تازہ ترین

چیف سیکرٹیری گلگت بلتستان کا عوام کو طعنہ اور سائل کے ساتھ بدتمیزی،سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ۔

سکردو( نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں حال ہی میں تعین ہونے والے چیف سیکرٹیری نے آتے ہی گلگت بلتستان کو ذاتی سلطنت سمجھنا شروع کردیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بابر حیات تارڑ کا دورہ گانچھے بلتستان کے موقع پر سائل کی جانب سے اپنے علاقے میں گائنا کالوجسٹ کی تعیناتی کا مطالبہ کرنا جرم بن گیا۔ سائل کے سوال پر چیف سکرٹیری نےبد تمیزی کی انتہا کردی اور گلگت بلتستان کے عوام کو ٹیکس نہ دینے کا طعنہ بھی دیدیا۔ اُنہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کوئی متنازعہ خطہ نہیں حکومت پاکستان اس خطے میں سالانہ سو ارب خرچہ کرتے ہیں لیکن گلگت بلتستان کی طرف سے ٹیکس کی صورت میں کچھ بھی نہیں ملا۔ اُنکے اس بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح پھیل گیا ہے اور اہلیان گانچھے نے موقع پر ہی چیف سیکرٹری کے روئیے کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ دوسری طرف سوشل میڈیا پر اس متنازعہ بیان کو لیکر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے۔ عوام کی جانب سے اُن کے اس روئے کو متنازعہ خطے کے عوام کے ساتھ عہدے کا ناجائز استعمال بتایا جارہا ہے۔ گلگت بلتستان کو سوشل ایکٹیوسٹ نے ٹیوٹر اور فیس بُک پر اُنکی تبادلے کیلئے باقاعدہ ٹرینڈ چلانا شروع کردیا ہے۔ سوشل میڈیا پر احتجاج کیا جارہا ہے کہ قانون کے مطابق گلگت بلتستان کے وسائل کا رائلٹی جس طرح پاکستان کے آئینی صوبوں این ایف سی کے تحت دیا جاتا ہے لیکن گلگت بلتستان کے وسائل کے رائلٹی کا کوئی حساب کتاب نہیں ،اب عوام کو اس حوالے سے بھی وفاق سے باقاعدہ حساب کتاب مانگنے کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ دریاوں کا پانی گلگت بلتستان کےفضائی راستے،جنگلا ت ،سیاحت ،سوست ڈرائی پور ٹ،جنرل سیل ٹیکس، موبائل کمپنیز کے ٹیکسز، کے ٹو کی رائلٹی اور معدنیات پر گلگت بلتستان کے رائلٹی کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ لیکن گلگت بلتستان میں عوامی خدمت کیلئے آنے والے سرکاری افسر کی جانب سے عوام نے بنیادی حقوق کیلئے سوال کرنے پر جابرانہ رویہ گلگت بلتستان کے عوام کا پاکستان کیلئے دی جانی والی قربانی کو نظرانداز کرنے کے مترداف ہیں۔ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے کہ گلگت بلتستان متنازعہ خطہ ہونے کے باوجود یہاں کے عوام کی وفاداریاں غیر مشروط طور پر پاکستان کیلئے ہیں لیکن اپنی نوکری اور عہدے کا ناجائز استعمال کرنے والے اس طرح سے افسر ملک کے نہیں بلکہ اپنے مراعات اور عہدے کے وفادار ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف سی پیک میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے اور گلگت بلتستان کے عوام کی مطالبے کے برخلاف زبردستی گلگت بلتستان آرڈ 2018 نافذ کرنے کے بعد یہاں کے عوام میں پہلے ہی غم اور غصہ پایا جاتا ہے ۔ایسے میں بنیادی سہولت کے مطالبے پر جابرانہ رویہ نیک شگون نہیں۔ گلگت بلتستان کے عوام کی جانب سے چیف سیکرٹیری کو فورا تبدیل کرنے اور اُنہیں گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن نے بھی اس حوالے سے بیٹھک بٹھا دی ہے جو کل تک اس حوالے سے اپنا لائحہ عمل طے کرے گا۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*