تازہ ترین

بائیکاٹ مری سے ہمارے لئے سبق۔۔

گزشتہ روز مجھے کسی سرکاری کام کے سلسلے میں مری جانے کا اتفاق ہوا اس سے پہلے بھی میں کئی دفعہ مری سیرو سیاحت اور کام کے سلسلے میں جاچکا ہوں۔ اس دفعہ مری مری نہیں لگ رہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ کسی کی نظر لگی ہو یا کوئی آسیب کا سایہ کا اثر ہوا ہو مری پر۔ لوگوں کی آنکھوں میں اداسی اور چہرے بجھے بجھے سے لگ رہے تھے ۔سڑکیں ویران٬ ہوٹلین سنسان اور مری کے سرسبز پہاڑیاں اداس اداس سا لگ رہا تھا۔ مری سیاحت کے لحاظ سے بہت مشہور ہے لوگ اپنی فیملی اور دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے کے لیے یہاں جاتے ہیں۔ مری کے مشہور جگہ مال روڈ عام دنوں میں مشکل سے قدم رکھنے کی جگہ ملتی ہے اس سے پہلے میں جب بھی مری آیا اور یہاں سے گزرا تو ایسا لگتا تھا کہ شاید مصر کے کسی بازار میں آیا ہوں۔ مگر سوشل میڈیا پر چلنے والے مہم “بائیکاٹ مری” کی وجہ سے یہاں کی رونقیں بجھ سی گئی ہے۔ کسی نے سچ ہی کہا تھا رونقیں انسان سے ہی ہے اگر انسان نہ ہو تو رونقیں بھی روٹھ جاتی ہے۔”بائیکاٹ مری” کے اثرات دیکھ کر مجھے ڈر سا لگا۔ مقامی لوگوں کے مطابق ان کے آمدنی میں 70 فیصد کمی آئی ہے جن ہوٹلوں میں عام دنوں میں کوئی جگہ نہیں ملتی تھی اب وہاں ایسا سنّاٹا تھا کہ یہاں کوئی یہاں آیا ہی نہیں برسوں سے۔ وین اپنی سٹاف پر کھڑی تھی کہ شاید کچھ سواری آئے تو اپنی منزل کی طرف بڑھے مگر گھنٹوں انتظار کے بعد بمشکل سے کچھ سواری ملی جن میں اکثریت کی تعداد مقامی لوگوں کی تھی۔ اس کی وجہ “بائیکاٹ مری” مہم کی کامیابی ہے۔ سوشل میڈیا پر کچھ ایسے تصاویر اور ویڈیو موجود ہے جس سے یہاں کے لوگوں کا رویہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے یہاں کے لوگ سیاحوں کا غزت و احترم کرنے کے بجائے پیسے کمانے کی مشین سمجھ کر لوٹے ہیں۔ عورتوں کا احترام نہ کرنا، مہمانوں کے ساتھ بدتمیزی اور مہنگی یہ وہ چیزیں ہیں جن کو بنیاد بنا کر اس مہم کا آغاز کیا گیا تھا جو کسی حد تک کامیاب ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ “بائیکاٹ مری” کے اثرات وہاں کے لوگوں کے زندگی پر دیکھ کر مجھے ڈر سا لگا۔ میرا تعلق گلگت بلتستان سے ہے اور سیاحت مرے لوگوں کا اس دور میں سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ ہے۔ مجھے وہاں کے لوگوں کے مہمان نوازی، اخلاق اور ادب بلتستان پر کوئی شک نہیں کہ وہ کسی بھی سیاح کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کرے گا مگر مری کے لوگوں کے حالات دیکھ کر ہمیں سبق حاصل کرنا چاہتے تاکہ کی اللہ نہ کرے یہ وقت کبھی ہم پر نہ آئے۔گزشتہ تین سالوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ بہت سارے بلتستان کے خاندان کا انحصار اب اسی شعبے سے ہے اس لئے ہمیں غیر مقامی سیاح سے احترام و عزت سے پیش آنا چاہیے۔ بیشک رزق تو اللہ تعالی کی ذات عطا کرتا ہے مگر وہ کسی کو آپ کا رزق کا وسیلہ بنائے تو اس وسیلے کا اتنا احترام کرنا چاہیے جتنا آپ رزق کا احترام کرتے ہیں۔ اگر ہم ان سیاحوں کا احترام نہیں کرے گا جو کی ہمارے لوگوں کی رزق کا وسیلہ ہے تو ہم سے بھی مری والوں کی طرح رزق روٹھ جائے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا اخلاق بہت اچھے ہیں مگر پھر بھی اس میں مزید بہتری کی گنجائش ہے۔ ہر انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش ہوتی ہے۔ میری عوام سے، ہوٹلوں کے مالکوں سے ،گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات اور جو جو لوگ شعبے سے تعلق رکھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ ہر سیاح کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئے چاہیے وہ جس رنگ، مذہب اور ملک سے ہو۔میرا تعلق کچورا کے آس پاس کسی گاؤں سے ہے۔ آج سے تین سال پہلے کچورا میں شنگریلا اور کچھ ہوٹل ان کے علاوہ نہ کوئی ہوٹل تھا نہ کوئی گیسٹ ہوسٹ۔ ماشااللہ اج کے ہر دو قدم کے بعد کوئی نہ کوئی ہوٹل یا گیسٹ ہاؤس موجود ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ان گیسٹ ہاؤسز کی اوسطاً سالانہ آمدنی 10 سے 12 لاکھ سے زیادہ ہے اور کئی مقامی لوگوں کا روزگار کا ذریعہ معاش بھی ہے۔ اس میں کوی شک نہیں یہ ان کی محنت کی کمائی ہے مگر کارباری دنیا میں محنت تب ہی رنگ لاتی ہے جب آپ محنت سے زیادہ اخلاق سے لوگوں سے بات چیت کرے۔ ہمارے لوگوں کو سمجھنا ہوگا سیاح بھی ایک عام پاکستانی، ایک عام انسان ہوتے ہیں نہ کے صرف پیسے کمانے کا مشین نہیں۔ ہمارے لوگوں چاہیے کہ مری کے لوگوں کی طرح ہر چیز پر پانچون گنا زیادہ قیمت وصول نہ کرے بلکہ ایک مناسب قیمت وصول کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ یہاں پر آئے۔اور جو حضرات اس سال گلگت بلتستان سیروتفری پر آنے کا ارادہ رکھتے ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہاں وہ کے لوگوں کے روایات اور ثقافت کا خاص خیال رکھیں۔ وہاں کے لوگوں کا اتنا ہی احترام کریں جتنا آپ ان سے توقع رکھتے ہیں۔ غیر مقامی سیاحوں کو چاہیے کہ وہ وہاں کے لوگوں کو سادگی سے فایدہ نہ اُٹھے۔اس میں کوئی شک نہیں وہاں کے لوگ شریف بھی ہے اور سادہ بھی مگر بے وقوف نہیں۔۔”بائیکاٹ مری” مہم سے گلگت بلتستان کے عوام کو سبق حاصل کرنا چاہیے کیونکہ اچھی قوموں کی نشانی یہ ہے کہ وہ دوسرے قوموں کی غلطیوں سے سکھ کر اپنی اصلاح کی کرلیتے ہیں۔

تحریر: بشیر احمد حسرت

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*