تازہ ترین

سکردو میں پرائس کنٹرول اٹھارٹی نہ ہونے کی وجہ سے دوکاندار بے لگام، عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔

سکردو(نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں جہاں نظام زندگی کے دیگر مسائل کا کوئی پرسان حال نہیں وہیں پرائس کنٹرول اتھارٹی کا غیر فعال ہونے یا وجود ہی نہ ہونے کی وجہ سے سکردو کے دوکاندار قاصی بنا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سکردو بازار میں اس وقت گراں فروشی عروج پر ہے ہر چیز قیمت خرید سے دو سو فیصد ذیادہ منافع رکھ کر فروخت کیا جارہا ہے۔ اس وقت اگر ہم موبائل مارکیٹ کی بات کریں تو سکردو میں موبائل کی دوکان والے آنکھ بند کرکے عوام کو لوٹنے میں مصروف ہے۔ ایک معمولی نوعیت کا سامان جو راولپنڈی میں اگر 20 روپے کا ملتا ہے تو سکردو میں 100 روپے کا فروخت کیا جارہا ہے۔ اسی طرح موبائل کی قیمتوں میں شہروں سے سکردو کی مارکیٹ میں آسمان زمین کا فرق نظر آتا ہے جبکہ تمام موبائل سیلر کمپیناں شہروں کی قیمت پر سمارٹ فونز سکردو پونچاتے ہیں۔ اسی طرح اگر الیکٹرانک یا سپیر مارکیٹ کا رخ کریں تو وہاں بھی لوگوں کا یہی رونا ہے۔ معمولی پرزہ جو راولپنڈی میں 50 کا ہے تو سکردو میں 150 کا فروخت کیا جارہا ہے ، اسی طرح مارکیٹ میں جعلی الیکٹرانگ ایٹم اور مشینری پرزہ جات کی بھرمار ہے جسے اصل کا نام دیکر اصلی کی قیمت سے بھی کہیں ذیادہ نرخ پر فروخت کیا جارہا ہے۔ بجلی کے آئٹم پلمبر کے آئٹم کی بات کریں تو بھی لوگوں نے عوام کو لوٹ کر معمولی دوکان سے بہت بڑا مارکیٹ بنایا ہے لیکن اس قسم کے اہم مسائل اور کاروباری حضرات کی لوٹ مار کو کوئی پرسان حال نہیں۔اسی طرح اگر سبزی مارکیٹ کی بات کریں تو گلے سڑے فروٹ رمضان کے مبارک مہینے میں بھی مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے لیکن محکمہ لوکل گورنمنٹ اور بلدیہ کو ادارتی کرپشن سے فرصت نہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دوکانداروں کو معلوم ہے کہ سکردو میں روزہ مرہ کی اشیاء ضرورت کا مہنگے داموں خریدنا عوام کی مجبوری ہے کیونکہ عوام کے پاس کوئی دوسرا آپشن موجود نہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ سکردو کی مارکیٹ میں گراں فروشی اور غربت کے ستائے غریب عوام کو لوٹنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کریں اور سکردو میں پرائس کنٹرول اٹھارٹی کی فعالیت کو یقینی بنائیں کیونکہ اس وقت یہ سب کام بازار کمیٹی کی ملی بھگت سے ہورہا ہے۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*