تازہ ترین

اسرائیلی ہم سفر۔۔۔

ہماری عید اور چائنیز کیلئے Dragon Boat Fesival کی چھٹیوں پر ہبے Hebeiصوبے کے خوبصورت ترین ساحلی شہر Qin Huang Daoجانیکا پروگرام بنا۔یہ شہر بیجنگ سے چھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اُس رات بیجنگ واپسی پر Thang Shan شہر سے آگے ٹرین میں اتفاقا ایک اسرائیلی مسافر کی نشست ہمارے ساتھ تھی۔ ٹرپ پر ہم تین دوست ساتھ تھیاب چوتھا بھی شامل ہوگیا۔ چین میں میرے تین سال کے دوران یہ چوتھا اسرائیلی شہری تھا جس کیساتھ مشرق وسطیٰ خصوصا فلسطین کے ایشو پر کھل کر بات کرنے کا موقع ملا، جن سے اس بات کا بہت اچھی طرح اندازہ ہوگیا تھا کہ ایک عام محب وطن شہری کی طرح اسرائیل کے لوگ بھی کس جنونی حد تک نہ صرف اپنے ملک سے لگاو رکھنے والے ہیں، بلکہ سینئر ہائی سکول کے بعد سرکاری اداروں میں دو سے تین سال سروسز دینے کی پابندی کی وجہ سے ملکی اور علاقائی سمیت عالمی سیاست اور تعلقات پر بھی گہری نظر اور معلومات رکھتے ہیں۔ یہودا بھی انہی میں سے ایک تھا، جن کو یودا کے نام سے پکارتے ہیں۔ ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے Yoda (یہودا) کی ماں کا تعلق امریکا سے تھی جبکہ انکے والد برطانیہ سے اسرائیل شفٹ ہوئے یہی وجہ ہے کہ یہودا اکثر و بیشتر برطانیہ اور امریکا بھی جاتے رہتے ہیں۔ سفر کے دوران اپنے بارے میں انہوں نے بتایا کہ انکی پیدائش یروشلم اسرائیل میں ہوئی، سینئر ہائی سکول کے بعد انہوں نے تین سال تک اسرائیلی ائیر فورس میں کام کیا۔ جس کے بعد انہوں نے ایک کمپنی جوائن کی اور آجکل چائینہ میں بزنس ٹرپ پر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہر دوسرے یا تیسرے مہینے میں کمپنی کی طرفسے چین کے مختلف شہروں چکر لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ چائنیز پر عبور نہ رکھنے کے باوجود وہ ٹرین اور بائی ائیر ایک کے بعد دوسرے شہر سفر کرنے میں کوئی دشواری محسوس نہیں کرتا۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سیاست پر کھل کر گفتگو کا آغاز اسوقت شروع ہوا جب ہمارے ایک چائنیز ساتھی نے اس سے زندگی کی تلخ ترین دن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کارگل شہر میں گزرنے والی رات کا ذکر کرلیا، کنٹرول لائن کی دوسری جانب کارگل کے ہمسایہ علاقہ کھرمنگ سے تعلق اور بین الاقوامی تعلقات کے طالبعلم رہنے کی وجہ سے یہ بات میرے لئے بہت ہی زیادہ دلچسپی کا باعث تھا۔اس کے بعد سارا راستہ گویا میں اور یودا کسی ٹاک شو میں بیٹھے گفتگو کر رہا تھا جبکہ ان کے ساتھ تلخ و شیرین مکالمے کے دوران میرے دو چائینیز دوست آبزرور بنے رہے۔
جس طرح ایک عام عالمی تاثر کیساتھ حقیقت بھی یہی ہے، یہودا کے بقول بھی امریکہ نے القاعدہ، طالبان سمیت بہت سارے مسلم ملٹنٹ، جہادی گروپس کو فنڈ کیا۔ یعنی دہشت گردی کا اصل محور اور اور مرکز بڑی طاقتوں خصوصا امریکا کے مفادات سے وابستہ رہے ہیں۔جس میں سرد جنگ سے قبل اور بعد کے واقعات سے انکا ماننا وہی تھا جیسا میں سجھتا تھا۔ داعش، القاعدہ، بوکوحرام سمیت مسلمان دہشت گرد تنظیموں اور انکی سرگرمیوں کی بابت تھوڑی بہت ریفرنس کے ساتھ بتانے پر انکے پاس اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا کہ وہ ان سب کی اصل ماں امریکا کو ہی سمجھتے ہیں، اس پر مسکراتے ہوئے یہ دلیل دینے کی کوشش کرتے رہے کہ چونکہ امریکا کو جہاں سے خطرہ ہو وہ وہاں ہر وہ تدبیر اختیار کرتا ہے جس سے اس خطرے کو کم سے کم کیا جائے۔اس پر مجھے یہ باور کرانا پڑا انہیں کہ خطرے کو کم سے کم کرنے کی کوشش میں لاکھوں بے گناہ افراد اور خاندان لقمہ اجل بنتے رہے اور امریکا سمیت ہر ظلم کرنیوالے ملک کیلئے خطرے کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے رہے ہیں۔
میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شروع میں اسرائیل نے ہی حماس کو فنڈ کیا تاکہ الفتح اور دوسرے فلسطینی مزاحمتی گروپس کو کمزور کیا جائے۔ساتھ اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ وہی حماس اس وقت فلسطینیوں کی سب سے طاقتور آواز بن چکی ہے جس پر اسرائیل انکے خلاف ہر حد تک جانے کیلئے تیار ہیں۔ بہت ہی واضح طور پر اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ایک دن حسن نصراللہ کو ضرور مار دیں گے۔ میرے چہرے کی کرب کو بھانپتے ہوئے وضاحت یہ دی کہ”ہم سے مراد میں نہیں بلکہ اسرائیلی فوج۔” اور اس بات کو مان لیا کہ ابتک وہ دہشتگرد جماعت حزب اللہ کے خلاف مسلسل ناکام رہے ہیں۔
انکی زندگی میں خوفناک ترین رات کارگل میں گزری، اور صبح آذان کے ساتھ ہی وہاں سے نکل پڑے کہ کہیں حزب اللہ کے ہاتھوں مارا نہ جائے۔ در اصل انہوں نے کارگل شہر میں جگہ جگہ حزب اللہ کے پرچم اور دیواروں پر لگے اشتہار دیکھے، اور انکے بقول کرگل کے لوگ بھی جیسے حزب اللہ کے دہشت گرد ہوں کہ کوئی اسرائیلی ہاتھ لگ جائے تو اسے چیڑ پھاڑ ڈالے۔ میں نے جب بتایا کہ میرا علاقہ کارگل سے سو کلومیٹر سے بھی کم کے فاصلے پر ہے تو محتاط ہوگئے، اس پر مجھے وضاحت کرنی پڑی کہ جیسا تم سمجھتے ہو ویسے نہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر، لداخ اور ہماچل پردیش جیسے سرسبز و شاداب علاقے بھی دیکھے ہوئے ہیں۔ کشمیر اور ہندوستانی مقبوضہ علاقوں کی باتیں اور کچھ مقامی مسلمانوں کی روئیداد سننے سنانے کے بعد دوبارہ سے فلسطین پر گفتگو شروع ہوئی۔
یہودا اس بات کو مانتے ہیں فلسطینی بے گناہوں کو مارنا ہماری غلطی ہے جبکہ سعودی عرب اور اردن وغیرہ کیساتھ اچھی مفاہمتی تعلقات پر خوش ہیں۔ انکے بقول اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ ایران دہشتگردوں کی مدد کررہا ہے اسلئے دشمنی ہے۔ جبکہ ایران ایٹمی میزائل ٹیکنالوجی بھی حاصل کرچکا ہے۔ میں نے کہا ابھی میزائل نہیں صرف ایٹمی انرجی پر کام کررہے ہیں تو کہنے لگا ”ہم جانتے ہیں”۔ اسرائیل کے ایٹمی طاقت ہونے کی بات پر قہقہہ لگانے پر اکتفا کیا، مزید کھنگالنے پر کہنے لگا کہ کوئی نہیں جانتا کہ ہمارے پاس کیا ہے اور کیا نہیں۔ زیادہ اصرار کرنے پر مان لیا کہ ہمیں اپنے دفاع کا حق ہے۔ میں نے سوال دہرایا کہ کیا یہ حق پاکستان اور ایران کو بھی نہیں؟ تو اتفاق کیا کہ یقینا ہے، بس حزب اللہ اور دہشتگردوں کو نا دیں۔ان باتوں پر میرے چائنیز دوستوں کے قہقہے لگتے رہے۔
پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم نہ کرنیوالی ستر سالہ پرانی سیاست کو ترک کرکے حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے۔ کیونکہ وہ مسلمانوں کو دوست اور بھائی سمجھتے ہیں، جبکہ دشمنی صرف دہشتگردوں سے ہے۔ اس بات پر میرے چائنیز دوستوں نے ان کیساتھ اتفاق کیا۔آٹھ ملین کی قلیل آبادی والے اسرائیل میں ڈیڑھ ملین مسلمان اور کچھ تعداد عیسائیوں کی بھی ہیں، جو آبادی کے حساب سے اسرائیلی اسمبلی میں نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں یہودیوں کی کل آبادی تیرہ ملین ہے۔ اتنی قلیل آبادی کے باوجود اسرائیلی ہٹ دھرمی کی وجہ دریافت کرنے پر بولے کہ اسرائیل کی طاقت ٹیکنالوجی اور اکنامی ہے، تیسری طاقت کا ذکر نہیں کرونگا، میں نے ہتھیار کی مارکیٹ کا بتایا تو قہقہے کیساتھ اتفاق کیا۔ پاکستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا نہیں جاسکتے اس کا افسوس رہیگا۔ دوسرے مسلم ممالک نہ جاسکنے پر افسوس نہیں۔

تحریر: شریف ولی کھرمنگی- بیجنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*