تازہ ترین

جدوجہد کی راہ میں نوجوانوں اور قومی تنظیموں کا کردار.

قومی جدوجہد میں نوجوانوں کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے. قوم کے باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان اپنے حقوق و فرائض کی ادائیگی اپنا اولین فریضہ سمجھ کر ادا کریں تو وہ قوم ترقی کے منازل طے کرتی ہوئی ایک باوقار قوم بن کر ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کٹھری ہوتی ہے. ایک انسان کا کسی دوسرے انسان پر , سماج اور قوم پر کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں. اگر زندگی کو حقوق سے محروم کر دیا جائے تو اس کی قدریں پامال ہو جاتی ہیں اور زندگی ایک بےبس اور محکوم شے بن کر رہ جاتی ہے. ایک دوسرے کے حقوق کا احترام، لحاظ سے امن، محبت،اخوت اور مساوات پر مبنی معاشرہ قائم ہو جاتا ہے. ایک انسان پر اسکی زندگی میں کئی حقوق واجب الادا ہوتے ہیں جس میں تین قسم کے حقوق نمایاں اور اہم ہیں اول اپنی ذات کے حقوق دوئم سماج کے حقوق اور سوئم خالق کائنات کے حقوق. ان سب کی تفصیل ممکن نہیں ہے اسلیے صرف سماجی حقوق کی ایک شاخ پہ بات سمٹنے کی کوشش کرنگا. سماجی حقوق کی بھی کئی اقسام ہیں جن میں قوم کے حقوق وطن کے حقوق، حکومت کے حقوق، ریاست کے حقوق، رشتہ داروں کے حقوق، دوستوں کے حقوق، خاندان کے حقوق اور ہمسائیوں کے حقوق سرفہرست ہیں. سماجی حقوق کی اقسام میں سے قومی حقوق کی ادائیگی سب سے مقدم اور معتبر سمجھا جاتا ہے کیونکہ ایک انسان کی انفرادی زندگی قوم کی اجتماعی زندگی کی آغوش میں پلتی ہے معاشرتی تربیت انسانی زندگی میں گہرے اثرات مرتب کرتی ہے. جب تک اجتماعی طور پر قومی زندگی بہتر اور باوقار نہ ہو تو ایسے معاشرے میں انفرادی زندگی باوقار اور باعزت طریقے سے نہیں گزارا جاسکتا ہے. قوم افراد کی کوشش محنت اور مثبت تعلیم تربیت سے سربلند ہوتی ہے. اپنی قوم کو دوسری اقوام کے برابر معزز مقام دلانے کے لیے جدوجہد کرنا قوم کے ہر باشعور اور باضمیر نوجوان کی اولین ذمہ داری ہے. قوم کو معزز مقام اسی وقت دلایا جاسکتا ہے جب ہم اپنی مفادات کو قومی مفادات پر قربان کریں اور قومی وحدت، قومی تشخص، قومی سلامتی اور قومی نفع و نقصان کو ہر چیز سے مقدم رکھیں. اس وقت ہماری دھرتی اور ہماری قوم سنگین مسائل اور خطرات میں پھنسی ہوئی ہے. قومی وحدت، استحکام، قومی تشخص، شناخت اور بقا سمیت قوم اور دھرتی کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے. ہمارے قومی وسائل پر ہمارا اپنا اختیار نہیں ہے. عالمی سامراج کی نظریں ہماری دھرتی پر لگی ہوئی ہے. اغیار ہماری دھرتی کے ملکیت کے دعویدار ہیں. ایسے خطرناک حالات میں ہم شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپا لیں، تلخ قانونی حقیقتوں سے نظریں چھرا کر بچگانہ تسلیوں اور خوش فہمیوں کے سہارے رہزنوں کو اپنا رہبر اور نجات دہندہ سمجھ کر تایخ اور عالمی قوانین سے نظریں چراکر یا بے معنی سمجھ کر طفلانہ مطالبات اور صوبہ کا راگ الاپتے رہیں تو ہمارا مستقبل نہایت بھیانک ہوگا. آج جن مسائل سے ہم دوچار ہیں وہ تقسیم ہند کے وقت سامراجی طاقتوں اور ان کے آلہ کار مہروں کی strategy کا نتیجہ ہے. اس strategy کے تحت ہمیں بظاہر آزاد اور قانونی طور پر ان کے چیلے اور مہروں کے غلام ہی رکھا گیا ہے. ہماری غلامی کو طول دینے کےلیے مذہبی منافرت کو خوب پیروان چڑاکر ہمارے خطے اور قوم کو دہشت ذدہ بنا دیا. اس بات کی وضاحت کرتا چلوں کہ دہشت گردی سے مراد صرف بم دھماکوں کے ذریعہ بےگناوں کے قتل عام ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کی کئی اور اقسام بھی ہیں. سیاسی دہشت گردی، مذہبی دہشت گردی، تعلمی اور علمی دہشت گردی، ثقافتی دہشت گردی، معاشی دہشت گردی اور فحاشی دہشت گردی وغیرہ شامل ہیں. اس وقت دہشت گردی کی ان تمام اقسام کے چنگل میں ہماری قوم چاروں اطرف سے پھنسی ہوئی ہے. سامراجی قوتیں ایک منظم منصوبہ بندی سے ہماری شناخت، تشخص، قومی اقدار، روایات، تہذیب وتمدن اور پاکیزہ ثقافت کو ختم کر کے ہماری دھرتی پر قبضہ جمانے کی تیاریاں کر رہی ہیں. عالمی سامراج نے جنگ کا دائرہ کار ہماری طرف بڑھا دیا ہے. اس لیے قومی اور بین الاقوامی حالات کے پیش نظر ہمیں اپنی ڈیفنس مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے. ایک تعلیم یافتہ باشعور نوجوان ہی قوم کئ ڈیفنس لائن مضبوط کر سکتا ہے. نہ صرف قوم کا کھویا ہوا مقام واپس دلا سکتا ہے بلکہ آئندہ نسلوں کی مستقبل کی تحفظ کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑتا ہے. اپنی ثقافت اور قومی قیمتی اقدار کو کو بچانے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے. اپنی دھرتی اور قومی شناخت، کلچر تہذیب اور تمدن کی تباہی و بربادی روکنے کے لئے ہمیں آپس میں مل جل کر جدوجہد کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہمیں اور ہماری دھرتی کو بچانے کوئی باہر سے نہیں آئے گا بلکہ ہمیں خود محافظ بنا پڑے گا. تبدیلی باہر سے نہیں اندر سے آتی ہے. ہمیں اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے. ہمیں اپنے اعمال اور نیتوں میں شفافیت پیدا کرنے کی ضرورت ہے . نیک نیتی اور حب الوطنی کے جذبہ کے ساتھ میدان عمل میں اتر کر ایک دوسروں کے دست بازوں بنتے ہوئے قومی جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت ہے. ان مقاصد کے لیے اپنی اپنی تنظیموں، تحریکوں اور مختلف پلیٹ فارموں مزید فعال کرنے اور علمی و شعوری سرگرمیوں کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہے. تنظیم کے قیام کا بنیادی مقصد قوم کو حقائق اور حالات سے آگاہ کرتے ہوے ایک پلیٹ فارم پر یکجا کر کے بہترین مستقبل کی طرف گامزن کرنا مقصود ہوتا ہے. ہر قسم کی تنظیم چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی یا علاقائی ہو یا قومی ہو، کے مخصوص نظریات ہوتے ہیں ان نظریات کو اساس بناتے ہوے تنظیم جدوجہد کرتی ہے. جس تنظیم کے اساسی نظریات اس قوم کے ماضی، حال مستقبل اور قومی مسائل اور ان کے حل کا مکمل احاطہ کریں تو ایسی تنظیم سے منسلک افراد ہمیشہ نظریاتی اور حقائق پر مبنی اصولوں کے تحت جدوجہد کو ترجیح دیتے ہیں اور جس تنظیم کے اساسی نظریات ناقص ہو یعنی قوم کے ماضی حال مستقبل اور قومی مسائل کا جامع حل اور جملہ حقوق کی ترجمانی نہ کریں تو ایسی تنظیموں کے ورکرز ہمیشہ یا اکثروبیشتر تنظیمی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر ہجومی طرز میں جدوجہد کرنے کی بے مروت باتیں کرتے نظر آتے ہیں. درحقیقت ایسے لوگ محض ذاتی تشہیر اور اپنی خطابت کا شوق پورا کرنے کے لیے لوگوں کا اجتماع ڈونڈتے ہیں. قومی سیاسی جدوجہد میں تیزی لانے کے لیے ایک پلیٹ فام دوسرے پلیٹ فارم کی ایک تنظیم دوسری تنظیم کی اور ایک سوشل ایکٹیوسٹ دوسرے سوشل ایکٹیوسٹ کی ٹانگیں نہ کھنچیں، ایک دوسرے پہ بے بنیاد الزامات نہ لگائے اور ایک دوسروں کی راہ میں بلا وجہ رکاوٹیں پیدا نہ کریں بلکہ اچھے اقدامات کو سراہتے ہوئے حوصلہ افزائی کریں. نظریاتی اختلافات کی وجہ سے یا محض کام کے طریقہ کار کے اختلاف کی وجہ سے ایک ہی ملک کے اندر سیاسی تنظیمیں، ایک ہی مسلک کی مختلف تنظیمیں اور ایک ہی قوم کے اندر مختلف قومی تنظیمیں بنتی ہیں جن کا بنیادی مقصد اور نعرہ قوم کو متحد کرنا ہوتا ہے. محض نظریاتی یا کام کے طریقہ کار کے اختلاف کی وجہ سے اپنی تنظیمی دائرے سے باہر دیگر تنظیموں اور اشخاص کو دشمن، ایجنٹ یا غدار سمجھا یا پکارا جائے تو یہی تنظیمیں جو قوم کو متحد کرنے کے لیے بنایا تھا سب سے پہلے قوم کا شیرازہ بکھرنے اور دشمن کا ہتھیار ثابت ہوتی ہیں. پھر یہی تنظیمی افراد جو باطل اور سامراج سے لڑنے نکلے تھے وہ آپس میں لڑتے ہیں اور دشمن سکون سے تماشا دیکھتا ہے اور اپنی سامراجیت مزید مضبوط کرنے کی کوشش کرتا ہے . اس وقت ہمیں اپنی قومی زندگی میں جو درپیش مسائل ہیں ان سے نمٹنے کےلیے وحدت اور ایک دوسروں کا سہارا بننا اشد ضرورت ہے. قومی حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں ہمارے بھائی سزائے کاٹ رہے ہیں، کچھ جیلوں میں ہیں کچھ عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں اور کچھ شیڈول فور میں ہیں. اپنے ان تمام دوستوں اور بھائیوں کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے اور حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے جو دھرتی ماں کے حقوق کے لیے ان حالات سے گزر رہے ہیں. لیکن بدقسمتی سے ہمارے بعض پڑھے لکھے نوجوانوں میں یقین کی بجائے شک، حوصلے کی بجائے ہراس، اتحاد کی بجائے تفرقہ، دیانت کی بجائے بد نیتی، وفا کی بجائے بےوفا، سپوٹ کی بجائے، ٹانگیں کھنچنا، اصلاح اور درستگی کی بجائے بے جا تنقید اور خرابیاں پیدا کرنے اور اپنی ذاتی ناپسندیگی کی وجہ سے ایک دوسروں پگڑیاں اچھالنے میں مصروف ہیں. جو نہایت غلط اور غیر ذمہ دار رویہ ہے. یاد رہے اختلافات کے بھی آداب ہوتے ہیں. ہمیں موجودہ صورتحال اور قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زبان اور قلم کا استعمال کرنا چاہئے. گھر بیٹھ کر سوشل میڈیا پر کسی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے بہتر ہے خود کچھ بہترین عمل کر کے دیکھائیں. بالاورستان نیشنل اسٹوڈنس آرگنائزیشن ایک نظریاتی قوم پرست تنظیم ہے جس کا نظریہ پورے خطہ پر محیط ہے اور بالاور قوم کی نمائندگی کرتی ہے. ہماری تنظیم نظریاتی اور عملی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے. تنظیم، آرٹیکل 5 (o) کے مطابق ایسی تمام طلبا تنظیموں، تحریکوں اور افراد کی سیاسی و اخلاقی حمایت کرتی ہے جو قومی جمہوری، انسانی بنیادی حقوق اور خودمختاری کے لیے جدوجہد کریں. اور آرٹیکل 5(k) کے مطابق آگنائزیشن نوآبادیاتی، استحصالی نظام، قوانین اور فیصلوں کے خلاف ہے جس سے خطہ کے قدرتی ماحول اور قوم پر منفی اثرات مرتب ہو یا قومی مفادات کو نقصان پہنچے ایے قوانین، فیصلوں اور نظام کو یکسر مسترد کرتی ہے. BNSO سندہ زون کے شیڈول فور کے خلاف حالیہ احتجاج کے خلاف مخصوص لڑکوں کا ٹولہ منفی پروپکنڈہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں. میں ان تمام نوجوانوں سے گزارش کرتا ہوں جو احتجاج میں شریک نہ تھے وہ پریس ریلیز، پلے کارڑز اور تقاریر کی ویڈیوز ضرور دیکھیں. اگر کوئی کراچی جیسی مصروف ترین شہر میں قومی کاز کے لیے اپنے دم پر کوئی احتجاج یا کوئی اور ایونٹ منعقد کریں تو سب سے پہلے حمایت اور حوصلہ افزائی میں کرونگا.

تحریر: محمد تقی ایڈوکیٹ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*