تازہ ترین

ضلع کھرمنگ منٹھوکھا ندی کا خراب پانی ،سوشل میڈیا اور فتویٰ برگیڈ۔۔

محترم قارئین کہتے ہیں قطبین کے بعد پانی کا سب سے بڑا ذخیرہ گلیشئرز کی شکل میں گلگت بلتستان میں موجود ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر دنیاکے اندر مستقبل میں عالمی جنگ چھیڑ جائے تو پانی کیلئے ہوگا۔ اس سے ہم پانی کی قدرقیمت اور اہمیت کا اندازہ لگاسکتے ہیں۔ مگر افسوس ہمارا معاشرہ اس حوالے سے بلکل ہی غیرذمہ دار اورلاشعور نظر آتا ہے۔ گزشتہ دنوں گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر انوائرمنٹل پرو ٹکش نے بھی خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان کی فضاء ماحولیاتی آلودگی کی جانب بڑھ رہی ہے، گلگت بلتستان کے شہری علاقوں کا موسم سرما میں ہوا زہریلی مرکبات 30مائکرو گرام فی کیوبک میٹر ہوتاہے جو بین الاقوامی معیار 15مائکروگرام فی کیوبک میٹرسے بہت زیادہ ہے گاڑیوں کی فٹنس کے مسائل دھواں ،گرد ،کاربن ڈائی آکسائیڈ ،کاربن مانو آکسائیڈ اور نائٹرو جن آکسائیڈ جیسی زہریلی گیسیں ماحولیاتی آلودگی کا سبب بن رہی ہے ۔ اسی طرح چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پانی کی اہمیت اور گلگت بلتستان کے پانی کو بروئے کار لانے کیلئے وسائل استعمال کرنے کا حکم دیا۔ کاش چیف جسٹس صاحب کو معلوم ہوجائے کہ اس وقت خود گلگت بلتستان والے پانی کے مسائل سے دوچار ہیں سکردو جیسے شہر کو چاروں طرف سے ندیوں اور دریا نے گھیرا ہوا ہے مگر یہاں اکثر اوقات کربلا کر منظر پیش کررہا ہوتا ہے۔ محترم قارئین تمہید کی طوالت میری مجبوری ہے جس کیلئے معذرت خواہ ہوں اور موضوع کی طرف چلتے ہوئے ضلع کھرمنگ منٹھوکھا کے سیاحتی مقام کے عقب میں واقع منٹھوکھا ندی کی بات کروں گا جہاں سے تین گاوں کیلئے پینے کا پانی سپلائی کیا جارہا ہے۔ اس پانی کی خاص خوبی یہ ہے جسے فو چھو(مذکر پانی) کہتے ہیں ہیں جبکہ اکثر ندیوں کے پانی موچھو (مونث پانی) ہوتے ہیں۔ ماضی میں اس ندی کے پانی کو ڈاکٹروں نے بہت سی بیماریوں کیلئے علاج قرار دیا تھا اور لوگ دور دراز سے اس ندی کا پانی لینے آیا کرتے تھے جبکہ آج لوگ یہاں سیاحت کیلئے بھی پانی اپنے گھر سے لیکر آنے کی اطلاع ہے۔ علاقے کے عوام کے مطابق آبشار پر موجود دو ہوٹلز اور ان ہوٹلوں میں مناسب سیورج کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے منٹھوکھا ندی کا پانی ہر گزرتے دن کے ساتھ مضر صحت بنتی جارہی ہے جس کا کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اہل علاقہ کی طرف سے اس اہم ایشو پر کئی بار توجہ مبذول کرانے کے باوجود حکومت اور ہوٹلز کے ملکان نے اس مسلے کی حل کیلئے مناسب اقدام اُٹھانا مناسب نہیں سمجھا بلکہ اُنکا کہنا ہے کہ یہاں ایسا کوئی مسلہ ہے ہی نہیں یہ سب باتیں محض ایک پروپگنڈہ ہے۔ محترم قارئین المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں مسلم لیگ نون کی حکومت ترقی اور تعمیر کے دعوے اخبارات میں خوب کرتے ہیں لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو سوریج کا نظام گلگت بلتستان میں آج بھی موجود نہیں لوگ دیسی طریقے سے زمین میں کھڈے کھود کر اُس میں پتھر بھر کر گٹر لائن وہاں چھوڑ دیتے ہیں۔ یوں یہ دیسی طریقہ گھروں کی حد تو چند سال کیلئے ٹھیک ہوسکتا ہے لیکن سیاحتی مقام پر وہ بھی ندی کے عقب میں کارفرما ثابت نہیں ہوسکتے ۔ کل راقم سے اس حوالے سے فیس بُک لائیو پر علاقے کے بہت سے ذمہ داران اور سوشل ایکٹوسٹ سے وجہ جاننے کی کوشش کی تو ایک طرف مثبت مشورے دئے گئے دوسری طرف روائتی مفاد پرست ٹولے کو اس قسم کے ایشوز پر بات کرنا سازش نظر آنا شروع ہوگیا اور سوشل میڈیا پر اپنے مہروں کے ذریعے کردار کشی شروع کردی  جسکا راقم نے نہ پہلے بھی پرواہ کیا ہے اور نہ آئندہ انشاللہ اس قسم نے ہتکنڈوں سے ہمیں بولنے لکھنے سے روکا جاسکتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہم جب بھی پورے گلگت بلتستان سے ہٹ کر صرف اپنے علاقے کے مسائل پر کچھ لکھنے کی کوشش کریں تو فیک آئی ڈی برگیڈ کو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور اُن کے اندر اتنی اخلاقی جرات نہیں ہوتے کہ کبھی خود سامنے آکر دلیل کے ساتھ مکالمہ کریں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا ، دورہ بلتستان کے موقع پر تین گاوں کے کئی اہم ذمہ داران نے شکوہ کیا کہ آپ لوگ دنیا کے ایشوز پر بات کرتے ہیں لیکن اپنے گھر کے مسائل سے نابلد نظر آتا ہے سب کا یہی کہنا تھا کہ آبشار پر مناسب سیورج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے پانی ابھی سے زہر آلود ہوگیا ہے لوگوںکو عجیب قسم کی بیماریاں لاحق ہوتی جارہی ہے چیک کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ وجہ خراب پانی کا استعمال ہے ۔ اس حوالے سے علاقے کے لوگوں کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر بہت سے خطیبوں نے منبر سے احتجاج کیا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔لیکن اس قسم کے ایشوز پر لکھنے بولنے والوں کو علاقے کا جی حضور برگیڈ آج بھی شخصیات دشمنی کا الزام لگاکر خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں ۔یعنی ہمارے معاشرے میں ایشوز پر بات کرنا شخصیات کی توہین سمجھتے ہیں جو کہ لاشعور معاشرے کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ضمن میں ہم نے میڈیا کے ذریعے ضلعی انتظامیہ کا توجہ بھی مبذول کرانے کی کوشش کی کیونکہ یہ بلدیاتی نظام کا حصہ ہے اور ضلع کھرمنگ میں بلدیاتی نظام کا وجود ہی نہیں اورڈپٹی کمشنر براہ راست اس قسم کے معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔ سوریج کے حوالے سے عوامی رائے ایک طرف دوسری طرف آبشار ہوٹلز انتظامیہ بلکل الگ موقف رکھتے ہیں اُنکا کہنا ہے کہ ہوٹلز کے احاطے میں پہاڑ کیجانب چار گٹر ٹینکی کھودی ہوئی ہے اور کچن کی گندی سمیت باتھ کا سوریج وہاں جاتے ہیں لہذا جو تاثر دیا جارہا ہے وہ غلط ہے کہ ہوٹلوں کی وجہ سے پانی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا،اُنکا بھی کہنا تھا کہ صفائی کیلئے ہم نے الگ سے ملازم رکھا ہوا ہے جو کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی طرح کچرا پانی میں نہ گرے اور اُنکا یہ بھی موقف ہے کہ کچرے کی ڈمپنگ کیلئے چونکہ ضلع کھرمنگ میں ویسٹ منیجمنٹ کا کو ئی وجود ہی نہیں لہذا ہم خود کچروں کو علاقے سے دور لے جاکر دفنا دیتے ہیں۔ہوٹلز انتظامیہ کا موقف اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے لیکن عوام کا کہنا ہے کہ اسی گڑ کا پانی ہوٹلز سے صرف1000 میٹر نیچے کے مختلف مقامات پر چشمے کی شکل میں نکل رہا ہے اور باقاعدہ بدبو آتے ہیں اور یہی پانی ندی میں شامل ہورہا ہے اسی طرح آبشار کے حدود میں موجود فشریز کی گندگی بھی براہ راست ندی میں شامل ہورہا ہے۔ لہذا میری رائے یہ ہے کہ معاملہ جو بھی ہو پانی زندگی ہے اور پانی کے بغیر انسان کی زندگی مکمل نہیں اور اس قسم کے اہم ایشوز پر ابھی سے ہم نے توجہ نہیں دیا تو آنے والوں سالوں میں صورت حال مزید گھمبیر صورت حال اختیار کرسکتا ہے۔ منٹھوکھا ندی کا شفایاب پانی جس میں اس وقت معمولی نوعیت کا چراثیم مکس ہورہا ہے اُس میں مزید اضافہ ہوگا۔ کیونکہ اس وقت اس ضلع کھرمنگ میں کئی اہم سیاحتی مقامات کو وار زون قرار دیکر سیاح کو وہاں جانے سے روکا جارہا ہے اور منٹھوکھا آبشار واحد سیاحتی مزکز ہے جہاں  پاکستان بھر سے لوگ سیاحت کی غرض سے آتے ہیں ۔ ہوٹلز ملازمین کے مطابق یہاں سیزن میں روزنہ کم از کم 800 سے ذیادہ گاڑیاں آتے ہیں اور یقینا ہر گاڑی میں چار سے پانچ افراد سوار ہونگے لہذا مسلے کو ہلکا سمجھنے کے بجائے اس اہم مسلے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس وجہ سے ایک طرف پورا علاقہ پریشان ہے دوسری طرف آنے والے وقتوں میں ندی کے پانی کا مزید بیڑا غرق ہوگا ۔لہذا مفادات کے گرد رقص کرتے جذبات برگیڈ کے دوستوں سے بھی یہی گزارش کروں کا کہ اس حوالے سے مثبت انداز میں سوچیں اور سیاحت کی فروغ کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو بھی پورا کریںکیونکہ پانی کا اسلامی نقطہ نظر سے پانی کا شمار حقوق الناس میں ہوتا ہے اور حقوق الناس کا خیال رکھنا اسلام کی اولین شرط ہے۔ ڈپٹی کمشنر کھرمنگ سے بھی یہی گزارش کروں گا کہ اس ندی کے پانی کو زندگی دینے کیلئے عملی اقدمات اُٹھائیں کیونکہ ضلعی ہیڈکوارٹر بننے کے بعد یہ ندی ٹاون ایریا میں آتا ہے اور ٹاون ایریا میں ماحولیاتی آلودگی اور پانی جیسے بنیادی چیزوں کو اگر حکومت بچانے میں ناکام ہوجائے تو حاکم کہلانے کا حق نہیں۔لہذا منٹھوکھا آبشار کیلئے مناسب سوریج کا نظام متعارف کرائیں اور ندی کو بچانے کیلئے عملی اقدام اُٹھائیں کیونکہ پانی زندگی ہے۔
تحریر: شیر علی انجم

  •  
  • 118
  •  
  •  
  •  
  •  
    118
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*