تازہ ترین

ملک میں کس قسم کے وزیر اعظم لانے کی تیاری کی جارہی ہے، جاوید ہاشمی کا قابل افسوس انکشاف۔

لاہور( ماینٹرنگ ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ کسی میں جرات نہیں کہ وہ پرویز مشرف کو ہاتھ لگا سکے ، عمران خان ہر حال میں وزیراعظم بننا چاہتے ہیں،ملک میں چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی طرز کا وزیراعظم لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ،ملک میں کسی بھی وزیراعظم سے آرمی چیف کی نہ بن سکی ؟ بلوچستان پر موجود حکومت کو ہٹا کر نئی حکومت بنائی گئی اور میر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ لگا دیا گیا، عدالت نے نوازشریف کو مجرم نہیں بنایا بلکہ معاملہ نیب کو بھجوایا تھا ،ملک میں قانون وانصاف ایک سیاسی گھیرا ہے جس میں سیاسی قیادت کو پھنسا کر رگڑا لگایا جاتا ہے ،مجھے نیب پر ایمان نہیں ، نیب عدالت میں مجھے تشددکا نشانہ بنایاگیا۔بدھ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے جاوید ہاشمی نے کہا کہ ی تاریخ گواہ ہے کہ کسی وزیراعظم سے آرمی چیف کی نہ بن سکی ، میں نے شیخ مجیب کو کبھی غدار نہیں کہا، بھٹو نے بھی شیخ مجیب کو غدار کہا ، بلوچستان میں موجود حکومت کو ہٹا کر نئی حکومت بنائی گئی اور میر صادق سنجرانی کو چیئرمین سینیٹ لگا دیا گیا ، اب پھر اسی طرز کا وزیراعظم لانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مجھے نیب عدالت میں ٹارچر کیا گیا ، میری انگلیوں کے ناخن کھینچے گئے ، مجھے نیب پر ایمان نہیں ہے ، ضیاءدور میں جب صادق اور امین والی شقیں آئیں تو ان شقوں کے ذریعے کسی بھی شخص کو ایک منٹ میں فارغ کیا جا سکتا ہے چاہے وہ جتنا بھی قابل ہو ، نوازشریف کو نکالنا تھا، نوازشریف نے ہر بات مانی ، سابق وزیراطلاعات پرویز رشید تک کو وزارت سے نکال دیا، سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف نے کہا کہ ہم نے مریم نواز کا نام ڈان لیکس سے نکال دیا ہے ،جاوید ہاشمی نے کہاکہ جنرل (ر) راحیل شریف کون ہوتے ہیں مریم نواز کا نام نکالنے والے ۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ نوازشریف کی پانامہ کیس میں تحقیقات ہونی چاہیے اور نوازشریف کو اس کا جواب دینا چاہیے ۔ مشرف دور میںجرنیل پانچ برس تک چیئرمین نیب رہے جس نے ان کا کہنا مان لیا اور جو مسلم لیگ (ق) میں چلا گیا وہ ٹھیک تھا ،کیا وہ ولی اللہ کا دور تھا ، کیا اس دور میں نیب کا ایک کیس بھی بنا ، اگر مشرف اکیلا آئین میں ترمیم کرے تو کیا یہ بات جائز ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کا یوٹرن لینا ان کی عادت ہے ،وہ ہر حال میں وزیراعظم بننا چاہتے ہیں ،جو ان کے ساتھ ہے وہ ٹھیک ہے اور جو ان کو چھوڑ کر چلا جائے اس کو چور بنا دیتے ہیں ، میں نے نوازشریف کے دور حکومت میں بھی کہا تھا کہ جس کی جو دولت بھی پاکستان سے باہر ہے وہ واپس لے کر آئے ، اس بات پر نوازشریف ناراض ہوئے ۔سپریم کورٹ نے نوازشریف کو مجرم نہیں بنایا بلکہ معاملہ نیب کو بھجوایا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ میرے سامنے جنرل ضیاءالحق نے کہا تھا کہ اگر جج ذوالفقار بھٹو کی پھانسی روکنا چاہتے تو میں ملٹری کورٹ بنا کر بھٹو کو پھانسی دیتا ،کسی میں جرات نہیں کہ وہ پرویز مشرف کو ہاتھ لگا سکے ، ہمارے ملک میں قانون وانصاف ایک سیاسی گھیرا ہے جس میں سیاسی قیادت کو پھنسا کر رگڑا لگایا جاتا ہے ۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*