تازہ ترین

ضلع کھرمنگ میں تعلیمی اصلاحات کا عزم اور سازشیں۔

ایک وقت تھا جب محکمہ تعلیم گلگت بلتستان کو باپ کی جاگیر سمجھ خریدا اور بیچا جاتا تھا ۔میٹرک پاس نائی اپنی دکان بیچ کر ، ٹیکسی والا اپنی ٹیکسی بیچ کر ، موچی اپنا ٹھیہ بیچ کر قوم کے معمار بن رہے تھے ، لاکھوں روپے دینے کے باوجود استاد لگنے کا معیار پاکستان پیپلز پارٹی کا ووٹر ہونا تھا، بے چارہ امیدوار منہ مانگے رشوت دیتا اور ایک آرڈر کے تحت کسی سکول میں ڈیوٹی دینا شروع کرتا، کئی کئی سال “ایڈجسٹ” نہ ہونے کی بناء پر مفت نوکری کرتا، پیسے لینے والوں کے پیچھے ہاتھ باندھ کے کھڑے ہوتا ، ایڈجسٹمنٹ کی بھیک مانگتا ، اور کئی دفعہ دو دو تین تین سال تک مفت نوکری کرنے کیبعد تنخواہیں جاری ہو جاتیں تو بی چارا پھولے نہیں سماتا ، تین سال بعد جب تنخواہ جار ہو جاتی تو معلوم ہوتا کہ موصوف کی سروس کے6 سال ہو چکی ہے ۔ مگر وہ کیسے؟ وہ ایسے کہ تین سال تو اسکی ڈیوٹی کو ہو گئے اور تین سال اس کی بیک ڈیٹ اپوئنمنٹ کو ہو جاتے ، اور ایجوکیشن مافیا کل ملا کر چھ سال کی تنخواہ ہڑٌپ کر چکا ہوتا، امیدوار بیچار تو تین سال مفت کام کرنے کیبعد آج سے تنخواہ جاری ہونے پر خوش ہو جاتا ، چھ سال کی تنخواہ نہ اس کی تھی نہ اس کو اس سے غرض ہوتا ، وہ بیچارہ توآج ایڈجسٹ ہوا اور اسی پہ خوش ۔ سکول میں اساتذہ کی حاضری کا یہ عالم تھا کہ ایک سکول میں ایک بار ڈی ڈی نے وزٹ کیا تو دیکھا کہ کل 21 طلباء ہے اور بارہ اساتذہ ہیں ، وجہ یہ بتائی گئی کہ کیونکہ تمام اساتذہ کرام اس وقت کے ممبر اسمبلی کے ووٹر ہیں اس لئیے انہیں ان کے گاوں سے باہر نہیں بھیجا جا سکتا ، کئی سکولوں میں ایک یا دو اساتذہ ہوتے اور طلباء کی تعداد 60 یا 70 سے زیادہ ہوتی ، اساتذہ اس لئیے وہاں کم ہوتے کہ اس گاوں کے یا اساتذہ کم ہوتے یا پھر رکن اسمبلی کے چیلے نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز کے سکولوں میں ڈیوٹیاں کر رہے ہوتے، اور ان کے اپنے گاوں کا سکول ویران ہوتا ،تب ہماری معلومات کے مطابق 60 سے زیادہ با اثر اساتذۃ کھرمنگ سے باہر ڈیوٹیاں دے رہے تھے یا پھر نام لکھوا کے انشورنس یا کسی اور ادارے میں دوسری نوکری کر رہے ہوتے، تب اساتذہ بھی کم تھے ، کوئی نظام بھی نہیں تھا ، خرید و فروخت بھی جاری تھی ، مگر کسی کو کوئی مسئلہ نہیں تھا ، نہ احتجاج ، نہ نعرے ، نہ مار کٹائی اور نہ روز روز کی لڑائی، پھر اچانک کیا ہوا، پیپلز پارٹی کا سیاہ دور ختم ہوا، ن لیگ والوں نے حکومت سنبھالی ، اور کسی حد تک میرٹ بحال ہوا، ایجوکیشن مافیا کو کچھ لگام دیا گیا، تقرریاں این ٹی ایس کے ذریعےہونے لگیں ، سیاسی مداخلت کچھ کم ہوا، اساتذہ کی ترانسفر پوسٹنگ پہ سیاست کافی حد تک کم ہوئی ، کھرمنگ میں دیکھا جائے تو یہ معاملات بہت بہتر ہوئے ، سکولوں میں اساتذہ کو نظم و ضبط کا پابند بنایا گیا،ڈیوٹیاں پوری لینے لگ گئے، تب نذیر شگری صاحب ڈی ڈی تھے انتظامی معاملات میں کافی بہتری لائے ، لیکن ابھی بہت کچھ کرنا باقی تھا، کرپشن مافیہ کا اثر رسوخ ختم نہیں ہو سکا تھا کہیں کہیں پرانے طور طریقے دہرائے جا رہے تھے ، پھر اچانک کچھ ایسا ہوا کہ ڈی ڈی صاحب سابق کرہت مافیا کے زیر اثر آگئے اور کچھ سابق این آئی ایس اساتذہ کو کھپانے کی کوشش شروع ہو گئی ، اس بار جوان تیار تھے ، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے ایشو ہائی لائیٹ ہوا اور انہیں چوری چھپے کئیے جانیوالے آرڈر واپس لینے پڑ گئے، تب بھی کوئی مار کٹائی نہیں تھی ، کوئی جھگڑا نہیں تھا ، کوئی احتجاج کوئی دھرنا نہیں تھا، کہیں بھی اساتذہ سکولوں کے بچوں کو لیکر روڈ پہ نہیں آئے، پھر کیا ہوا ؟ پھر کیا ہوا کہ ایک مقامی استاد جن کی شہرت اظہر من الشمس تھی ، جن کی ایمانداری کا ڈھنکا بجتا ، جنکی کرپشن مخالف ایک جد وجہد کی طویل تاریخ تھی ، جن کے خلوص کی مثالیں دی جاتیں ، جن کی اصول پسندی اپنی مثال آپ تھی، سادہ طبیعت ، درویش صفت یہ شخص جن کی اصول پسندی ہی ان کی ترقی میں رکاوٹ بنی ہوئی تھی ،ان سے جونئیر ڈی ڈی بن گئے تھے وہ نہ بن پائے تھے ، ڈپٹی ڈائریکٹر کیلئے ہونے والے ایک ٹیسٹ میں ٹاپ کر کے تمام رکاوٹین پھلانگتے ہوئے ڈی ڈٰی کے مسند پہ جا بیٹھے، پہلے استور پھر کھرمنگ میں ڈیوٹی لگے، علاقے کیلئے غلام ؐمحمد حیدری کی خدمات پہلے ہی کافی تھی اب پورے محکمے کا سربراہ بن کر مزید خدمات انجام دینے کے جذبے سے سرشار تھے، وہ ایجوکیشن سے لوٹ مار ، چوری ڈاکہ ، اقربا پروری ، سیاسی مداخلت اور اثر رسوخ کا خاتمہ کر کے ایک شفاف نطام لانا چاہتے تھے ، انہوں نے آتے ہی تمام سکولوں کے طوفانی دورے شروع کئے ، محکمے سے گاڑی نہیں ملی تو موٹر سائیکل پہ بارڈر تک چلے گیے ، سکولوں کے دورے کئیے ، اساتذہ کے مسائل سنے ، کمیونٹی کی شکایات سنی موقع پر احکامات دیکر مسائل حل کئے، وہ بحیثیت ایک سینئیر استاد کے پورے کھرمنگ کے تعلیمی مسائل سے واقف تھے ، بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت محسوس کرتے تھے ، مگر جب وہ آئے تو امتحانات قریب تھے ، اساتذہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ سے نہیں چھیڑا ، پھر جب امتحانات ختم ہوئے ، اصلاحات کی منصوبہ بندی کی ،بڑے سطح پر اساتذہ کی ترانسفر پوسٹنگ کا پروپوزل بنایا ، ایسے اساتذہ پر ہاتھ ڈالا جن پر کھرمنگ کی تاریخ میں کبھی بھی ہاتھ نہیں ڈالا گیا تھا ،کیونکہ وہ سیاسی اثر رسوخ رکھتے، ترانسفر ہو بھی جاتا تو اپنے اثر رسوخ کے بل بوتے پر واپس آجاتے، ایسے اساتذہ کو نوٹس جاری کر دیا جو ڈسٹرکٹ سے باہر ڈیوٹی دیتے،ان سب کو تقریبا واپس لانے میں کامیاب ہوئے ، جو نہ آئے ان کو آخری نوٹس جاری ہوچکے، چھٹاں ختم ہوئیں ، پروپوزل سیکریٹری کو بھیج دیا ، چاہتے تھے کہ اکیڈمک سال شروع ہونے سے پہلے ٹرانسفر پوسٹنگ کا مرحلہ مکل ہو ، مگر ایک بار پھر سیاسی مداخلت آڑے آئی ، کھرمنگ سے رکن اسمبلی اور وزیر پلاننگ کی آشیرباد ہونے کے باوجود پروپوزل سیاسی مداخلت کیا شکار ہوگیا، ٹرانسفر پوسٹنگ رک گئی ، اس لئیے کہ اس پوسٹنگ پروپوزل کے نتیجے میں بڑے بڑے مگرمچھوں نے بے کھاتہ ہونا تھا، بڑے بڑے بااثر لوگوں کو اوقات پہ آنا تھا ، سکردو شہر کے میکنوں نے کھرمنگ کے غریب اور دور دراز کی دیہاتوں مین ڈیوٹیاں کرنی تھی ، اسلئیے پروپوزل کو منطور نہیں ہونے دیا گیا، مگر اس بار ڈی ڈی صاحب کی مدد کیلئے کھرمنگ یوتھ آگئی ، وزیر پلاننگ کو خط لکھا ، سیکریٹری تعلیم تک رسائی حاصل کی گئی ، آخر کار ڈی ڈی صاحب کھرمنگ یوتھ اور کچھ علماء کی مدد سے اپنے پروپوزل پہ عمل درآمد کرنے میں کامیاب یوئے اور برے بڑے لوگوں کو تاریخ میں پہلی بار بڑے منفعت بخش عہدے چھوڑنے پڑے ، گھر گاوں ، محلہ چھوڑ کر ڈیوٹیاں دینی پڑی، دور دراز دیہاتوں میں جانا پڑا ، تب اچانک سب کو معیار تعلیم کی فکر لگ گئی، بچے سڑکوں پر آنے لگ گئے ، اساتذہ کی کمی کا رونا رونے لگ گئے، دھرنے ہونا شروع ہو گئے ، ایک استاد کی عدم تعیناتی کے غم میں سکول کی بچیاں بے ہوش ہونے لگ گئیں ، ہسپتالوں میں بچیوں کا تانتا بندھ گیا،عجیب بیماری تھی ، سکول کے ہیڈ ماسٹر کے ترانسفر کے ساتھ رخصت ہو گئی، ڈی ڈٰی صاحب جہاں جہاں مسئلے کی نشاندہی ہوتے بھاگ بھاگ کر پہنچ جاتے اور مسئلہ حل کر آتے، مگر یہ کیا کی شکایتیں بڑھتی گئیں ، نعرے بڑھتے گئے، یہاں تک کہ اب ڈی ڈی صاحب سے باقاعدہ ” معیار تعلیم ” کیلئے ہاتھا پائی اور دست درازی کرنے لگ گئے، بچوں کو سرکوں پہ لایا گیا ، نعرے لگوائے گئے ، کار پیغمبری کو گالی ساز فیکٹری بنا کر بچوں کو روڈ پہ لاکر ڈی کے خلاف نازیبا نعرے لگوائے گئے ، معلوم ہوا بیماری نہ معیار تعلیم ہے اور نہ اساتذہ کی کمی ، بلکہ بیماری آرام طلبی کی ہے ، بیماری گھر میں بیٹھ کر روٹیاں توڑنے کی ہے، بیماری ہڈ حرامی کی ہے ، بیماری کام چوری کی ہے ، اب اس بیماری کی تشخیص ہوئی ہے تو امید ہے کہ اس کی دوا بھی ہو جائیگی ، ایک آدھ وائرس کو بتایا جاتا ہے لبارٹری ٹیسٹ سے گزارا جا رہا ہے امید ہے کوئی چوہے مار قسم کی دوائی دریافت ہو جائیگی جو مندرجہ بالا تمام بیماریوں کا علاج کرے گی، امید ہے اپنے گھر کے آفیسر کے خلاف سازشوں کے راز سے پردہ اٹھ جائیگا،اور سازشیوں کی شان میں بھی اچھے اچھے اور مفید اقدامات اٹھائے جائیں گے، امید واثق ہے کہ محکمہ تعلیم کھرمنگ کی نہ سدھرنے والی بیماری کو شفاء بخشنے کا جو مشن لیکر غلام محمد حیدری نکلے ہیں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا، کھرمنگ کے یوتھ، مخلص علماء ، عمائیدین تعلیم دوست کمیونٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے تعلیم دشمن ناکام و نامراد ہوں گے ، اور شیخ علی ، اسد زیدی شہید اور شیخ غلام محد مرحوم کی مردم خیز سرزمین اپنی زرخیزی سے دوبارہ انہیں طرح کی شخصیات کا جنم شروع کرے گی ، اس بار اس زرخیزی کے کاشتکار ڈی ڈی غلام محمد حیدری ہوں گے، ان شاء اللہ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*