تازہ ترین

گلگت بلتستان میں حکومت کی جانب سے پیدا کردہ فرقہ وایت کی گھمسان لڑائی کو عوام نے مسترد کردیا۔

گلگت،سکردو،اسلام آباد( خصوصی سروے رپورٹ) گلگت بلتستان آرڈرکے خلاف عوامی احتجاج اور اس حوالے سے قومی یکجہتی نے حکمران جماعت مسلم لیگ نون صفوں صف عجیب سی بےچینی کا سماں پیدا کیا ہے۔ اس وقت حکومت کے گن گانے والے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سے لیکر حکومتی ذمہ داران ،وزراء اور کوارڈنیٹر کے لاو لشکر کو سمجھ نہیں آرہا ہے کہ اس عوامی غیض غضب کو روکنے کیلئے کیا حکمت عملی طے کیا جائے۔ ناتجربہ کار اور مذہبی منافرت کے ماحول میںپروورش پانے والے افراد کی جانب سے سیاسی مسلے کو بھی فرقہ واریت سے جوڑنے کی ناداں کوششوں نے مسلم لیگ نون کی حکومت کو ننگا کرکے رکھ دیا ہے۔ اسوقت سوشل میڈیا پر یوتھ مسلم لیگ نون کی حکومت کو لیکر لوگ جگتیاں مارتے نظر آتا ہے۔ عوام نے مسلم لیگ نون کی منافرت والی سیاست کو گلگت بلتستان کی مستقبل کے حوالے سے پریشان کن عمل قرار دیا ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں چونکہ پرنٹ میڈیا حکومت کے قید میں ہے اور عوام کے پاس اظہار رائے کیلئے ایک ہی آذاد ذرائع سوشل میڈیا ہے اور گلگت بلتستان کے نوجوان طبقہ سوشل میڈیا کو ذیادہ تر صرف اپنے بنیادی حقوق کی حصول اور اپنے مسائل کے حوالے سے اگہی پھیلانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ فیس بُک ،ٹیوٹر، یوٹیوب پر اس وقت گلگت بلتستان کے میں انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کے باوجود بہت ذیادہ فعال نظر آتا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندوں نے گلگت ،سکردو اور اسلام آباد میں ایک سوشل میڈیا سروے کیا۔ اس سروے میں ہماری ٹیم نے تقریبا دس ہزار افراد کے سوشل میڈیا، فیس بُک اور ٹیوٹر کا وزٹ کیا اور گلگت بلتستان آرڈر نافذ کرنے کے بعد حکومت کی جانب سے اس دعوے پر جس میں حکومتی عہدے داران کی جانب سے مسلسل کہا جارہا ہے کہ اس وقت گلگت بلتستان میں حقوق کے نام پر بغض حفیظ میں یہ سب کچھ ہورہا ہے،پر جانچ پڑتال کیا۔ اس حوالے سے ذیاد تر افراد کا کہنا ہے کہ جب کسی حکومت کے پاس جب عوام کو مطمئن کرنے کیلئے مناسب جواب نہیں ہوتے تو مسلکی سیاست کا پتہ استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کا گلگت بلتستان میں یہ المیہ رہا ہے کہ یہ لوگ ماضی میں بھی ہر سیاسی تنقید کو مسلکی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وزیر اعلیٰ کی انتخاب کیلئے تمام مسالک کے ممبران نے ووٹ دی ہے ۔ایک طبقہ فکر کا خیال ہے کہ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اس وقت احساس کمتری کا شکار ہے اور اُن کے اندر ایک وہم پیدا ہوگیا ہے کہ شائد لوگ میرے ماضی کے کردار کی وجہ سے آج بھی انہیں پسند نہیں کرتے ۔اس وجہ سے اُنکی ذات سے نفرت کا غصہ حکومت پر اُتارا جارہا ہے، جبکہ حقیقت اس سوچ کے بلکل برخلاف ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے عوام میں بیداری کی لہر اُٹھ گئی ہے عوام کو سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کے بعد احساس ہوگیا ہے کہ پچھلے ستر سالوں سے ہمیں صوبے کے نام پر بیوقف بنایا جارہا ہے لہذا اب اس سلسلے کو ختم ہونا چاہئے۔ سوشل میڈیا پر یہ بحث بھی گرم ہے کہ حفیظ کے وہم نے اُن کے وزراء کو بھی ایک طرح سے وہمی مریض بنایا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ نون کا ہر دوسرا ذمہ دار حالیہ عوامی تحریک کو فرقہ واریت سے جوڑنے کی عزام پر چل پڑا ہے۔ عوامی حلقوں میں اس مسلے کو لیکر بہت ذیادہ خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ مہدی شاہ دور میں گندم سبسڈی کے تحریک پر سب سے ذیادہ اُن کے ہم مسلک اور اُنکے حلقے میں احتجاج ہوا اور اُس احتجاج کو گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں خوب پذیرائی ملی ، اُس تحریک کی قیادت کرنے والے رہنما بھی مخالف فرقے کا تھا مگر اُنہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اُنکے عقیدے کی وجہ سے یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ حالیہ ٹیکس مخالف تحریک اور آرڈر 2018 کے خلاف بھی عوام ایشوز کی بنیاد پر اکھٹے ہیں اور اس تحریک کی قیادت بھی حفیظ کے ہم فرقے کے پاس ہے لیکن عوام نے اُنہیں سر پر بٹھایا ہوا ہے،یوں اس وقت گلگت بلتستان کے عوام جنہیں ہر مسلے پر فرقہ واریت کے بھینٹ چڑھاتے رہے ہیں ، اس سوچ کو عوام نے اب مسترد کردیا ہے اور عوام اس سازش کو سمجھ گیا ہے۔ اسی طرح حکومتی عہدے داران کی جانب سے چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی مولانا سلطان رئیس اور بلتستان میں سب سے ذیادہ متحرک عوامی آغا علی رضوی کے خلاف وزراء کی ہرزہ سرائی کو عوام نے بری طرح مسترد کرکے حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ عوام کو اب مزید مسلک اور علاقیت کے نام پر بیوقف نہیں بنایا جاسکتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر حکومتی نمائندوں کے اس حرکت میں اُنہیں آڑے ہاتھوں لیاجارہا ہے اور ذیادہ تر افراد کا یہی کہنا ہے کہ اس وقت اصل مسلہ وزیر اعلیٰ کی انا پرستی کا ہے اُنکا خیال ہے کہ یہ پیکج کیونکہ میرے دور میں آیا ہے لہذا عوام کو اسے من عن تسلیم کرلینا چاہئے،سوشل میڈیا پر اہم سیاسی حوالے سے ایکٹیو حضرات کی طرف سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ آرڈر 2018 کے بہت سے شقات ایسے ہیں جسے ابھی تک حکومت کے ذمہ داران نے بھی نہیں پڑھا ہے لیکن حفیظ الرحمن کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے یہ لوگ بھی عہدوں کی مجبوریوں کی وجہ سے معاشرے میں انتشار پھیلانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوامی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت مسلم لیگ نون کی حکومت میں ذیادہ تر اسکینڈل ذدہ لوگ موجود ہیں اور ہر کسی کو اپنے اسکنیڈلز منظر عام ہونے کی خوف سے بلیک میل ہورہا ہے۔ یوں تین اہم شہروں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں پر جو سروے کیا گیا اُس میں ذیادہ تر لوگ اس وقت متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی کے کردار سے خوش نظر آتا ہے کیونکہ کہا یہ جارہا ہے کہ پہلی بار گلگت بلتستان میں قیادت نے عوام کو روڈ میپ دیا ہے جو کہ یقنیا حفیظ الرحمن کی منشاء کے خلاف ہے اس وجہ سے وہ عوام کو گمراہ کرنے کیلئے فرقہ واریت کی طرف دھکیلنے کی مذموم مقاصد کیلئے لوگوں کو آگے کیا ہوا ہے جسے نئی نسل پر بری طرح مسترد کیا ہے ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

One comment

  1. Jumlay dorost likha karain kafi galatian haon urdu theek karnay ki koshish karain

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*