تازہ ترین

عوامی احتجاج رنگ لے آیااصلاحاتی پیکج 2018کامجوزہ ڈرافٹ مسترد، مقتدرحلقوں میں اس حوالے سے نئی بحث شروع۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) مسلم لیگ نون کی جانب سے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر مرتب شدہ گلگت بلتستان اصلاحاتی پیکج 2018 کسی نہ کسی طرح سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد شدید عوامی ردعمل اور مستقبل کی صورت حال کے پیش نظر مسودے کی ازسر نو نظر ثانی کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مقتدر حلقوں نےمجوزہ ڈرافٹ کومستردکیا ہے اور اس حوالے سے گلگت بلتستان کی اہم دفاعی حوالے سے حیثیت اور سی پیک کے تناظر میں کسی بھی قسم کے عوامی احتجاج کو روکنے اور خطے کے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں گلگت بلتستان کے اہم سٹیک ہولڈر کو آن بورڈ بھی لیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس پیکج کے حوالے سے وزیر اعظم کی صدرات میں 12 مئی کو جو میٹنگ منعقد ہونا تھا اُسے کسنل کرکے 21 مئی کو اجلاس طلب کیا ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرتاج عزیز کی سربراہی میںقائم کردہ کمیٹی کی جانب سے تیارکردہ سفارشات کسی حد تکگلگت بلتستان کے عوام کی ستر سالہ محرمیوں پر مرہم رکھنے کیلئے قابل عمل تھی تھیں تاہم بعدمیں بننے والی دوکمیٹیوں اوراس کے نتیجے میں تیار ہونے والے ڈرافٹ(جو سوشل میڈیا پر لیک ہوگیا) پرعوام کو شدید تشویش ہے کیونکہ مذکورہ درافٹ کے مندرجات سرتاج عزیز کمیٹی والی سفارشات سے بالکل مختلف ہے اور اس مسودے میں گلگت بلتستان اسمبلی کے بجائے وزیراعظم کو گلگت بلتستان کے معاملے میں بااختیار بنایاگیا ہے۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان کے عوام میں بیداری کی لہر دوڑ گئی ہے اور لاہور اسلام آباد میں مسلسل سمینار منعقد کرنے اور عوامی سطح پر گلگت میں مزید احتجاج کی دھمکیوں اور گلگت بلتستان کی تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کو بھی دیگر متنازعہ خطوں کی طرح مکمل حقوق اور سیٹ سبجیکٹ کی بحالی اور گلگت بلتستان کیلئے آذاد کشمیر کی طرز پر آذاد کشمیر سے بااختیار نظام دینے کا مطالبہ زور پکڑتی جارہی ہے۔ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہپیکج پرنئے سرے سے غور کرنے کی وجہ سے موجودہ حکومت کے دورمیں ہی مکمل ہونے کاامکان کم نظرآرہا ہے اس لئے امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگلی حکومت میں ہی باقاعدہ سیٹ اپ کااعلان ہوگا۔ کیونکہ ن لیگ کی حکومت کایہ آخری مہینہ ہے اور اس میں بھی صرف15دن باقی ہیں نگران حکومت کامینڈیٹ چونکہ صرف انتخابات کے انعقاد تک ہے اس لئے الیکشن کے بعد اگلی حکومت ہی سیٹ اپ کاباقاعدہ اعلان کرے گی ۔اس سے پہلے گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے ذریعے انتظامی اصلاحات کے ڈرافٹ کوفائنل کیاجائے گا۔ یہ بھی کہا جارہا ہےکہ انتظامی اصلاحاتی پیکج کے ڈرافٹ پر گلگت بلتستان قانون سازاسمبلی میں ان کیمرہ یاآن کیمرہ بحث بھیکیاجائے گا۔

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*