تازہ ترین

انجمن تاجران سکردوبلتستان کی طرف سے گلگت سکردو روڈ اور عوام کی مسائل پر چیف آف آرمی سٹاف کے نام خط

بخدمت جناب جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب سربراہ افواج پاکستان
عنوان: جگلوٹ ،سکردو روڈ کی تعمیر پر موجودہ تحفظات
جناب والا! آپ سے زیادہ کوئی فرد اس بات کی اہمیت سے واقف نہیں ہے کہ ملک کے دفاع کیلئے سرحدی علاقوں تک بہتراور قابل اعتماد مواصلاتی ذرائع کس قدر ضروری ہیں۔ بہتر لاجسٹک سہولتوں کے بغیر ملکی سرحدوں پر افواج پاکستان اور ان افواج کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرنے والے سرحدی عوام کس قدر پریشانیوں سے دوچار ہو سکتے ہیں آپ جیسے محب وطن جنرل سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ایک طویل عرصے سے جگلو ٹ ، سکردو روڈ موت کا کنواں بنا ہو ا تھا 170 کلو میٹر اس طویل شاہراہ کی خستہ حالی نے بیسیوں فوجی گاڑیوں ، جوانوں اور عام مسافروں کو دریا برد کر دیا اور یہ سلسلہ گزشتہ دوعشروں سے زیادہ برقرار تھا ۔ اللہ اللہ کر کے گذشتہ سال اس اہم دفاعی سٹرک کی تعمیر کیلئے فنڈز مہیا کیے گئے اور ٹینڈرز ہوئے تو بوجوہ دوچینی کمپنیوں کو اس ٹینڈر سے ٹیکنیکل ناک آؤٹ کرکے FWO نے ٹھیکہ حاصل کر لیا ۔ہمیں خوشی ہوئی کہ FWO ہی اس سڑک کی اولین تعمیر کار ہے اور اب بھی اسی کوہی مزید توسیع او ربہتری کا موقع مل گیا۔سڑک کی تعمیر سے قبل جناب وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی صاحب کی سکردو آمد پرNHA کے چیئرمین اور FWO کے جنرل صاحب نے ذمہ داروں جو بریفینگ دی تھی موجودہ تعمیری صورتحال اس بریفنگ سے یکسر مختلف نظر آنے لگی ہے ہمیں FWO کی تکنیکی استعداد کار اور صلاحیتوں کے علاوہ حب الوطنی پر بھی مکمل یقین ہے لیکن دودھ کا جلا چھا چھ کو بھی بھونک بھونک کر پیتا ہے
کے مصداق ہمیں تعمیراتی کام کے زمینی حقائق نظر آنے کے بعد کچھ تحفظات لاحق ہوگئے ہیں . FWO نے سدپارہ ،دیوسائی ،چلم روڈ کی تعمیر کا ٹھیکہ بھی لیا تھا اور اس اہم دفاعی سڑک کو مقامی ٹھیکیدار گروپ کے حوالے کر کے جس طرح سڑک کا بیڑہ غرق کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے ۔
۱)۔ جگلوٹ ،سکردو روڈ پر پانچ بڑے آرسی سی پلوں کی تعمیر کی نوید دی گئی تھی جو 70 ٹن سے زیاد ہ وزن اُٹھا سکتی ہو ۔ لیکن موجودہ تعمیر میں کہا جاتا ہے کہ صرف 40 ٹن وزن اُٹھا سکنے والی پلوں کی تعمیر کیا گیاہے ۔
۲)۔ دوسری طرف اسی بریفنگ میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ جگلوٹ سکردو سڑک 35 فٹ چوڑی ہوگی جبکہ اس وقت یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ یہ سڑک 22 فٹ سے زیادہ چوڑی نہیں ہوگی ۔
۳)۔ سڑک کی پائیداری کیلئے زیادہ سے زیادہ پہاڑو ں کو کاٹ کر سڑک کو چوڑا کرنے کی بات کی گئی تھی لیکن اب صرف اونچی اونچی دیواریں بنا کر اسکی بھر ائی کرکے سڑک چوڑا کیا جا رہا ہے جو کسی طرح بھی پائیداری کی ضمانت نہیں دے سکتا ۔یہاں پر بھی اس روڈ کو مختلف ٹکڑوں میں بانٹ کر مقامی مزدروں کے ذریعے دیواریں چنوائی جا رہی ہے نہ اس میں مٹیریل کا خیال رکھا جا تا ہے نہ ان پر پانی کاچھڑکاؤ کیا جا رہا ہے بھاری بھر کم دس ٹائروں والے ٹرکوں کا وزن اور جھٹکے یہ دیواریں کسے برداشت کرلینگے سمجھ سے باہر ہیں ۔
۴)۔خطرناک موڑ والی جگہوں اور خصوصاً لینڈ سلائنڈنگ والی 5جگہوں پر متعدد سرنگیںTunnels بنا کر فاصلوں میں کمی35 چوڑائی میں میٹل کرنے کی اور سڑک کو محفوظ تر بنانے کی نوید بھی اسی بریفینگ کا حصہ تھا لیکن ایسی سرنگوں کی تعمیر کے آثار بھی سدپارہ ڈیم پراجیکٹ میں شامل شتونگ نالہ منصوبے کی طرح معدوم ہوتے جارہے ہیں اور ہم اہالیان بلتستان کی اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ سدپارہ ڈیم پراجیکٹ کی طرح اس اہم ترین دفاعی شاہراہ بھی اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود اہل بلتستان کی اقتصادی ضروریات اور ملکی دفاعی ضروریات کو کما حقہ پورا نہیں کر سکیں گے ۔انہی خدمات کے پیش نظر ہم یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہFWO اور NHA کے ذمہ دار اہل بلتستان کے سیاسی و سماجی نمائندوں کو اس سلسلے میں تفصیلی بریفینگ دے لیکن ہمارے ان مطالبات پر کان نہیں دھرے جارہے ہیں جس سے ہماری تشویش میں روز بروز اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔
FWO چونکہ پاکستان آرمی کا حصہ ہے پاکستان آرمی کی عزت و وقار ہمارے لیے اولین ترجیح ہے اسلئے اب تک ہم احتجاجی تحریک چلانے سے اجتناب کررہے ہیں۔
جناب والا سے اس سلسلے میں فوری مداخلت کی استدعا ہے تاکہ اربوں کا یہ منصوبہ بھی چند سالوں کے بعد تباہ و برباد ہو کر دوسرا سدپارہ ڈیم پراجیکٹ نہ بن جائے ۔
کاپی:
۱)۔ کمانڈر 10 کور روالپنڈی منجانب
۲)۔ DG ایف ڈبلیو او اہلیان بلتستان بوساطت مرکزی انجمن
۳)۔ چیئرمین NHA تاجران سکردو بلتستان
۴)۔ کمانڈر FCNA گلگت
۵)۔ کمانڈر 62 بریگیڈسکردو
۶)۔ ہیڈز تما م ایجنسز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*