تازہ ترین

غیر مقامی بیوروکریسی کی جانب سے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر۔

اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان کے سینئر صحافی عالم نور حیدر نے نجی ٹی وی کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان عجیب سی صورت حال سے گزر رہا ہے۔ اُنکا کہنا تھا کہ ایک طرف گلگت بلتستان کے عوام پچھلے ستر سالوں سے آئینی طور پر ملک کا پانچواں صوبہ کہلانے کی خواہش مند ہیں دوسری طرف وفاق کی طرف سے ہر بار یہ کہہ کر ٹرخایا جاتا ہے کہ یہ خطہ ریاست جموں کشمیر کی اکائی ہے۔ لہذا جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی نگرانی میں یہاں رائے شماری نہیں ہوتے گلگت بلتستان کو مکمل طور پر پاکستان میں شامل کرنا ممکن نہیں۔اس لئے مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے یہاں کے عوام کوپاکستان کا مسلہ کشمیر کے حوالے سے موقف اور بین الاقوامی قانون کی مجبوریوں کی وجہ سے صبر کرنا پڑے گا۔ اُنکا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان سے 600 کلومیٹر سڑک گزارنے کے باوجود اس خطے کو کوئی ایک بھی پروجیکٹ نہیں دیا گیا بلکہ مقامی حکومت کی جانب سے مقامی سطح کے پروجیکٹس کو سی پیک کا نام دیا جارہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو جو قوانین متنازعہ ریاست کے باقی اکائیوں میں نافذ ہیں وہ گلگت بلتستان میں بھی نافذ ہونا چاہئے تھا جس میں سب سے اہم قانون قانون باشندہ ریاست 1927( سٹیٹ سبجیکٹ رول) ہے ۔ یہ قانون جموں کشمیر لداخ اور آذاد کشمیر میں نافذ ہیں لیکن گلگت بلتستان کی حیثیت متنازعہ ہونےکی وجہ سے صوبہ نہ بننے کے باوجود گلگت بلتستان میں اس قانون کی خلاف وزری عروج پر ہے۔ اس وقت غیرمقامی کاروباری شخصیات،سیاست دان اور بیورکریٹس اونے پونے کی دام پر گلگت بلتستان میں زمین خریدنے میں مصروف ہیں۔اُنکا کہنا تھا کہ اس کی اصل وجہ گلگت بلتستان کا آنے والے وقتوں میں اہمیت اور سی پیک کے تناظر میں یہاں ٹیکس فری کاروبار کے مواقع بتایا جاتا ہے۔ اُن کے مطابق کے اس وقت گلگت بلتستان میں مندرجہ ذیل اہم شخصیات نے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر زمین خرید لی ہے۔
1 سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز(مقصد فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر)۔
2- سنیٹر طلحہ محمود( اُنہوں نے باقاعدہ گلگت بلتستان میں شادی بھی کی ہے) بنگلہ تیار ہوگیا ہے۔
3- جہانگیر ترین ( گلگت کے اہم سیاحتی مقام نلتر میں میں زمین خرید لی ہے)۔
4-سابق چیرمین سی ڈی اے کامران لاشاری( ہنزہ عطا آباد جھیل کے پاس فائیو سٹار ہوٹل بنانے کی غرض سے زمین خرید لی ہے)۔
5- سابق وفاقی سیکرٹیری جمشید برکی( گلگت کے اہم سیاحتی مقام نلتر میں میں زمین خرید لی ہے)۔
6- سابق جنرل ریٹائرڈ عباس( سکردو میں زمین خرید کر بنگلہ زیر تعمیر ہے)۔
7- سابق آئی جی گلگت بلتستان حسین اصغر( سکردو میں بنگلہ تیار ہوگیا ہے۔
8- مرحوم جنرل حمید گُل نے بھی مختلف علاقوں میں زمین خرید رکھا ہے۔
9- ماروی میمن نے بھی گلگت بلتستان میں زمین خرید لی ہے۔
10- پیپلزپارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ نے گلگت بلتستان میں زمین خریدنے کا انکشاف کیا ہے۔
11- اس علاوہ گلگت میں افغان شہریوں کا بھی زمین خریدنے اور گلگت بلتستان کا ڈومسائل بنانے کا انکشاف ہوا ہے۔
دوسری طرف گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے حوالے سے متحدہ اپوزیشن کا یہی کہنا ہے کہ جب یہ خطہ متنازعہ ہے اور مقامی اسمبلی سے کئی بار آئینی صوبے کیلئے متفقہ طور پر قراداد پاس ہونے کے باوجود گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بنایا جارہا ہے تو گلگت بلتستان میں متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر قوانین نافذ کیوں نہیں ہے۔ اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی اور متحدہ اپوزیشن نے بہت جلد عوامی رابطہ مہم کا اعلان کیا ہے تاکہ آرڈر 2018 کے حوالے سے اگلا لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سلسلے کو ابھی سے نہیں روکا تو وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان کے شہری اپنے ہی علاقے مین اقلیت میں تبدیل ہوجائے گا ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*