تازہ ترین

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے ممبران کیلئے پنشن بل پاس، امجد ایڈوکیٹ ناراض۔

گلگت (ڈسٹرک رپورٹر)پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے انکشاف کر تے ہوئے کہا ہے کہ چوری چھپے صو بائی حکومت نے پنشن کا قانون پاس کیا ہے اور اب اراکین اسمبلی پنشن لینگے ۔پہلے سے اسمبلی کے ممبر بن کر لوٹ مار کی ہے شا ید لو ٹ مار کم ہوئی ہے اس مر تے دم تک لو ٹ مار کر نا چاہتے ہیں اور پنشن کا قانون پاس کیا ہے اور تا حیات مزے لینے کے موڈ میں ہیں ۔میڈیا سے گفتگو کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ بیورو کر یسی کا بجٹ بنایا ہے اس پر حکومتی اراکین نے انگو ٹھہ لگا نا ہے اس بجٹ سے غریبوں کے لیے کچھ نہیں ہو گا ۔یہ جو بجٹ ہو گا مراعات یافتہ لوگوں کے لیئے ہو گا سکیموں کے نام مشینری کی خریداری ہو گی ۔ جس شکل میں مشینری ہو گی اس کا ٹھیکہ حفیظ کے لوگوں کے پا س ہو گا حفیظ الر حمن اب ایک اور سال کمانا شروع کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نیب یتیم ، مسکین مزدور اور لا چار افراد کے خلاف کام کر رہی ہے اور ان پر ہا تھ ڈال رہی ہے امیروں اور حفیظ الر حمن کے غنڈوں سے ڈر کے مارے ستو پی کے سوئی ہوئی ہے اس لیئے اس نیب کے ادارے کو ہی گلگت بلتستان سے بے دخل کیا جا ئے محکمہ مینٹیننس کا بجٹ 80کروڑ کے لگ بھگ تھا لیکن 2016.17میں اضا فی خرچ ہوا ہے اور تین ارب تک محکمہ مینٹیننس نے خرچ کیا ہے اس کا حساب کتاب کچھ نہیں ہے نیب کویہ کر پشن نظر نہیں آئی ہے اور آنی بھی نہیں ہے ۔ نیب نے اربوں والے کر پشن کام نہیں کرنا ہے مزدور ، مسکین کمزوروںپہ ہاتھ ڈالنا ہے اور اب تک جن پر ہاتھ ڈالا ہے غریب مزدور پر ڈالا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تین سال میں گلگت شہر میں ری کارپٹنگ کا کام ہو رہا ہے مہینہ بعد کھنڈر بن جا تا ہے اور کاغذ میں قانون کے تحت چھ انچ دکھائی جا تی ہے عملی طور پر ڈیڑھ انچ نظر آتی ہے اور جہاں بھی میٹلنگ کا کام ہو رہا ہے وہاں پر ڈیڑھ انچ سے زیادہ تارکول نہیں ڈالا گیا ہے یہ کر پشن نیب کو کبھی بھی نظر نہیں آنی ہے ۔ گلگت شہر کی ری میٹلنگ ہوئی ہے اور تمام کام عملی طور پر جو کیا جا رہا ہے وہ غیر قانونی اور غیر معیاری ہے لیکن نیب کو یہ سب نظر نہیں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک کلکٹر عدالت کا حکم نہیں مانتا ہے یہ تاجروں کی نہیں بلکہ عدالتوں کی توہین ہے گلگت بلتستان کے تاجروں کے ساتھ اس وقت کسٹم حکام جو کر رہے ہیں یہ زیادتی ہے۔ وی بوگ کے قانون کیلئے مکمل پاکستانی ہونا لازمی ہے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی کے لئے ہم متنازعہ ہیں وی بوگ کے لئے متنازعہ نہیں ہیں مراعات دینے میں متنازعہ ہیںاور حکومت خون چوس لے تو متنازعہ نہیں ہیں اس قانون کو ہم نہیں مانتے ہیں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں کسٹم کا چیک پوسٹ ہی غیر قانونی ہے اس چیک پو سٹ کو ہی ختم کیا جائے اور تاجروں کے جو مطالبات ہیں ان کو فوری حل کیا جائے۔کسٹم کے سپا ہی نے چیف کورٹ کے فیصلے کو پائوں تلے مسل ڈالا حکم کو نہیں مان رہے ہیںیہ عدالت کی توہین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سست میں اے پی سی بلائی گئی ہم اے پی سی میں جائینگے اور اپنا موقف پیش کرینگے اور تاجروں کے ساتھ زیادتی برداشت نہیں کرینگے ۔ گلگت بلتستان کی عدالت کے احکامات کسٹم کلکٹر نہ یں مان رہا ہے تو عدالت کو ہی واپس لیا جائے آج تاجر کاروبار نہیں کرسکتے ہیں ۔ہم وکالت نہیںکر سکتے ہیں ، پانی ،معدنیات ،اور ملازمتوںپر ہمارا حق نہیںہے ہم صرف گریڈ ون کی نو کری کریں تمام مظالم ہیں ہم ان مظالم کو چلنے نہیں دینگے یہ فلسطین نہیں ہے جہاں ظلم کیا جائے اور ہم خامو ش رہنگے ۔انہوںنے کہا کہ جس طرح لینڈ ریونیو کے ایک کمشنر نے گلگت بلتستان کے حالات خراب کر ائے تھے اسی طرح چیف کلکٹر ما حول خراب کرنا چا ہتا ہے اوریہ آفیسر دو بارہ ما حول خراب کر نا چا ہتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عنقریب پاکستان پیپلز پارٹی گورننس آرڈر 2018 بجٹ اورکرپشن کے حوالے اور دیگر اہم مسائل کے حوالے سے پریس کانفرنس کے ذریعے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*