تازہ ترین

مری والوں سے بیزار پاکستان بھر سے آنے والے سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کرلیا، مگرمحکمہ سیاحت غیرفعال۔

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) سیاحت کا موسم شروع ہوتے ہی مری میں سیاح کے ساتھ کے نارواسلوک اور بجا کے قسم رقم کی وصولیوں کے بعد پاکستان بھر کے سیاح نے گلگ بلتستان کی طرف رُخ کرنا شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے نمائندے میں راولپنڈی اسلام آباد میں مری جانے کیلئے پریشان سیاحوں کا گفتگو کیا تو اُنکا کہنا تھا کہ کہ گرمیوں کے موسم میں شہری علاقوں کے عوام سال بھر کی جمع پونچی خرچ کرکے سیاحت کیلئے نکل آتے ہیں۔ لیکن مری میں ہوٹل مالکان اور عوام نے گزشتہ مہینوں میں اپنے مہمانوں کے ساتھ جو سلوک اپنایا اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ کراچی سے آئے ہوئے ایک گروپ لیڈر نے ہمارے نمائندے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سُنا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ بڑے مہمان نواز ہیں اور یہاں مری سے بھی کہیں ذیادہ خوبصورت وادیاں موجود ہیں لیکن ہم گزشتہ تین دنوں سے سکردو جانے کیلئے آئرپورٹ کا چکر لگا رہے ہیں اور آئیرپورٹ دور ہونے اور فلائٹ مسلسل کنسل ہونے کی وجہ سے ہمارے جیب پر اضافی خرچے کا بوجھ آرہا ہے مگر اس قسم کے اہم مسائل کی طرف توجہ دینے والا کوئی نہیں۔ اسی طرح راولپنڈی میں بذریعہ کار گلگت جانےکیلئے تیار ایک فیملی کا کہنا تھا کہ ہم ہرسال مری آتے ہیں لیکن اس سال پہلی بار گلگت بلتستان جانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن سُننے میں یہ آیا ہے کہ وہاں سیاحت کے مواقع ہونے کے ساتھ سہولیات کا بہت ذیادہ فقدان ہے۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کی فروغ کیلئے مثبت قدم اُٹھائیں۔ اس اڈے پر سکردو سے واپس آنے والے ایک گروپ سے ہم رائے جاننے کی کوشش کی تو اُنکا کہنا تھا کہ سکردو کی کوئی مثال نہیں مگر سہولت نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں کچھ حد تک پریشانی کا سامنا کرنا پڑا اس طرح سرکاری ریسٹ ہاوس والوں کا رویہ سیاح کے ساتھ اچھا نہیں تھا جس پر افسوس ہے باقی وہاں کے عوام بڑے ہی دل والے اور مہمان نواز ہیں۔ بیرودھائی پر ہنزہ جانے والے ایک گروپ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے دیگر علاقوں کی نسبت ہنزہ میں کسی حد تو سہولیات موجود ہیں اس وجہ سے ہم ہر سال ہنزہ اور صرف گلگت کی طرف جاتے ہیں ہمیں ہمارے گائیڈ نے بتایا کہ بلتستان جانے کیلئے فلائٹ کے مسلے کے ساتھ سڑکیں بھی کافی خراب ہیں اور وہاں ہوٹل وغیر ہ کا انتظام بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی اڈے پر بلتستان جانے والے ایک گروپ کے ٹیم لیڈر کا کہنا تھا کہ دو سال پہلے ہم سکردو گئے اور ہم نے مشہ بروم ہوٹل میں قیام پذیر ہوئے لیکن ہوٹل منجمنٹ نے ہمارے ساتھ پہلے کمروں کی کرائے پر ظلم کیا بعد میں دیوسائی جانے کیلئے مارکیٹ سے ذیادہ ریٹ پر ہوٹل کی گاڑیوں کس استعمال کرنے پر مجبور کیا۔ ہم نے سیدھا خپلو فورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے دیکھتے وہاں کے قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حکومت کو چاہئے کہ سیاحوں کے مسائل پر توجہ دیں تو تمام اضلاع میں نامناسب کرایہ وصول کرنے والے ہوٹلوں اور گاڑیوں کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے ٹریفک پولیس کو متحرک کریں اور PTDC میں صرف گلگت بلتستان میں کام کرنے والے سکرٹیرز کے رشتہ داروں کو نوازنے کیلئے خالی رکھنے کے بجائے تمام سیاحوں کو مناسب کرائے کے ساتھ رہائش کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔ اس کے علاوہ ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کیلئے حکومتی سطح پر عملی اقدمات اُٹھائیں۔

About ISB-TNN

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*