تازہ ترین

تعلیم یافتہ اور تعلیم زدوں میں فرق۔۔

اور ہم نے تم میں سے ایک رسول مقرر کیا جو تم پر ہماری آیتوں کی تلاوت فرماتا ہے اوتمہیں پاک کرتا اور کتاب اور پختہ علم سکھاتا ہے اور تمہیںوہ تعلیم فرماتا ہے جس کا تمہیں علم نہ تھا۔ (سورۃ بقرہ ۱۰۱)
علم و تعلیم خداوندرب العزت کی طرف سے بنی نوع انسان کیلئے وہ تحفہ ہے جس نے انسان کو اشرف المخلوقات کے اعٰلی ترین مقام پر فائز کیا۔خدا کے عزیز و اقارب ترین اشخاص جن میں پیغمبر ، انبیاء اور بزدگان دین شامل ہیں وہ سب کے سب خدائے دو جہاں کے اس مقدس ثمر سے بہرہ مند ہوئے اور انسانی تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے۔
گویا یہ بات اظہرمن الشمس کی طرح عیاں ہوگئی کہ تعلیم اور علم خدا کی خاص اور مقدس ترین نعمت اور رسولوں کو خدا کی طرف سے عطا کردہ وہ سنت ہے،جو انسان اور کائنات میں بسنے والے تمام مخلوقات کے فلا ح و بہود کیلئے عمل میں لایا گیا اور یہی وہ واحد ذریعہ بھی تھا جس نے ایک ٓانسان کو تخلیقِ خدا وندی کے اسرار کو سمجھنے اور مشکشف کرنے کی قابلیت عطا کی اور یہی وہ راستہ تھا جس نے خدا اور بشر کے رابطے اور تعلق کومضبوط سے مضبوط تر کیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم (انسان) اس مقدس اور افضل ترین ثمرو نعمت کو اُس تعظیم و احترام کے ساتھ اگلے نسل کو منتقل کرنے کے قابل ہیں؟ جس طرح بزدگان دین نے کیا تھا۔میرے خیال میں ہر ذی شعور انسان اس کا جواب نفی میں دیگا۔اس سوال کا سادہ سا جواب کچھ اس طرح دیا جاسکتاہے کہ آج کے دور میں تیسری دنیا اور بالخصوص پاکستان کی ایک بڑی تعداد تعلیم ،علم اور ڈگری کو پیسہ کمانے کا ذریعہ، بزنس اور غرور کا اعلٰی ترین سرٹیفکیٹ سمجھتے ہیں۔جس سے صرف انفرادی فوائد اور مقاصد وابستہ ہیں۔حالانکہ تعلیم کو تاریخ ِانسانی کے آئنیے میں دیکھا جائے تومعلوم ہوتا ہے کہ ہر کامیاب ہستی نے اپنی علم و ہنراور تمام تر اکتسابی صلاحیتوں کو معاشرے کی فلا ح و بہود کیلئے استعمال کیا اور تاریخ میں ہمیشہ کیلئے زندہ ہوگئے۔ پیغمبر اسلام کی شخصیت اسکی سب سے بڑی مثال ہے۔ پیغمبر اسلام کی حیاتِ مبارکہ، سیرتِ طیبّہ، سنّتِ مطّہر اور آپﷺ کی بصیرت افروز احادیث و اقوال کے مطالعہ سے بخوبی واضح ہے کہ علم اور حصول علم کس قدر ضروری اور مقدس فریضہ ہے۔رسول پاکﷺدنیاوی طور سے تو بالکل ناخواندہ تھے، ان کے پاس نہ کوئی یونیورسٹی کی ڈگری تھی اور نہ ہی کوئی تعلیمی سرٹیفکیٹ۔لیکن رسول پاکﷺ کو خدائے ذوالجلال نے بذریعہ وحی جس مقدس علم (علمِ لَدُّنی) سے سرفراز فر مایا تھا اس مقدس علم میں انسانیت کیلئے رُشدو ہدایت اور بقا کے اسرار پوشیدہ تھے۔آج حضرت انسان نے عقلی صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے مختلف قسم کے علوم سے انسانی معاشرے کو ضرور بہرہ ور کیا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے بالخصوص ہمارا مشرقی معاشرے میں تعلیم یافتہ افراد کے اندر کچھ طبقات ایسے بھی ہیں جو تعلیم کو صرف ذاتی مفادات حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تعلیم نے ایسے افراد کو بصرت بخشنے کی بجائے عقلی غرور (intellectual Vanity) میں مبتلا کردیا ہے۔انسانی تاریخ میں دنیا کی تمام تہذیبوں نے انسان کو والدین کی عزت اور خدمت کا درس دیا ہے، اب تعلیم انسان کو اپنے والدین سے چھٹکارہ حاصل کرنے کا نسخے سکھاتا ہے۔ پہلے تعلیم وطن اور ملک کی وفاداری کا درس عطا کرتا تھا اور اب ذاتی مفادات کیلئے وطن میں کرپشن اور غداری کا ہنر سکھلاتا ہے۔پہلے تعلیم زمین اور ماحول سے محبت اورحفاظت کا علم دیتا تھا،اب تعلیم مضر صحت کمپینوں کی شکل میں زمین اور ماحول کی تباہی کا ذریعہ بن گیا ہے۔حالانکہ مغرب میں علم کو ملکی مفادات اور معاشرتی اقدار کے دفاع کرنے والے افراد کو تعلیم آفتہ کہا جاتا ہے۔کیا مشرق کے یونیورسٹیاں صرف پیسہ کمانے کا ہنر سکھانے والی کمپنیاں ہیں؟جو خود فیسوں کی شکل میں مال کماتے ہیں اور عالب علموں کو ملک میں کرپشن کرکے پیسہ کمانے کا درس دیتے ہیں۔تعلیم یافتہ افراد کے یہ روّیے اور تعلیم کے خوبصورت چہرے پر بدنما داغ جیسی انتہائی گھنائونی اور انسانی اخلاقیات سے کوسوں دور جرائم کے یہ سدا بہار باغ صرف اس مملکتِ عزیز ہی کی زینت کیوں بنے ہوئے ہیں؟؟
کیا وجہ ہے کہ 60 سال سے زائدعرصہ گزرنے کے باوجود کوئی نامور سائنسدان پاکستان جنم نہیں دے سکی؟ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم کے وزارت کو کوئی پروفیسر یا ماہر تعلیم نہیں بلکہ بزنس مین یا کوئی ایسا بندہ چلاتا ہے جسکا تعلیم سے دور دور کا بھی واسطہ نہیںجو اس سر زمین کیلئے کو ئی المیہ اور سانحہ سے کم نہیں۔
ملک کی اس تعلیمی پستی اور زبوں حالی کیلئے میں تعلیم کو ہرگز موردِ الزام نہیں ٹہراتا اور نہ ہی اس مملکت کے نابغہ روزگار ماہرین تعلیم کی مخالفت کر رہا ہوں بلکہ میں آج کل کے تعلیم زدوں کے ـ’’ نظریہِ تعلیم اور استعمالِ تعلیم و ڈگری‘‘ کی خوبصورت تعریف بیان کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ تعلیم کی یہ تعریف صرف مشرق اور بالا خذ ہمارے ہی ملک میں کیوں؟؟جہاں دین کے بڑے بڑے علماء کرپشن اورمنافرت کا علم لے کر ملک میں نفرت اور غصے کے ماحول کو گرم کررہے ہیں۔حالانکہ ان کی اصل ذمہ داری معاشرے میں امن اور بھائی چارگی کو برقرار رکھنا ہے۔اگر تعلیم اور علم کو اس کے اصلی صفات کے ساتھ استعمال نہیں کیا گیا تو یہ ملک مفاد پرستوں اور غداروں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔ میری ملک کے تعلیمی اداروں سے اپیل ہے کہ ملک کو تعلیم آفتہ افراد دینے کی کوشش کی جائے نہ کہ تعلیم زدے۔
رب العزت ہمیں اور ملک کے ہر طالب علم کو تعلیم اور علم کی اصلی روح سے ہم سب کوفیض حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ امین

تحریر: وجاہت عالم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*