تازہ ترین

قومی حقوق کے معاملے پر وزیر اعلی نے آستین کے سانپ کا کردار ادا کیا۔ سعدیہ دانش

گلگت (پ۔ر) پیپلز پارٹی گلگت بلتستان کی صوبائی سکریٹری اطلاعات سعدیہ دانش نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے حقوق کے معاملے میں وزیر اعلی نے آستین کے سانپ کا کردار ادا کیا۔صوبائی حکومت کی مثال بغل میں چھری منہ میں رام رام جیسی ہے۔گلگت بلتستان کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ کس پارٹی کا دوہرا معیار ہے۔وزیر اعلی اور حواریوں نے گلگت بلتستان کے حقوق کا سودا کیا ہے اس لئے وہ گلگت بلتستان کے عوام کی بجائے تخت لاہور کی نمایندگی کر رہے ہیں اور ہوا میں تیر چلانے والے وزیراعلی نے گلگت بلتستان کے عوام کو اندھے کنویں میں دھکیلنے کی جو جدوجہد کی ہے اس کے قصیدے پڑھ رہے ہیں۔پیپلز پارٹی کے دئے گئے گورننس آرڈیننس 2009 کو گلگت بلتستان کے عوام نے بخوشی قبول کیا کیونکہ آصف علی زرداری نے یہاں کے عوام کی توقعات اور امنگوں کے عین مطابق فیصلہ کیا تھا جبکہ موجودہ حکومت کے مجوزہ پیکیج کو گلگت بلتستان کے عوام نے متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے کیونکہ یہ گلگت بلتستان کی شناخت ختم کرنے کی سازش ہے۔ذاتی مفادات کے لئے حکومت کی غیر ضروری وکالت کرنے والے قوم کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے۔بڑے بڑے دعوے کرنے والے بتائیں تین بار وفاق میں حکومت آنے کے باوجود گلگت بلتستان کے آئینی اور انتظامی اصلاحات کے لئے کونسا تیر مارا۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے اپنے ہر دور حکومت میں گلگت بلتستان کے عوام کے لئے پہلے سے بہتر آئینی اور انتظامی اصلاحات کی ہیں۔حال ہی میں بھٹو شہید فاونڈیشن کے زیر اہتمام اسلام آباد نیشنل پریس کلب میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق ملکی سطح کے سیمینارز کا انعقاد بھی پیپلز پارٹی کی قیادت کی گلگت بلتستان کے عوام اور آئینی معاملات سے گہری دلچسپی کا ثبوت ہے۔جس جماعت کے سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے گلگت بلتستان کے آئینی سٹیٹس کے خلاف بیانات دئے انکو جراعت کا مظاہرہ کر کے فرحت اللہ بابر کے بیان کی حمایت کرنی چاہئے۔ملک بھر میں نواز لیگ کی ڈوبتی کشتی کو دیکھ کر صوبائی حکومت کے ہاتھوں کے طوطے اڑ رہے ہیں اور بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر پیپلز پارٹی پر غیر منطقی تنقید کی جارہی ہے۔گلگت بلتستان کے عوام بہت جلد صوبائی حکومت کی گرتی دیوار کو دھکا دے کر نیست و نابود کریں گے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*