تازہ ترین

میں کون ہوں ۔۔؟(قسط دوم)

پرندہ خشک جھیلوں سے یہی اب کہہ گیا آخر
مجھے مجبور ہجرت پر میرے حالات کرتے ہیں.
فاٹا کی عوام کو مبارک خیبر پختون خواہ میں ضم ہوگیا , شناخت مل گئی نہ ایف سی آر رہا بلکہ پولیٹیکل ایجنٹ سے چھٹکارا ہوا لیکن جب میں سوچتا ہوں دفاعی اعتیبار سے انتہائی اہم خطہ ارض گلگت بلتستان کا وہ خطہ جس کا بارڈر 3 اہم اور ایٹمی ممالک سے جا ملتے ہیں اور پاک چین راہداری گلگت بلتستان کی وجہ سے اب ممکن ہوا لیکن انہیں پھر محروم رکھا گیا اصلاحات پیکچ 2018 کے نام سے گلگت بلتستان کی عوام کو بیوقوف بنایا گیا. اصلاحات 2018 پوری عوام گلگت بلتستان نے مسترد کردی. اور کہا ہمیں آئین چائیے حقوق چائیے. لیکن سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اس خطے کو کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے کشمیر کاز کا حصہ قرار دیکر اگر کشمیر کاز کا حصہ بالفرض ہیں تو پچھلے دنوں میں مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں اربوں کھربوں روپیوں کی ترقیاتی بجٹ رکھے ہیں. کارگل لداخ کے آخری گاؤں تر ٹرک روڈ اور ہر سہولیات میسر ہیں لیکن ادھر پاکستان میں عوام گلگت بلتستان خصوصا بارڈر ایریاز کی عوام کو سفری سہولیات بھی میسر نہیں ایسا کیوں ؟ گلگت اسکردو روڈ کی حالت دیکھیں جس کی مرمت رات کی اندھیروں میں اللّہ جانتا ہے کس طرح ہورہی ہے کوئی بولنے والا نہیں شہید پل ٹوٹ گیا اب بلتستان میں مال بردار گاڑیاں ٹرک نہیں جاسکتے اس سے پہلے عالم برج کی خستہ حالت کی وجہ اے ٹرک ہاف لوڈ کرکے گزرتے تھے. یہ ہوگئی سٹرکوں اور انفراسٹکچرز کے حالات. دوسری جانب آپ تعلیم کی بات کرے تو وہاں سو فیصد خواندگی ضرور ہیں لیکن وہ خواندگی صرف نائب قاصد اور چوکیدار کے علاوہ کسی پوسٹ کے اہل نہیں ہوتے اعلی تعلیم حاصل کرنے کیلئے شہروں کا مجبورا رخ کرتے ہیں جہاں والدین اپنے بچوں کی ڈگریوں کے انتظار میں رہتے ہیں وہاں سفید کفن میں لپٹا کر تشدد زدہ لاش بھیجے جاتے ہیں دلاور شہید کی مثال لیں جس سے لاہور میں غنڈؤں نے بدترین تشدت کا نشانہ بنا کے شہید کیا. ہم اپنے گھر بار والدین چھوڑ کر دیار غیر میں اس لئے آتے ہیں تاکہ یہاں تعلیم حاصل کر سکوں کیونکہ گلگت بلتستان میں بھی میڈیکل , انجنئرنگ اور دوسرے فیلڈ کے کالجز اور ایک بھی یونیورسٹی نہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہیں. یہاں پر آنے والے طلبہ مختلف صوبوں میں میڈیکل اور انجنئرنگ یونیورسٹیز میں داخلے کیلئے فارم جمع کرتے ہیں ٹیسٹ وغیرہ سب کچھ پاس کرنے کے باوجود گلگت بلتستان کے 90 فیصد مارکس لینے والے طالبہ کو یہ کہہ کر واپس کردیتا ہے کہ گلگت بلتستان کا کوٹہ پورا ہوگیا پھر اسی کالج یا یونیورسٹی میں دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے 60 فیصد کے ساتھ انٹرمیڈیٹ کرنے والا ہونہار طالبعلم کا داخلہ ہوجاتا ہے کیا یہ گلگت بلتستان کے ہونہار طالبعلموں کے ساتھ زیادتی نہیں ہے ؟ پھر ہم آتے ہیں صحت کی طرف آج کل سب سے زیادہ دل کی بیماری گلگت بلتستان میں عوام لو لگ رہی ہےبوجہ ناقص کھانے کی غذا وہاں کوئی چیک کرنے والا نہیں کہ یہ ٹرک یا ٹینکر کہاں سے آرہا ہے اس کے پاس پرمٹ ہے کسی جانے پہچانے برانڈ کے آئل ہے یا نہیں زاید میعاد تو نہیں ؟؟ کوئی تصدیق یا چیک کرنے والا نہیں پھر کسی کو دل کی بیماری لگ گئی تو سب سےپہلے ای سی جی کرتےطہیں اگر وہ خراب آیا تو ائیکو کرت ہیں مزے کی بات بلتستان کے صدر مقام ڈی ایچ کیو ہسپتال میں ائیکو کرنے کے آلات تک موجود نہیں باہر کلینکس میں بھاری فیس وصول کرکے کی جاتی ہے پھر ائیکو میں مسئلہ آئے صحیح تحقیق نہ ہوا تو ای ٹی ٹی کرواتے ہیں وہ صرف سی ایم ایچ میں کرواتے ہیں جس کیلئے ہفتوں اپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا ہے اور پھر وہ بھی خراب آتا ہے تو انجیوگرافی کرواتے ہیں اس کےتو آلات پورے گلگت بلتستان میں نہیں وہ راولپنڈی ریفر کرتے ہیں یہاں آتے آتے مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے اس کے ذمہ دار کون ؟؟؟ ایک شعر ان سب باتوں کے بعد
کسی نے دھول کیا آنکھوں میں جھونکی
میں اب پہلے سے بہتر دیکھتا ہوں.
اب آتے ہیں فاٹا اصلاحات اور فاٹا کو کے پی کے میں ضم کرنے کی ہم مبارکباد دیتے ہیں عوام فاٹا کو ہم اس کے خلاف نہیں لیکن ہمیں اس طرح نظرانداز کیا گیا گویا کہ ہم کسی دوسرے سیارے کے مخلوق ہیں اس کیلئے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کسی کہ شرافت کو کمزوری نہ سمجھے اگر یہ باغی ہوجائے تو حرام, حلال, جائز, ناجائز, کچھ بھی نہیں دیکھتیں. تو حکومت پاکستان سے ہم عجیب لوگ جو کہ پاکستان کے ساتھ ملنے اور ضم ہوکر آئینی حقوق مانگ رہے ہیں شاید دنیا میں آپ کو ایسی کوئی تحریک ملے.بس ہم گلگت بلتستان کے باسی اسی خوش فہمی میں ہیں کہ ہم پاکستان کا حصہ بنیں گے.
خوش فہمیوں کے سلسلے اتنے دراز ہیں
ہر اینٹ سوچتی ہے کہ دیوار مجھ سے ہے.

والسلام
تحریر: علی آصف بلتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*