تازہ ترین

مردم شماری میں کراچی کی طرح گلگت بلتستان کی آبادی بھی سکٹر گئی، ایسا نتیجہ کہ انسانی عقل حیران ہوجائے۔

اسلام آباد ( نامہ نگار) گلگت بلتستان کی کُل آبادی کا تخمینہ بیس لاکھ سے ذیادہ لگایا جارہا تھا لیکن مردم شماری کے اعداد شمار نے دنیا کو حیران میں مبتلا کر دیا۔ حالیہ مردم شماری کے مطابق گلگت بلتستان کی کُل آبادی 1492000 بتایا جارہا ہے، جس میں دیامر( دو لاکھ تیس ہزار)،استور( نوے ہزار)،گلگت (تین لاکھ تیس ہزار)،ہنزہ (پچاس ہزار)،نگر(ستر ہزار)غذر( ایک لاکھ ستر ہزار)، سکردو( دو لاکھ پچاس ہزار)،کھرمنگ( پچپن ہزار)،شگر (پچہتر ہزار) اور ضلع گانچھے (ایک لاکھ ساٹھ ہزار) بتایا جارہا ہے۔
تعجب کی بات ہے کہ گلگت بلتستان کی آبادی میں شرح اٖضافہ پاکستان کے چاروں صوبوں کہیں ذیادہ بتایا گیا لیکن اس خطے کی آبادی کو اس قدر کم کرکے کن عوامل کو خوش کرنے یا مقاصد کارفرما ہیں سمجھ سے بالاتر ہے۔ مستقبل میں گلگت بلتستان کے عوام کواس مردم شماری کی وجہ سماجی معاشرتی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اس سے بھی بڑھ ایک اہم مسلہ سے مردم شماری کے دنوں میں سوشل میڈیا پر مسلسل یاد دہانی کرانے کے باجود، کہ پاکستان کے مختلف شہروں اور دنیا بھر میں وقتی طور مقیم گلگت بلتستان کے شہریوں کو جو لاکھوں میں ہیں شامل نہیں کیا گیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ معاشرے کے ذمہ داران اس رزلٹ کو قبول کرتے ہیں یا سندھ حکومت کی طرح اپنی تحفظات کا اظہار کرسکتے ہیں۔ لیکن مقامی حکومت کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے کہ اںہوں نے آنکھیں بند کرکے رزلٹ قبول کرنا ہے۔

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*