تازہ ترین

گلگت بلتستان کی عدالت عالیہ نے جی بی آرڈر 2018 کو کلعدم قرار دے دیا۔

گلگت(چیف رپورٹر) سپریم اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان نےجی بی آرڈر 2018کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر2009 کو بحال کردیا۔چیف جسٹس رانا محمد شمیم کی سربراہی میں جسٹس جاوید اقبال پر مشتمل ڈویژن بنچ نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قراردیا کہجی بی آرڈر2018ء کی وفاقی کابینہ سے منظوری نہیں لی گئی تھی اس لیے یہ آئین کے آرٹیکل90کی خلاف ورزی ہے، کابینہ سے منظوری کے بغیر آرڈر غیر قانونی اور غیر آئینی ہے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اگر وفاق گلگت بلتستان کو مزید بنیادی حقوق دینا چاہتا ہے تو گورننس آرڈر 2009ء میں ترمیم کرکے د ے سکتا ہے ،فیصلے میں کہاگیا ہے کہ ارکان کونسل اپنی مدت پوری کرینگے جبکہ کونسل کی سابقہ اصل حیثیت بھی بحال ہوگی ۔سپریم اپیلیٹ کورٹ کے فیصلے کے بعدگلگت بلتستان سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر2009 بحال ہونے سے جی بی کونسل بھی بحال ہوگئی ۔گزشتہ ماہ گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے خلاف لیگی ممبر جی بی کونسل سید افضل کی درخواست پر سپریم اپیلٹ کورٹ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے گلگت بلتستان سیلف گورننس اینڈ امپاورمنٹ آرڈر2009 کو عارضی طورپر بحال کرکے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو معطل کردیا تھا اور وفاق حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس بابت وضاحت طلب کی تھی ۔جمعہ کے روز تفصیلی فیصلہ سناتے ہوئے سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جج جسٹس ڈاکٹررانا محمد شمیم اور جسٹس جاوید اقبال پر مشتمل ڈویژن بینچ نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے گورننس آرڈر 2009 کو مکمل بحال کرکے آرڈر 2018 کالعدم قراردیدیا۔ رکن کونسل سید افضل کی جانب سے سینئر قانون دان صدر سپریم اپیلٹ کورٹ بار ایسوسی ایشن ملک شفقت ولی ایڈووکیٹ اور جوہر علی ایڈووکیٹ اور شوکت ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان ساجد الیاس بھٹینے کی۔جبکہ ڈپٹی سیکرٹری کشمیر افیئرز اور کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری سدیرخٹک پیش ہوئے گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے ،ڈپٹی اٹارنی جنرل گلگت بلتستان جاوید اختر اور ایڈووکیٹ جنرل گلگت بلتستان شیر مدد عدالت میں پیش ہوئے،کیس کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری ہوگا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*