تازہ ترین

گرمیاں شروع ہونے کے باجود سکردو میں بجلی کا شدید بحران،حکومت عدم توجہی کے سبب کئی سالوں سے بند بجلی گھروں کا کوئی پرسان حال نہیں۔

سکردو (نامہ نگار خصوصی) گرمیاں شروع ہوگئی لیکن سکردو کے عوام بجلی کی سہولت سے محروم ہیں،سکردو میں بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے لیکن کوئی پرسان حال نہیں۔ حکومتی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے پچھلے کئی سالوں سے بند سات کے قریب بجلی گھر تاحال فنکشنل نہیں ہو سکے۔تفصیلات کے مطابق سکردو کے دور افتادہ علاقہ گلتری میں مختلف مقاما ت پر مختلف ادوار میںچھےبجلی گھر تعمیر کئے گئے تھے تاہم تربیت یافتہ عملے کے فقدان کی وجہ سے یہ تمام بجلی گھر بننے کے بعد سے لیکر آج تک بند ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اس وقت سکردو میں ڈیرھ میگا واٹ بجلی کا شارٹ فال ہے۔اسی طرح سکردو میں قائم ہونے والے واپڈا فیز فورتھ بھی ناقص ڈئزائینگ کی وجہ سے ابھی تک بجلی فراہم کرنے سے قاصر ہیں، ڈیڑھ میگا وات کے اس بجلی گھر کا سپل وے رکھا ہی نہیں گیا ہے پانی کے اخراج کی جگہ نہ ہونے کے باعث مزکورہ بجلی گھر کو چلایا نہیں جا سکا ہے۔ گلتری میں بند 6بجلی گھروں میں سٹاف کی تعیناتی کیلئے سفارشات بھی بجھوائی گئی تھی لیکن ان سفارشات کا بھی کچھ اتہ پتہ نہیں ہے کئی کئی سالوں سے 7,7بجلی گھر بند ہو نے کے باوجود حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ہے اور روز بجلی کے بحران پر قابو پانے کے بڑے بڑے بیانات جاری کر کے حکومت بری الزمہ ہو نے کی ناکام کوشش کر رہی ہے بتایا گیا ہے کہ سکردو میں کئی سال قبل تعمیر ہونے والے واپڈافیز فورتھ کی ڈئزائینگ میں سنگین قسم کی غلطی کی گئی ہے بجلی گھر میں پانی کے اخراج کیلئے کوئی جگہ نہیں رکھی گئی ہے ایک طرف سکردو شہر میں بجلی کا سنگین بحران پیدا ہو یا ہے اور مئی کے مہینے میں بھی بجلی کی طویل ترین لوڈ شیڈنگ سے عوام سخت متاثر ہو رہے ہیں وہیں حکومت کی مجرمانہ غفلت بھی کھل کر سامنے آگئی ہے اور پچھلے تین سال کے دوران حکومت بند بجلی گھروں کو بحال کرنے کیلئے کچھ نہ کر سکی ہے جس کی وجہ سے عوام سنگین قسم کے مسائل میں مبتلا ہو گئے ہیں اور تو اور رواں سال جنوری کے مہینے میں خراب ہونے والے واپڈا پاور ہاوس کی مشینری بھی تاحال ٹھیک نہ ہو سکی ہے مشینری خرا ب ہونے کے بعد کئی ماہ تک سکردو میں پڑی رہی پھر اٹھاکر مرمت کیلئے ٹیکسلا بھجوادی گئی ٹیکسلا سے مرمت کے بعد مشینری کے کچھ حصے سکرد و پہنچ گئے مگر باقی حصوں کے ہمراہ ٹیکنیکل ٹیم ابھی تک سکردو پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکی ہے جس سے جہاں عام صارفین اور تاجر سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہو گئے ہیں وہیں محکمہ برقیات کے افیسران بھی پریشان ہیں ایک افیسر سے رابطہ کیا گیا تو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خراب مشینری بڑی مشکل سے سکرد و پہنچ گئی ہے لیکن ٹیکنیکل ٹیم کب پہنچے گی کچھ پتہ نہیں ہے وہ واپڈا کے افیسران کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں ادھر انجمن تاجران کے صدر غلام حسین اطہر ،عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین سید علی رضوی نے کہاہے کہ 7,7بجلی گھر بند ہیں لیکن حکومت تماشائی بنی ہوئی ہے سکردو کے ساتھ بہت بڑا مذاق ہو رہا ہے مئی کے مہینے میں شدید ترین لوڈ شیڈنگ کا یہ پہلا واقع ہے فوری طور پر بجلی کے نظام کو بہتر نہ بنایا گیا تو سخت احتجاج کریں گے ادھر ذمہ دار ذرائع نے بتایاہے کہ بند بجلی گھروں کو بحال کرنے کی صورت میں سکردو میں کوئی بحران نہیں ہوگا اور عوام کو بلا تعطل بجلی میسرآسکے گی مگر حکومت کی غفلت ، بے حسی اور لاپرواہی کے باعث کئی سال گزرنے کے بعدبھی بند پڑے 7بجلی گھر تاحال بحال نہ ہو سکے جس سے جہاں بجلی بحران میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں قومی خزانے کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے ۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*