تازہ ترین

سیاحتی مقامات بازیاب کرائے جائیں۔

سیاحتی اگر وزیراعظم پاکستان وزیراعظم ہاوس کو کسی این،جی،او کو دے دیں تو؟۔سوال بڑا ہی سیدا سادہ ہے اور جواب عوام کے اوسان خطا کردینے والا ،جی ہاں کچھ ایسا حال پاکستان کے شمال میں واقع گلگت بلتستان میں ہے، یہاں کے قدیمی راج قلعے کسی این،جی،او کے پاس سالوں سے ہیں اور حکومتی مشینری کو اس بات کا علم ہوتے ہوئے ، چپ کی نیند سوئی ہوئی ہے، گورنمنٹ آ ف پاکستان اس خطے کو عوامی امنگوں کے بر خلاف پچھلے 70سالوں سے ، مصلہ کشمیر کا حصہ کرار دے کر قانونی و صوبائی حیثیت دینے سے قاصر ہے۔ حکومت اس علاقے کے چراغاں اور بنجر زمینوں کو سرکاری اراضی کے نام پہ دبوچ رہی ہے، واہیں 70سالوں سے علاقے کی پرانی سرکاری عمارتیں یعنی راج قلعوں کو این،جی،اوز کے رہم و کرم پر چھوڑا ہوا ہے۔ اب آپ کہینگے یہ راج قلعے تو راجا کی ملکیت ہیں؟ تو آپ یہ جانیئں کی علاقے کی تمام زمینیں یہاں کے راجاؤں کی تھی،جیسے مقپون داس نام ہی سے اپنی بلتستانی شناخت و ملکیت بتارہا ہے۔ اور سکوار داس گلگت کے راجہ کی۔ اس زمن میں راج قلعوں کو ہم کیسے بھول گئے؟ یاد رہے جنگ آزادی گلگت بلتستان کے بعد الحاق پاکستان کیا گیا تھا اور راج قلعوں کو بھی بعد میں ان ان،جی،اوز کی نذر کیا گیا، کیا عوام کو اپنے اساسے آوروں کے ہاتھوں اچھے لگتے ہیں؟ میرے خیال میں نہیں کم از کم مجھے تو بلکل بھی نہیں،ان سیاحوں کے شعور پر بھی ملال ہے جن کو گائیڈ ان قلعوں کے بارے میں آغا کرتا ہے لیکن ان کے ذہنوں میں یہ سوال نہیں اٹھتا، بھاولپور کے تمام محلات پاک فوج نے عباسی راجہ سے تحویل میں لی، گلگت بلتستان کے ان قومی اساسوں کی کسی کو کیوں خبر نہیں؟ کیا کسی قدرتی جھیل کو آپ نے کسی کی ملکیت پایا ہے؟ ایسا ہی کچھ شنگریلا جھیل کے ساتھ ہے ، کہتے ہیں اس جھیل اور ارد گرد کی زمین سکردو کچورا کے راجا نے کسی کو طوفے میں دی تھی۔ جیسے نواز شریف کو ان کی بیٹی،بیٹوں نے اربوں روپے طوفے میں دیے تھے۔ اس جھیل کے احاطے میں جناب نے بہت خوب ہوٹل بنا کر اس کے احاطے کو فورٹنما بنایا ہوا ہے جہاں من چاہے پیسے بٹورے جاتے ہیں۔ کیا راجا اس طرح سرکاری املاک و زمین کا بندر بانٹھ کر سکتا ہے۔ اگر ہاں ؟ تو کیا عوام اپنی آزاد کرائی ہوئی درتی کے مالک نہیں ہوسکتے؟مجھے یہ بات کھائے جارہی ہے اگر راج قلعے سرکاری املاک کا حصہ نہیں تو یہاں کی بنجر زمین کیوں سرکاری آراضی کے نام پہ ہڈپنے کی کوششیں ہیں؟ کیا ان املاک کو عوامی طاقت سے بازیاب کرانے کی ضرورت ہے؟۔گلگت بلتستان آنے والے تمام سیاح ان جہگوں کو دیکھنا اپنی پہلی ترجیح رکھتے ہیں۔ جناب اب جس کسی نے ان مقامات کو دیکھنا ہے یا دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں کو اپنی جیبیں کھنگالنے کی ضرورت ہے۔ گزارش یہ ہے کہ یہاں کی حکومت ان مقامات کو اپنے تحویل میں لے جو کہ علاقائی ترقی و سیاحت کے فروغ کا ضامن ہے۔

تحریر :- انیس بیگ

  •  
  • 190
  •  
  •  
  •  
  •  
    190
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*