوانو !!اپنی نظروں کو معاشرتی امور کے حوالے سے اس شاہین کی طرح رکھنا جو بلندی پرواز کے دوران بھی دوری سے اپنے شکار کو ہمت وعزم کے ساتھ ڈھیر کرتے ہیں۔اقبال کی امیدوں کا مرکز ہو یا قائد کا وژن۔ان کی اس سوچ کوعملی جامہ پہنانے کیلئے نوجوانوں کی ضرورت پیاسے کو پانی اور انسان کو ہوا کی ضرورت جیسی ہوتی ہے۔اے قوم کے نوجوانو !!!اپنی سوچ کو اتنا ارفعا بناو کہ تمہاری قوم ایک عظیم وارفعا قوم بن سکے۔اپنے آپ کو ایک ایسے تربیت گاہ کی سمت میں لے جاو جہاں کامیابی آپ کے انتظار میں ہو۔اپنے آپ کو پہچان لو آپ اس شے کےمانند بنو جس کی قیمت کا سودا کرنا کسی کیلئے ممکن نہ ہو بس اس کےلئےشرط ہے صفات اقبال کے شاہین کی طرح ہو۔میں ان تمام سماجی و معاشرتی ناہمواریوں جو بحثیت قوم ہمیں درپیش ہے کی قضا بجالانے کی حکمت کا کسی کو موزوں سمجھتا ہوں تو وہ صرف اور صرف قوم کے نوجوانوں کو سمجھتا ہوں۔
اسی دعا کے ساتھ۔
خدا کرے تیرا کسی طوفان سے آشناہو جو تیرے بحر و بر کے موجوں میں اس طرح اضطراب کا ضامن بنے جو ایک خود دار قوم کی تشکیل کا موجب بن سکے۔

تحریر : ذوالفقار علی کھرمنگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*