تازہ ترین

معراج علم۔۔

نیازمند یکم اپریل 1977 ء سے لے کر 3فروری2018 ء تک کل 41 سال 10 ماہ تین دن بحیثیت مدرس فرائض منصبی ادا کرکے 4فروری 2018 ء کو ریٹائرہو گیا ہے۔ اسی دوران بہت سے اچھے اچھے پیشے سے محبت رکھنے والے اور کام سے عشق کی حد تک دلچسپی رکھنے والے اساتذہ بھی گمنام طریقے سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔ اگر کسی ٹیچر کو باعزت طور پر محکمہ نے فارغ کیا ہے تو یا تو ڈی ڈی او ہوگا یا ذاتی اثر و رسوخ رکھنے والا یا کسی وزیر و امیر کا قریبی رشتہ ۔۔۔۔۔ قلم کو روک دیا ! شکایتوں کے انبار موجود ہے شکایت کرنے سے بات بننے کی بجائے بگڑتا زیادہ ہے۔ چونکہ آج تک جن جن سکولوں اور علاقوں میں ( ہائی سکول کشمراہ ، پی ایس تندل،ہائی سکول قمراہ ، پی ایس سترانگدونگما، پی ایس بالا، ہائی سکول کواردو،پی ایس ہنڈوکواردو ضلع سکردو، ہائی سکول علی آباد ضلع ہنزہ، ہائی سکول سسی حراموش ضلع گلگت، ہائی سکول کاندے ضلع گانگچھے)ڈیوٹی دیا ہے وہاں کے عوام ،طلباء اور سٹاف آج بھی فدوی کو اچھے الفاظ سے یاد کرتے ہیںاور عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لہٰذا تمام سکولوں کے سٹاف ،علماء عمائدین علاقہ اور خصوصی طور پر طلباء شکریہ کے مستحق ہیںسب کا شکریہ اللہ تعالی انہیں اپنے اساتذہ کی قدر کرنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرکے علم وادب کی ترقی کو مزید چار چاند لگانے کی توفیق دے آمین۔
محترم قارئین
ریٹائر منٹ کے بعد اگر اپنے محکمے کو بھول جائیں تو یہ ظلم ،ناانصافی اور بے وفائی ہوگی۔نہ معلوم کتنے ریٹائرڈ ٹیچر اپنے محکمے کی ترقی ، بہتری نیک نامی اور کامیابی کے لیے سوچ رہے ہونگے۔ایسا ہی فکر میرے دماغ کو بھی جھنجوڑ تا رہتاہے جس محکمے سے زندگی کا ایک لمبا عرصہ وابستہ رہا ہے، تربیت اور پرورش و پرداخت کا وسیلہ بنایا ہے اس کی معیار کو بلند کرنے کے لیے اگر چند ایک مشورہ دوں تو بھی حق محکمہ ادا نہ ہوگا۔ چونکہ محکمہ تعلیم کا موجودہ سیکریٹری خود ایک قابل ریٹائرڈ ٹیچر کا فرزند ہے علم کے گھرانے سے تعلق ہے اس لیے بھی مجھے ہمت ،حوصلہ اور جراٗت آتا ہے کچھ باتیں محکمے کی ترقی اور بہتری کے لیے کروں۔
یہ محکمہ ایک خوش قسمت محکمہ ہے کہ اس کے پاس ریٹائرڈ ٹیچروں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے ہر محکمہ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہیںجنہیںریٹائرمنٹ کے بعد بھی محکمے کا حصہ بناکر کام میں لایا جا سکتا ہے چونکہ یہ اساتذہ عمر کے لحاظ سے عمر رسیدہ ہو نے کی وجہ سے زیادہ دیانت دار ،کام کے حوالے سے زیادہ تجربہ کار،اور فرض شناس ہوتا ہے۔ عمر کا تقاضا ہوتا ہے کہ غلطی کرنا گناہ ،شرم اور زاتی و خاندانی بدنامی کا سبب سمجھتاہے۔۔
لہٰذا محکمہ کو چاہیے کہ گر قبول افتد زہے عزو شرف
۱۔سال میںایک دفعہ ہر ضلع میں ترقی پانے والے ٹیچروں کو جمع کرکے انہیں انکی پروموشن آرڈر سر عام دیکر اخبارات ورسائل میں تصویر چھپوا کر حوصلہ افزائی کی جائے یوں چور دروازہ بھی بند ہو جائنگے اور سب کو معلوم ہوجائنگے کہ کون کس سکیل میں گئے ہیں۔
۲۔ہر سال ایک دفعہ ضلعی سطح پر اسی سال پنشن جانے والوں کو بلا کر محکمہ باعزت طریقے سے انہیںخدا حافظ کہیںتو ان کی حوصلہ افزائی ہوگی چونکہ آئے دن پنشن جانے والوں کا پروگرام کرنا مشکل ہے۔
۳۔محکمہ تمام امتحانات پرائمری ،مڈل ،میٹرک ،ایف اے کے لیے ریٹائرڈ ٹیچروں کو نامزد کر کے ریگو لر ٹیچرز کی سال بھر اپنے سکولوں میں حاضری کو یقینی بنایا جاسکتاہے۔
۴۔ قومی ٹاسک کے لیے بھی جیسا کہ خانہ شماری ، مردم شماری ، ووٹر لسٹ کی تیاری کے لیے ریٹائرژ ٹیچروں کو شامل کرکے تعلیمی و تد ریسی نقصانات کو کم سے کم کیا جاسکتا ہے۔
۵۔کنٹینجنٹ اور کنٹریکٹ ٹیچر کی ضرورت پڑنے پر بھی ان ٹرینڈ تعلیم یافتہ کو لینے کی بجائے اسی علاقے میں موجود ریٹائرڈ ٹیچر کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہے۔
۶۔ریگولر ٹیچر لمبی چھٹی پر جانے کی صورت میں متبادل ٹیچر کے لیے بھی ریٹائرڈ ٹیچروں سے کام لے سکتاہے۔
۷۔ٹیچروں کی عارضی کمی کی خلا کو بھی ریٹائرڈ ٹیچروں سے پر کیا جاسکتا ہے۔
۸۔یونین سطح پر ریٹائرڈ ٹیچروں کو منظم کمیٹی کی شکل دے کر سکولوں کی بہتری کے لیے کام لیا جا سکتاہے۔
۹۔تمام سر کاری و غیر سرکاری سکولوں کا SMC چیئر مین ریٹائرڈ ٹیچر رکھ کر ان کی تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
۱۰۔تمام پرائیویٹ سکولوں میں بحیثیت پرنسپل ریٹائرڈ سرکاری ٹیچر ان کو محکمہ تعلیم سے قریب تر کیا جاسکتا ہے البتہ ان کی تنخواہ اور مراعات بوقت رجسٹریشن طے ہو۔
۱۱۔تمام بکڈپو ز پر موجود سکول سے مربوط چیزوں کی کوالیٹی چیکنگ کے لیے بھی کسی ریٹائرڈ ٹیچر کی خدمات لی جا سکتی ہے۔
۱۲۔ہر سال محکمہ تعلیم تمام ریٹائرڈ ٹیچروں کو ایک دفعہ جمع کرکے مرحوم ٹیچروں کے لیے فاتحہ خوانی رکھ کرٹیچروں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔
۱۳۔سکولوں میں آئے دن ہو نیوالے تقریبات کی صدارت کے لیے بھی کسی ٹیچر کو محکمہ نامزد کر کے اس کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔
۱۴۔محکمہ کے تمامDDE کے دفتر میں ریٹائرڈ ٹیچروں کی دفتری معاملات کے حل کے لیے الگ سیل بناکر ان کی عزت افزائی کے جاسکتی ہے۔
ریٹائرڈ ٹیچر کی عزت محکمہ اور تمام ریگولر حاضر سروس ٹیچروں کی عزت ہے۔ ٹیچروں کی جتنی عزت ہو گی اسی حساب سے طلباء اور معاشرہ بھی استاد کو عزت دینگے ۔بات مراعات و سہولت کے ساتھ ساتھ عزت و افزائی سے آکے بڑھ سکتی ہے۔ جتنی یہ باتیں آکے بڑھے گی اسی حساب سے تعلیم و تربیت آگے بڑھ جائیگی تو قوم وملت کا مستقبل روشن ہو جائنگے۔

تحریر: ماسٹر محمد رضاایکس ایس ایس ٹی کوارد

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*