تازہ ترین

گلگت بلتستان آرڈنینس 2018 ایف سی آر سے مشابہت اور کالا قانون قرار، عوام ،طلبہ اور نوجوانوں نے اسے مسترد کردیا۔

کراچی، اسلام آباد ،گلگت،سکردو،(سروے رپورٹ)گلگت بلتستان آرڈنیس 2018 کو جی بی کے عوام اور نوجوانوں کی بڑی تعداد کالا قانون قرار دے رہاہے۔نوجوانوں کی مختلف تنظیمیں اس مسئلے کو لے کر بہت ہی مضطرب دکھائی دے رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پچھلے 70 سالوں سے ہمیں ہر طرح کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا لیکن ہم نے وطن کیلئے جان قربان کرنے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ہماری قربانیوں کا صلہ وفاق نے ہمیں محروم و محکوم رکھ کر دیا ہے۔یہ آرڈنینس 2018 جو کہ گلگت بلتستان کے عوام کو جدید غلام بنانے کی تیاری ہے ہم اسے کالا قانون قرار دیتے ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹز ٹیوٹر اور فیس بُک پر جوانوں کی اپنے سرزمین کے حقوق کی جو آوازیں بلند ہو رہی ہے ۔یہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے نوجوان اب اپنے حقوق کی حصولی کیلئے بھرپور تحریک چلانے کیلئے تیار کھڑے ہے۔دوسری جانب متحدہ اپوزیشن جو گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار اپنے علاقائی حقوق کیلئے اسلام آباد میں کمر بستہ نظر آرہی ہے ۔یہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے جا رہے جب ممبران اسمبلی کی بڑی تعداد نے گلگت بلتستان کےحق کیلئے اسلام آباد سرکار کے اسمبلی کے باہر دھرنا دیے ہو۔اپوزیشن اراکان اسمبلی نے عوامی حقوق اور گلگت بلتستان کی عالمی حیثیت کے تناظر میں کشمیر طرز کا سٹیٹس دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ساتھ ہی اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی سمیت اندرونی خودمختاری کا بھی مطالبہ کرتے نظر آرہے ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی،گلگت بلتستان سپریم کونسل اور بلتستان ریجن میں بنیے والی نوجوانون سیاست دانوں کی عوامی الائنس بھی اس آرڈنینس کو کالا قانون قرار دے چکا ہے۔نوجوان سیاست دانوں پر مشتمل یہ اتحاد گلگت بلتستان آرڈنینس 2018 کے حوالے سے سکردو میں ایک کامیاب عوامی جلسہ بھی کر چکا ہے ۔عوامی ایکشن کمیٹی جو گلگت بلتستان کی سرزمین پر آغا علی اور سلطان رئیس جیسے قدآوار اور بے باک قیادت کی وجہ سے دونوں ریجن میں مقبول ہے ۔ان کی مرکزی قیادت نے بھی آرڈنیس 2018 کو لے کر پھر عوام میں جانے کی دھمکی دی گئی ہے۔جبکہ گلگت بلتستان اسمبلی کے کچھ حکومتی ارکان بھی اس آرڈنینس سے خوش نہیں ہے۔ممکن ہے جب وفاقی حکومت کی مدت پوری ہو جائی گی تو وہ بھی کھل کر اس آرڈنیس کی مخالفت میں میدان میں اتر آئے۔گلگت بلتستان کے قوم پرستوں پر مشتمل ایک نیا اتحاد گلگت بلتستان سپریم کونسل قائم کی گئی ہے جس میں نواز خان ناجی،احسان ایڈوکیٹ ،تعارف عباس،ڈاکٹر عباس،منظور پروانہ،شہزاد آغا اور دوسرے قوم پرست جماعتوں کے رہنما شامل ہے۔جو گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کو یقینی بنانے کیلئے عزم لے کر آگے بڑھتے نظر آرہے ہیں۔اگر چہ گلگت بلتستان کے بنیادی حقوق کے بارے میں شعور اجاگر میں قوم پرست تنظیموں کا بہت بڑا کردار ہے لیکن وفاقی حکومت کی ظالمانہ پالیسی سے ڈر کر عوام ان کے ساتھ دینے سے گریز کرتے تھے لیکن اب عوام اپنے حقوق کیلئے اٹھ کھڑے نظر آتے ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد قوم پرست تنظیموں کیلئے ہمدردی رکھتے نظر آرہے ہے۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*