تازہ ترین

ہمارا رمضان۔۔۔۔

مبارک ہو رمضان برکتوں والا مہینہ پھر سے آنپہنچا
اس میں مسلمان روزے رکھتے ہیں سحر سے افطار۔
اور سارے بُرے کاموں سے اور گناہوں سے باز رہتے ہیں۔
باقی افطار سے سحر تک آپ وہ کریں جو آپ روزے کی حالت میں نہ کر سکتے ہوں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی اس مقدس مہینے میں معرض وجود میں آیا
اور تب سے اب تک اِس ملک کے غریب روزے رکھ رہے ہیں۔
مسلمان اور پاکستانی اِس سے بہت فیض یاب ہورہے ہیں
خاص کرپاکستانی تاجر
تاجران پاکستان اِس بابرکت مہینے سے خوب فائدہ اُٹھاتے ہیں
افطاری کے قریب روزے داروں سے جھوٹ بول کر،قسمیں کھا کر ، مہنگائی دکھا کر، اور دوسرے نا قابلِ قبول حرکات صرف اِس لئے کر تے ہیں کہ روزے داروں سے اُن کا صبر اور استقامت کا امتحان لیںاور مومنین کو ثواب دلوائیں
جو پاس ہوجاتے ہیں اِ ن سے زائد رقم بھی بٹورتے ہیں ۔
کچھ لوگ کہتے ہیںرمضان برکت کا مہینہ ہے
کچھ اور لوگ مومنین اِس ماہ کو امتحان کا مہینہ بھی کہتے ہیں
تاہم میرے خیال میں تاجروں کے لئے بر کت اور متاثرین تاجران کے لئے امتحان ہے۔
ہمارے ہاں ایک خیال یہ بھی ہے کہ اس مہینے میں شیطان باندھ دیا جاتا ہے۔
میر ا بھی یہی خیال ہے کہ شیطان کو سزا کے طور پر ہمارے ملک میں ہی کہیںباندھا جاتا ہوگا۔
میرا دوست کہتا ہے کہ اگر شیطان کو باندھنے کی بجائے کُھلا چھوڑ دیا جائے کہ رمضان میں تاجروں کی حالت دیکھ لے تو شیطان کو اگلے رمضان میں باندھنا ہی نہ پڑے
یا یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے رمضان میں شیطان ہی سارے تاجروں کو باندھنے لگے۔
بہر حال رمضان کے بابرکت مہینے سے تاجر بھی بے بہرہ نہیں رہتے
پہلا عشرہ رحمت کا ہوتا ہے
تاجر خوب رحمت سمیٹتے ہیں۔۔۔
رحمتوں سے اپنے اکائونٹ بھرتے ہیں۔۔۔
یہ نہیں دیکھتے رہتے کہ رحمت کس سے کتنا لینا ہے ۔۔۔
بس کہا گیا ہے سمیٹ لو سو سمیٹ لیتے ہیں۔۔۔
دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے۔۔۔
تاجر بھی جو جو کام رحمت کے عشرے میں نہیں کر سکے اِس کے لئے مغفرت مانگتے پھرتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ادا کر نے میں دانستہ یا غیر دانستہ سُستی ہوئی ہے لہذہٰٰ مغفرت کی درخواست ہے۔اور تیسرے عشرے کے لئے پُر عزم ہوکر نیت باندھ لیتے ہیں کہ آخری عشرہ میں مومنین کو ایسے ہی جانے نہ دیں گے کہ بعد میں رمضان ضائع ہو نے کا افسوس ہو۔
تیسرا عشرہ عذاب سے خلاصی کا ہے۔
تاجر اِس عشرے میں بھی عبا دات سے حیلے نہیں بناتا۔تمام امت سے صدقے وصول کر کرے اُنھیں عذاب سے خلاصی کا پیغام سناتی ہے۔اور مہنگائی کے نام پر پیسے بٹورتی ہے یعنی گاہکوں سے صدقہ کرواتی ہے تاکہ مسلمانوں کو عذاب سے خلاصی دلائیں خواہ اِن کو ملاوٹ، زخیرہ اندوزی، چوری چکاری، وغیرہ ہی کیوں نہ کر نا پڑے۔
روزوں میں گرمی ہو اور مومنوں سے ثواب سرزد ہو تو ثواب اور بھی زیادہ ملتا ہے۔
کافی عرصے بعد اِسن روزوں میں عام مسلمان کے ایمان میں اضافے کا سبب ہوگا۔
ملاوٹ۔۔۔
مہنگائی ۔۔۔
زخیرہ اندوزی۔۔۔
دو نمبری۔۔۔
اور جھوٹی قسموں کے علاوہ اس دفعہ اِس رمضان میں بجٹ بھی پاس ہوگا۔
ان سب واردات کا رمضان میں وارد ہونا کوئی اتفاقیہ نہیں بلکہ خلق خدا کو اپنے رب کی طرف مبذول کرنا ہے۔
زرا سوچیئے!
شیطان کو باندھنے کے بعد بھی،لوگ اِن سب برائیوں کو عروج پہ دیکھے گی تو خدا کے علاوہ کس کو یاد کریں گے۔۔۔

عبدالحمید بلتی
سکردو گلگت بلتستان

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*