تازہ ترین

متحدہ اپوزیشن جی بی قانون ساز اسمبلی کا اسلام آبادمیں پریس کانفرنس، پیکج 2018 غلامی کا طوق قرار، آئینی صوبہ یا کشمیر طرز کے سیٹ کا مطالبہ۔

اسلام آباد( پریس ریلز) متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ،نواز خان ناجی، محمد جاوید، کاچو امتیاز علی خان ،راجہ جانگزیب نے اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائرڈ محمد شفیع خان کی قیادت میں نیشنل پریس کلب اسلام آباد پریس کلب پر ایک پرہجوم پریس کانفرنس کیا۔ تفصیلات کے مطابق اس پریس کانفرنس کا مقصد وفاق میں گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیوں کے حوالے سے احتجاج ریکارڈ کرنا اور مسلم لیگ نون کی جانب سے تیار کردہ گلگت بلتستان پیکج2018 کے حوالے سے عوامی خدشات کا اظہار کرنا تھا۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے متحدہ اپوزیشن کے رہنماوں نے جی بی آرڈر 2018 کے ممکنہ نفاذ کے خلاف پارلیمنٹ ہاوس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ اُنکا کہنا تھا کہ حکومت گلگت بلتستان پیکج2018 کی شکل میں گلگت بلتستان کے عوام کو غلامی کا طوق پہنانا چاہتے ہیں جسے روکا جائے گا۔ کپٹن شفیع کا کہنا تھا کہ عجیب المیہ ہے جس شخص کو ووٹ دینے کا ہمارے عوام کو حق حاصل نہیں ایسے شخص کو گلگت بلتستان کی سیاہ سفید کا مالک بناکرانسانی جمہوری حقوق پامال کرنے کی کوشش کی گئی، آئین پاکستان میں کسی وزیر اعظم ،وزیر اعلیٰ یا انتظامی سربراہ کو آئین سازی کا اختیار نہیں دیتا بلکہ صرف انتظامی اختیارات دیتا ہے۔ جبکہ حالیہ اصلاحاتی پیکج آڈر کے تحت تمام تر اختیارات اور تمام انتظامی اور آئین سازی کے اختیارات وزیر اعظم کے ہاتھوں میں دیکر تمام آئینی اور قانونی تقاضوں کو پاما کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام اس آرڈر کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ گلگت بلتستان کیلئے جو بھی نظام دینا ہے اُسے آئین میں ترمیم کرکےآئینی ایکٹ کی شکل میں دے دیں، اس حوالے سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کی سابقہ قراداد واضح طور پر موجود ہیں۔ جس کے تحت مکمل آئینی صوبہ بنانے کا مطالبہ ہے۔اس سلسلے میں مقبوضہ کشمیر طرز پر خطے کی متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے ریاست کا درجہ دیا ہوا ہے اور سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بھی تحفظ دیا ہے۔ مگر اس حوالے سے حکومت پاکستان کو کسی قسم کی مجبوری کا سامنا ہے تو ہمیں آذاد کشمیر کے طرز پر سیٹ دیا جائے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا بھی یہی مطالبہ۔ اس سے ہٹ کر کسی پیکج یا اصلاحات کے نام پر آرڈرکا نفاذ کیا گیا تو خطے کے عوا م احتجاج پرمجبور ہوگی اور اپوزیشن اتحاد جی بی کے عوام کو کے ساتھ ملکر گلگت بلتستان جام کرنے پر مجبور ہونگے۔اس حوالے سے کسی بھی قسم کے حالات کے ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہوگی۔ اپوزیشن اتحاد گلگت بلتستان سی پیک کے تناظر میں گلگت بلتستان کے حساسیت کے پیش نظر نہیں چاہتا کہ گلگت بلتستان میں حالت خراب ہو مگر اگر حکومت کسی غلامی آرڈر کے ذریعے حالات خراب کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر ہم خبرادر کرتے ہیں کہ تمام تر ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوگی۔

  •  
  • 36
  •  
  •  
  •  
  •  
    36
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*