تازہ ترین

چینی صدر کا پاکستان کے حوالے تاریخی بیان نے پاکستان مخالف قوتوں میں صف ماتم بچھا دیا۔

بیجنگ(آئی این پی/شِنہوا)چین کے صدر شی جن پھنگ نے کہا ہے کہ پاکستان کے شنگھائی تعاون تنظیم کا رکن بنے سے تنظیم نے نئی کامیابیاں حاصل کی ہیں،صدر شی نے شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن بننے پر پاکستان کو مبارکباد پیش کی اور توقع ظاہر کی مسقتبل کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے اس سے تنظیم کی قوت میں اضافہ ہو جائیگا،کانفرنس کے دوران 17دستاویزات تیار کیں جن میں خاص طور پراچھی ہمسائیگی کے طویل المیعاد معاہدے ،شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون اور دہشت گردی،علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف 2019-2020پروگرام پر تعاون کے 2018-2022 کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرنا شامل ہے ۔ رہنماؤں نے 2018-2023منشیات کے خلاف حکمت عملی کی منظوری کے فیصلے اور عمل درآمد کے ایکشن پلان اورتنظیم کے تمام رکن ممالک نے ایک اطلاعاتی بیان پر بھی دستخط کئے ۔ دستخطوں کی تقریب کے بعد چین کے صدر شی جن پھنگ نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بڑے بین الاقوامی اور علاقائی مسائل پر طویل غور وخوص کیا ہے اور ہم نے اچھی ہمسائیگی کے طویل المعیاد معاہدے ، دوستی اور تنظیم کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کے نفاذ کیلئے ایکشن پلان کی بھی منظوری دی ہے ۔انہوں نے کہا ہم شنگھائی تعاون تنظیم چارٹر کے اصولوں اور مقاصد کی پابندی پر رضامند ہوئے ہیں اور باہمی اعتماد، مفاد، مساوات، مشاورت اورمختلف تہذیبوں کے احترام اور مساوی ترقی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے جذبے کے ساتھ کام کرینگے۔اور علاقائی امن استحکام ترقی اچھی ہمسائیگی دوستی اور عملی تعاون کو فروغ دینگے۔شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت کے دوران ہمیں شنگھائی کے جذبے،اور تنظیم کو تمام ممالک کے لیے مساوی قسمیت کی تعمیر کے لیے کام کرنے کی رہنمائی ملی اور ہم نے نئے انداز کے بین الاقوامی تعلقات کی جانب سفر کیا اور ایک کھلے صاف اور خوبصورت دنیا تعمیر کی جو مستقل امن عالمی سلامتی اور مساوی خوشحالی سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔صدر شی نے شنگھائی کے جذبے کو مضبوط کرنے کی تعریف کی جس سے باہمی اعتماد،دو طرفہ مفادات،مساوات،مشاورت اور متنوع تہذیبوں کے احترام اور مساوی ترقی مکمن ہوئی ہے۔ہمیں جدیت،رابطے گرین،کھلے پن اور بے مثال ترقی پر عمل کرنا چاہے اور عدم توازن ترقی کے تمام مسائل کو حل کرنا چاہیے،انہوں نے مساوی، جامع، مربوط اور پائیدار سلامتی کی تجویز پیش کی۔انہوں نے کہا ہمیں سرحد جنگ کی ذہانیت اور مختلف بلاکوں کے درمیان تصادم کی پالیسی کو مسترد کر دینا چاہے اور دیگر ممالک کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی کی تلاش کی مخالفت کرنی چاہیے۔ہمیں صرف اپنے مفادات کو مسترد کرنا چاہے تنگ نظری اور بندکمروں کی سیاست کو بھی ترک کر دینا چاہے انہوں نے مساوات،دوطرفہ علم ،مذاکرات اورمختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیا،چھنگ تاؤ کانفرنس نظریات اور تصورات ٹھوس عمل کے لیے لائحہ عمل طے کرنے کے بعد ختم ہو گئی۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*