تازہ ترین

جی بی میں پاورجنریشن کیلئے سرمایہ کاری کرنے والی غیرمقامی کمپینوں کوپانچ سال کیلئے ٹیکس فری کرنے کا فیصلہ۔

گلگت(ڈسٹرک رپورٹر)حکومت گلگت بلتستان نے صوبے کی ٹیکس فری حیثیت اور مخصوص ضروریات کو مد نظر رکھتے ھوئے وفاقی پاور پالیسی کو گلگت بلتستان میں اپنانے کی منظوری دی۔اس بات کا فیصلہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا جس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے سیکریٹری بابر آمان بابر ، سیکریٹری جنگلات آصف اللہ خان اور سیکریٹری واٹر اینڈ پاور ظفر وقار تاج نے شرکت کی۔اجلاس میں قلیل اور درمیانی مدت کے پلان بنانے کا حکم دیا گیا اور کہا گیا کہ لمبے عرصے کی منصوبہ بندی بھی اس غرض سے کی جائے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو بلا تعطل ہر وقت سستی بجلی ملتی رہے۔چیف سیکریٹری نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو جو پانچ سال کی ٹیکس کی جو چھوٹ دی گئی ھے اس کے عین مطابق پاور پالیسی بنائی جائے تاکہ عام عوام وفاقی حکومت کی جانب سے دی گئی اس چھوٹ سے مستفیدہو سکیں کیونکہ حکومت گلگت بلتستان کی عوام کو زندگی کی تمام سہولیات ان کے گھروں کی دہلیز پہ فراہم کرنے کا تہیہ کر چکیہے۔چیف سیکریٹری بابر حیات تارڑ نے تینوں محکموں کے انتظامی معتمدین کو کہا کہ کہ توانائی کے متبادل ذرائع جس میں ونڈ انرجی ( آندھی سے بجلی کی پیداوار) اور سولر انرجی ( سورج کی مدد سے پیدا ھونے والی بجلی ) کی اوپر ھونے والی فیزیبلٹی کو ترجیحی بنیادوں پہ مکمل کر کے انھیں جلد از جلد پیش کریں تاکہ ان پہ جلدی کام شروع ھو سکے۔سیکریٹری واٹر اینڈ پاور ظفر وقار تاج نے اس موقع پہ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان کو آگاہ کیا کہ اس بارے فیزیبلٹی پہ کام شدومد سے جاری ھے اور ایک سال کے دورانیے میں مکمل ھوگا۔جبکہ سکردو اور گوجال میں ونڈ انرجی کوریڈور کے وسیع مواقع ہیں جبکہ سولر انرجی گلگت ،چلاس اور سکردو میں لگائے جا سکتےہیں۔چیف سیکریٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ نے 20 جولائی کو ھونے والے نظر ثانی اجلاس میں پاور پالیسی کے ڈرافٹ کو پیش کرنے کی ھدایت کرتے ھوئے کہا کہ گلگت بلتستان میں بجلی کی قلت کو پورا کر کے عوام کو بجلی کی فراہمی کو ھر حال میں یقینی بنائی جائے۔
دوسری طرف عوامی حلقوں نے اس فیصلے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچ سال کیلئے ٹیکس فری کے نام پر نجی غیرمقامی کمپینوں کو گلگت بلتستان میں کام کرنے کا موقع دینے کا مطلب حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ کیونکہ گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداور کیلئے س قدر سرمائے کی ضرورت نہیں جس حساب سے حکومت وایلا کررہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دراصل مستقبل قریب میں گلگت بلتستان کے عوام پر بجلی کا ٹیکس نافذ کرنے کی ایک طویل مدتی سازش ہے جوکہ عوام کے مفاد میں نہیں۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*