تازہ ترین

سیاحت اور عوام گلگت بلتستان ..

گر فردوس بروئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
(علامہ اقبال)
زمین پہ اگر جنت ہے صرف یہیں ہے یہیں ہے اور یہیں ہے.
اللّہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ دنیا کی سیر کرو ,
ایک شعر عرض ہے:
مسافرت کا ولولہ سیاحتوں کا مشغلہ
جو تم میں کچھ زیادہ ہے سفر کر سفر کرو.
ایک ترانے میں شفقت امانت علی نے نہایت ہی خوبصورت انداز میں گلگت بلتستان کیلئے گایا عنوان تھا “ایک بار جو یہاں آئے دل یہاں رہ جائے” اس نغمے میں انہوں نے وہاں کی زبان ,لوگ اور جگہوں کو نہایت خوبصورت انداز میں بیان کئے ہیں. گلگت بلتستان کیلئے یہ بہت مشہور ہے کہ اگر کسی نے جنت کو زمین پہ دیکھنا ہو تو آؤ گلگت بلتستان. گلگت بلتستان نہایت پرامن , پرسکون علاقہ ہے اور وہاں کے لوگ اتنے سادہ لوح ہیں کہ وہ خوبانی اور دوسرے میوہ جات سیاح کو پیش کرتے ہیں ,پیسہ کیلئے نہیں بلکہ مفت وہ سکون و راحت محسوس کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مادہ پرست نہیں ہوتے ان میں انسانیت نمایاں نظر آتے ہیں اور بہے مہمان نواز نہایت ہی خوش خلق لوگ ہوتے ہیں. ان کی تمام تر محرومیوں اور مجبوریوں کے باوجود چہرے پہ ایک معصومانہ مسکراہٹ سجا کے رکھتے ہیں. یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان لوگوں کو کوئی حقوق نہیں , پاکستان کے شہری ہونے سے بھی محروم کردیا اصلاحات 2018 میں لیکن پھر بھی اپنے چہروں پہ مایوسی کا سایہ تک لگنے نہیں دیتے نہایت ہی باہمت لوگ ہیں تو شاعر نے کیا خوب کہا ہے.
محبتوں سے بھری انجمن میں ہم خوش ہیں
کوئی خوش ہو کہ نہ ہو اپنے من میں تو ہم خوش ہیں
جلے پہاڑ ہو یا برف کا گلئیشر
وطن وطن ہے بس اپنے وطن میں ہم خوش ہیں .
تعلیمی اور صحت کی پسماندگی کے باوجود اپنے وطن سے پیار دوسرے صوبوں سے آنے والے سیاح و لوگوں خوش آمدید کہتے ہوئے اپنے چہروں پہ خوبصورت مسکراہٹ سجاتے ہیں جس سے دیکھ کر ایک عام شخص ان کی محرومیوں کا اندازہ بھی نہیں لگتا.
سیاح اتنے محفوظ ہیں کہ وہ اپنے مال و دولت کے ساتھ کسی سڑک کے کنارے ٹینٹ لگا کر بےفکر سوجائیں. آپ نء کبھی سنا ہے کہ گلگت بلتستان میں کسی سیاح کو کسی بھی حوالے سے پریشانی کا سامنے کرنا پڑا ہو نہیں آپ کو ایک بھی اس قسم کا واقعہ نہیں ملےگا. آج کل میڈیا, سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے معلوم ہو رہا ہوگا کہ سیاح نے ظلم کی انتہا پر وہاں کا بائیکاٹ کیا ہوا ہے اور انتظامیہ نے ڈولفن فورس تعینات کیا ہے . ا
یہاں رونے کا مقام ہے کہ لوگ اپنے روزہ مرہ کاموں سے چھٹی لے کے لطف اندوز ہونے ایک جگہ جائے جہاں آپ کو مزید پریشانی کا سامنے ہو یا سیکورٹی اہلکار جگہ جگہ تعینات ہو تو آپ کو خوف محسوس ہوگا. تو آپ تمام سیاح سے گزارش ہیں کہ اس دفعہ گلگت بلتستان کا رخ کریں جہاں سیاح کو مہمان ٹھہراتا ہے اور اللّہ کی رحمت سمجھتا ہے اور آپ واقعی میں جنت میں ہونے کا گمان کرتا ہے. کیوں نہ ہو وہاں فرشتے صفت لوگ اور جنت نظیر وادی جو ہے. آئیں گلگت بلتستان کی سیرکریں اور دنیا میں ہی جنت دیکھیں.
سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہے بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
آخر میں ایک شعر کے ساتھ اجازت چاہوں گا…
اس سفر میں نیند ایسی کھو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سوگئی..

تحریر: علی آصف بلتی

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*