تازہ ترین

کچھ میرے بھی خواب ہیں!!!

میرا خواب نا ریاستی اداروں سے متصادم ہے نا ریاست کے جملہ قوانین سے اختلاف رکھتا ہوں۔میں بھی گلگت بلتستان کےتمام باسیوں کی طرح محب وطن ہوں۔میری وطن عزیز سے محبت مرتے دم تک قائم رہے گی۔لیکن میرے بھی کچھ خواب ہے میری بھی کچھ آرزو ہے۔میں بھی آئین چاہتا ہوں جو پچھلے ستر سالوں سے میری دھرتی کو میسر نہیں ہو سکا۔مانا کہ اقوام متحدہ کے قردادوں کے مطابق میں پاکستان کا آئینی صوبہ نہیں بن سکتا لیکن آپ جناب والا کی طرف سے ایک سمت کو ملحوظ نظر تو رکھ رہے ہیں لیکن دوسری سمت آپ کی نظریں کبھی نہیں گئی۔اقوام متحدہ تو میرے دھرتی کے متعلق یہ بھی کہہ رہا ہے کہ وہاں کے عوام کو آذاد و خود مختار آئین ساز اسمبلی دے دو لیکن آپ کی طرف سے میرے خطے کو آرڈر کے زریعے چلایا جا رہا ہے۔مشرف کے طور میں ڈپٹی چیف کو چیف ایگزیٹیو کا نام دے کر میری دھرتی کا مذاق اڑایا گیا تو 2009 میں پیپلز پارٹی نے متفرق صوبائی ڈھانچہ دے کر میرے زخموں پر نمک پاشی کی۔اب اور ایک نیا آرڈر 2018 دے کر وائسرائے کو میری دھرتی پر مسلط کر دیا ہے۔آپ نے تو میرے علاقے میں نافظ اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو معطل کر رکھا ہے۔جو میری دھرتی کے زمینوں کے محافظ تھے۔ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ کھبی ریاست مخالف نہیں رہا کیونکہ یہاں کے عوام سب سے ذیادہ مملکت اسلامی پاکستان سے پیار کرتے ہیں۔یہاں کے عوام کا صرف اتنا سا مطالبہ ہے اگر حکومت صوبہ دے کر آئین پاکستان کا حصہ نہیں بنا سکتے ہے تو اقوام متحدہ کے قراداوں کے مطابق آئین ساز اسمبلی اور معطل شدہ اسٹیٹ سبجکٹ رول کو بحال کرے تاکہ یہاں کے عوام بھی آئین کا حصہ بن کر اپنے خطے کیلئے آئین سازی کر سکے۔یہاں کے عوام اپنے خطے کی تحفظ چاہتے ہے جو ان کا بنیادی و انسانی حق ہے۔پچھلے تازہ واقعات جس میں چیف سکرٹیری ،ڈی سی گلگت و ہنزہ کا مقامی آبادی کے ساتھ سلوک اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ اس طرح کے آرڈنینس گلگت بلتستان کے عوام کو غلامی کے دلدل میں چھوڑنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔کیا گلگت بلتستان کے عوام کا کوئی حق نہیں کہ وہ قانون سازی کر سکے۔کیا گلگت بلتستان کے عوام کا اپنے خطے کی عالمی قوانین کی تناظر میں سیٹ اپ مانگنا غداری ہے۔ایک طرف تو ہماری حکومت یہ کہتے نہیں تھکتے کہ مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کے قرداد گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے میں رکاوٹ ہے تو دوسری طرف اقوام متحدہ کی قردادوں کی نفی کرتے ہوئے آرڈنینس دیا جا رہا ہے ۔جس سے ہمارے دشمن ملک بھارت کو ایک طرف ہرزہ سرائی کا موقعہ مل رہا ہے تو دوسری طرف گلگت بلتستان کے عوام بھی اس طرح کے آرڈنینس سے ناخوش دکھائی دے رہا ہے۔عوامی ایکشن کمیٹی ،گلگت بلتستان سپریم کونسل اور متحدہ اپوزیشن و گلگت بلتستان کی تمام اسٹوڈنینس آرگنائزیشن کے احتجاج اور ان احتجاجی جلسوں میں عوام کی جم غفیر کی شرکت اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ عوام آرڈنینس در آرڈنینس سے سخت بیزار ہو چکے ہے۔ اسلئے اپ وفاق کے تمام اسٹیک ہولڈر کو چاہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوام کو اقوام عالم کے قوانین کےمطابق کشمیر طرز کا خود مختار آئین دے تاکہ مسلہ کشمیر کے حل ہونے تک یہاں کے عوام بھی اپنے دھرتی کے ترقی کیلئے قانون سازی کر سکے۔اس کے برعکس اگر اس طرح کے غلامانا ٗحاکمانہ آرڈرز کا تسلسل رہے تو کوئی بعید نہیں کہ آنے والے وقتعوں میں عوامی محبت کہی دوسرے سمت چلے جائے۔اس لئے وفاقی اسٹیک ہولڈر ہوش کے ناخن لے اور اس محکوم و مظلوم خطے کے باسیوں کو حقوق فراہم کرے تاکہ خوشحال گلگت بلتستان و خوشحال پاکستان کا خواب ممکن ہو سکے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*