تازہ ترین

گلگت بلتستان آرڈنینس 2018 ۔

گلگت بلتستان کی تاریخ میں غلامی، جبر اور گلگت بلتستان کے باشندوں کے حقوق و مراعات کی پامالی کا نیا باب ۔پچھلے دنوں حکومتِ پاکستان نے گلگت بلتستان کے لئیے نیا آئینی فارمولا دیا ہے ۔
یہ آئین گلگت بلتستان کے عوام کی طویل اور مسلسل جدوجہد کے بعد دیا گیا ہے ۔ گلگت بلتستان کے عوام ایک عرصے سے بنیادی سیاسی، آئینی، شہری اور انسانی حقوق کی فراہمی کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے اور اس مقصد کی خاطر عوام نے ایک طویل اور صبر آزما پرامن سیاسی جدوجہد کی ہے ۔ موجودہ آئینی فارمولا عوام کی اسی جدوجہد کے جواب میں دیا گیا ہے ۔ مگر گلگت بلتستان کے عوام کی بدنصیبی ہے کہ اس آئین میں گلگت بلتستان کے عوام، ان کے منتخب نمائندوں اور ان کے سیاسی و قانونی اداروں کے تمام اختیارات کو سلب کر لیا گیا ہے ۔گلگت بلتستان کے عوام کو جبر و استبداد کی جس ظلمت کے حوالے کیا گیا ہے اس کی مثال شاید ہی گلگت بلتستان کی سابقہ تاریخ میں کہیں ملتی ہو ۔آئین کے نام پر گلگت بلتستان کے عوام کو تمام آئینی، سیاسی، معاشی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے ۔
میں یہاں اس آئین کی ان اہم دفعات کا ذکر کروں گی جن کے ذریعے ایک طرف جہاں گلگت بلتستان کے عوام کے تمام سیاسی، جمہوری، معاشی، آئینی اور بنیادی انسانی حقوق غصب کئیے گئے ہیں تو دوسری جانب گلگت بلتستان کی زمینوں اور ملازمت کے مواقع کو بھی پاکستان کی تحویل میں دے دیا گیا ہے ۔
قارئینِ کرام
گلگت بلتستان کا یہ 2018 کا آئینی پیکج نے گلگت بلتستان کو عملی اور آئینی طور پر پاکستان کی نوآبادی میں تبدیل کر دیا ہے ۔
اس آئین کی درج ذیل اہم دفعات قابلِ غور ہیں:
پارٹ I آرٹیکل 5:
(گلگت بلتستان کے) تمام شہریوں پر، وہ جہاں بھی رہتے ہوں، اس آرڈیننس کا اطلاق ہو گا ۔ گویا گلگت بلتستان سے باہر دیگر ممالک میں رہنے والے گلگت بلتستان کے باشندوں کو اس آئین کے تحت ملک دشمن اور تخریب کار قرار دیا جا سکے گا ۔
پارٹ II آرٹیکل 3:
فوج، پولیس اور ایجینسیوں پر اس آرڈیننس کا اطلاق نہیں ہو گا ۔
پارٹ II آرٹیکل 9:
مخصوص قوانین کے تحت گرفتار کئیے گئے افراد کو عدالت میں پیش کئیے جانے یا قانونی معاونت کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے ۔
پاکستان یا پاکستان کے کسی حصے کی سالمیت، تحفظ اور دفاع، پاکستان کے خارجہ امور، امنِ عامہ اور رسل و رسائل کے امور سے متعلقہ معاملات میں گرفتار کئیے گئے افراد کو تین ماہ تک مسلسل حبسِ بیجا میں رکھا جا سکے گا اور ہر تین ماہ بعد اس حبسِ بیجا میں مزید تین ماہ کی توسیع کی جا سکے گی اور یہ سلسلہ غیر معینہ مدت تک چلتا رہے گا –
مخصوص حالات میں گرفتار کئیے گئے افراد کو اگر مجاز حکام چاہیں تو بغیر فردِ جرم عائد کئیے گرفتار رکھ سکیں گے ۔
مجاز حکام مخصوص حالات میں گرفتار کئیے گئے افراد کے بارے میں معلومات چھپانے کا اختیار بھی رکھتے ہیں –
کسی بھی شخص کو دشمن کا ایجنٹ یا ملک دشمن قرار دے کر غیر معینہ مدت تک غائب رکھا جا سکے گا ۔
ملک دشمن قرار دئیے گئے افراد کو کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہو گا ۔
پارٹ II آرٹیکل 15، 16، 17:
نقل و حرکت کی آزادی، اجتماع کی آزادی اور تنظیم سازی کی آزادی صرف ان لوگوں کو حاصل ہو گی جنہیں ریاست یہ اجازت دے گی ۔
پارٹ II آرٹیکل 17(2):
نظریہ پاکستان کے خلاف کوئی سیاسی جماعت بنانے یا سیاسی سرگرمی کرنے پر پابندی ہو گی ۔
پارٹ II آرٹیکل 19:
اظہارِرائے کی آزادی اسی قدر ہو گی جس قدر ریاست مناسب سمجھے گی ۔
پارٹ II آرٹیکل 21:
مذہبی آزادی قانون اور امنِ عامہ کی ضروریات کی حدود میں حاصل ہو گی ۔
پارٹ II آرٹیکل 24:
حقِ ملکیت اور جائیداد بھی ریاست کی منشاء کے تابع ہو گا ۔
پارٹ II آرٹیکل 25:
حکومت کسی بھی ایسی پراپرٹی کو قبضے میں لینے کی مجاز ہو گی جسے وہ کسی شہری کی ملکیت نہیں سمجھے گی یا جسے کچھ مخصوص لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لئیے استعمال کرنا مقصود ہو گا ۔
حکومت قبضے میں لی گئی زمینوں کا جو معاوضہ مقرر کرے گی اسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ۔
پارٹ III آرٹیکل 33:
گورنر کا تقرر پاکستان کا صدر پاکستان کے وزیرِاعظم کی ہدایت کے مطابق کرے گا ۔
پارٹ IV آرٹیکل 41:
گلگت بلتستان کی حکومت پاکستان کے وزیراعظم کی ہدایات کی پابند ہو گی ۔
پارٹ VI آرٹیکل 48:
گلگت بلتستان کا ڈومیسائل رکھنے والا کوئی بھی شخص جس کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہو گا، ووٹ کا حق رکھتا ہے ۔
پارٹ VI آرٹیکل 50:
اگر کوئی عدالت کسی کو نظریہ پاکستان، پاکستان کی سالمیت، تحفظ، استحکام، پاکستانی فوج یا پاکستانی عدلیہ کی تذلیل و تحقیر کے جرم میں سزا سنا دیتی ہے تو سزا کاٹنے کے بعد بھی پانچ سال تک ایسا شخص انتخابات میں حصہ لینے کا اہل نہیں ہو گا ۔
پارٹ VI آرٹیکل 57:
گلگت بلتستان کی اسمبلی میں خارجہ امور، دفاع، اندرونی سیکورٹی کے معاملات اور ججوں کے فیصلوں پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی ۔
پارٹ VII آرٹیکل 60:
قانون سازی کے تمام اختیارات پاکستان کے وزیراعظم کو حاصل ہوں گے اور اگر اسمبلی کوئی ایسا قانون بناتی ہے جس پر پاکستان کا وزیراعظم خوش نہیں تو اسمبلی کے قانون کے مقابلے میں پاکستانی وزیراعظم کا فیصلہ قانونی حیثیت کا حامل ہو گا اور گلگت بلتستان اسمبلی کا قانون کالعدم قرار پائے گا ۔
پارٹ VII آرٹیکل 61:
گلگت بلتستان کی حکومت کے انتظامی اختیارات پاکستان کے وزیراعظم کے احکامات کی بجاآوری تک محدود ہوں گے ۔
نیز گلگت بلتستان کو اندرونی خلفشار سے بچانا پاکستان کے وزیراعظم کی ذمہ داری ہو گی ۔ اور اس مقصد کے لئیے وہ اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرے گا ۔
پارٹ VII آرٹیکل 62:
گلگت بلتستان کی حکومت کے تمام اختیارات پاکستانی وزیراعظم کی صوابدید پر ہوں گے ۔ گلگت بلتستان کی حکومت پاکستانی وزیراعظم کی حکم عدولی کرنے کی مجاز نہیں ہے ۔
گلگت بلتستان کی حکومت امن و امان اور اقتصادی و معاشی معاملات میں بھی پاکستانی وزیراعظم کے احکامات اور فیصلوں کی پابند ہو گی ۔
پارٹ VII آرٹیکل 64:
حکومتِ پاکستان گلگت بلتستان کے اندر کسی بھی مقصد کے لئیے کوئی بھی زمین حاصل کرنے کا پورا اختیار رکھتی ہے ۔ اور گلگت بلتستان کی حکومت اس ضمن میں کسی فیصلے پر انکار نہیں کر سکتی ۔
پارٹ VII آرٹیکل 65:
ٹیکس نافذ کرنے کے لئیے قانون کا سہارا لیا جائے گا اور پہلے سے قانونی طور پر نافذ کردہ تمام ٹیکس برقرار رہیں گے ۔
پارٹ XI آرٹیکل 75:
گلگت بلتستان میں سپریم ایپلیٹ کورٹ کے ججوں کی تقرری کا اختیار پاکستانی حکومت کو ہو گا ۔
ججوں کی تنخواہوں اور مراعات کے تعین کے اختیارات پاکستانی وزیراعظم کے پاس ہوں گے ۔
پارٹ XI آرٹیکل 8:
گلگت بلتستان میں ججوں کو مستقل کرنے کے اختیارات پاکستانی وزیراعظم کو حاصل ہوں گے ۔
پارٹ XII آرٹیکل 95:
گلگت بلتستان میں پبلک سروس کمیشن کے ممبران اور چئیرمین کے تقرر کے اختیارات پاکستانی وزیراعظم کو حاصل ہوں گے ۔
پارٹ XIII آرٹیکل 97:
گلگت بلتستان میں الیکشن کمشنر کی تقرری کا اختیار وزیراعظم پاکستان کو حاصل ہو گا ۔
پارٹ XIV آرٹیکل 98:
گلگت بلتستان میں آڈیٹر جنرل کی تقرری پاکستانی وزیراعظم کی ہدایت پر کی جائے گی اور اس کی ملازمت کی تمام شرائط کا تعین پاکستانی وزیراعظم کرے گا ۔
آڈیٹر جنرل کے اختیارات اور دائرہ کار کا تعین بھی پاکستانی وزیراعظم کرے گا ۔
پارٹ XV آرٹیکل 99:
گلگت بلتستان میں اس آرڈیننس کے نفاذ کے وقت موجود تمام قوانین جاری رہیں گے ۔
پارٹ XVI آرٹیکل 102:
گلگت بلتستان میں اندرونی خلفشار وغیرہ کو بنیاد بنا کر پاکستانی وزیراعظم ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار رکھتا ہے ۔
ایمرجنسی کے نفاذ پر گلگت بلتستان کی حکومت کے تمام انتظامی اختیارات پاکستانی وزیراعظم کو منتقل ہو جائیں گے ۔ جو ان کا خود استعمال کرے گا یا گورنر کو انتظامی ہدایات دے گا ۔
پارٹ XVI آرٹیکل 103:
ایمرجنسی کے نفاذ پر گلگت بلتستان کے شہریوں کے تمام بنیادی انسانی اور قانونی حقوق ختم ہو جائیں گے ۔
پارٹ XVI آرٹیکل 104:
گلگت بلتستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے پاکستانی وزیراعظم کے فیصلے کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ۔
پارٹ XVI آرٹیکل 105:
پاکستانی وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں مالیاتی ایمرجنسی نافذ کرنے کا بھی اختیار ہو گا اور ایسی صورت میں گلگت بلتستان کے ملازمین کی تنخواہیں اور مراعات بھی کم کر دی جائیں گی ۔
پارٹ XVII آرٹیکل 107:
پاکستانی وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین کو عام معافی دینے کا اختیار حاصل ہو گا ۔
پارٹ XVIIآرٹیکل 108:
پاکستانی وزیراعظم، یا گلگت بلتستان کی حکومت کے کسی نمائیندے کے حکومتی فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں کئیے گئے اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا ۔
نیز پاکستانی وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے گورنر کے خلاف ان کے دور حکومت میں کوئی فوجداری یا سول قانونی کاروائی نہیں کی جا سکے گی ۔
پارٹ XVII آرٹیکل 113:
پاکستانی وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں خصوصی عدالتیں قائم کرنے کا اور ملزمان کو سزائیں دینے کے لئیے قانون بنانے کا اختیار ہو گا ۔
قارئینِ کرام
ان دفعات کے بعد آئین سے ملحقہ شیڈول بھی قابلِ توجہ ہیں ۔
فرسٹ شیڈول:
گورنر، وزیراعلی’، اسمبلی اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، حکومتی وزراء، ممبران اسمبلی، سپریم ایپلیٹ کورٹ اور ہائیکورٹ کے جج، آڈیٹر جنرل اور حکومتی مشیر جو حلف اٹھائیں گے اس میں پاکستان اور پاکستانی آئین کے ساتھ وفاداری اور پاکستان کے آئین کے تحفظ کی قسم دی جائے گی ۔
الیکشن کمشنر بھی اپنے حلف میں پاکستان کے آئین کے ساتھ وفاداری کا عہد کریں گے ۔
تھرڈ شیڈول:
ان 62 شعبوں کا ذکر ہے جن پر قانون سازی کا اختیار گلگت بلتستان کی اسمبلی کے بجائے پاکستانی وزیراعظم کو حاصل ہو گا ۔ اس فہرست میں گلگت بلتستان کی حاکمیت اعلی’ کے تمام اہم امور شامل ہیں ۔
گویا گلگت بلتستان میں طاقت اور قانون سازی کا سر چشمہ پاکستانی وزیراعظم ہو گا ۔ شہریت کے تعین سے لے کر، سیاسی تحریکوں کا کنٹرول، ڈاک و تار کا نظام، زرِمبادلہ، عوام کی بچتوں، حکومتی مالیاتی کنٹرول، پبلک سروس کمیشن، پینشن، محتسب، لائیبریریوں، عجائب گھروں، ریسرچ، ٹیکنیکل ٹریننگ، انتظامی عدالتوں، بیرونی ممالک میں تعلیم و تربیت، نیوکلیائی انرجی اور اس کے لئیے درکار معدنیات، سرحدی تجارتی معاملات، فضائی و بحری ٹریفک کے امور، ایجادات و اختراعات کے ملکیتی حقوق، افیون کی کاشت، قومی بنک، کرنسی اور بینکنگ کا نظام، تمام بیرونی تجارت، انشورنس کا نظام، صنعتی اور تجارتی کارپوریشنوں کے تمام امور، سٹاک مارکیٹ، اقتصادی منصوبہ بندی، بیرونی تجارتی سمجھوتے و معائدے، قومی شاہراہوں اور اہم سڑکوں کے معاملات، مچھلی کی صنعت، وفاقی حکومت کے کام کے لئیے درکار زمینوں اور عمارات کے معاملات، تمام اقسام کے سروے، اوزان و پیمانوں کا تعین، مردم شماری کے معاملات، کسٹم ڈیوٹی اور دیگر درآمدی و برآمدی ٹیکس، پولیس کے معاملات و استعمال، ایکسائز ڈیوٹی، معدنیات، قدرتی گیس، صنعتوں کا قیام، قیدیوں کی نقل و حرکت، پاکستان کی سالمیت کے معاملات اور اس مقصد کے لئیے پولیس اور دیگر اداروں کا قیام، بجلی اور ڈیموں سے متعلقہ تمام معاملات، اخبارات، کتب اور پرنٹنگ پریس کے امور، نصاب کا تعین اور تعلیم کا معیار، فلمسازی، سرحدی تجارتی کنٹرول، قانونی، طبی اور دیگر پیشہ وارانہ شعبوں کے معاملات، اعلی’ تعلیم اور اس کے معیار سے متعلقہ امور، اشیاء کی نقل و حرکت کے کرایوں اور ٹیکسوں کے معاملات، قومی اقتصادی منصوبہ بندی، فیسوں کے تعین کے معاملات، عدالتوں کے دائرہ کار اور اختیارات کے معاملات، بین الصوبائی امور، قانون شکنی کے معاملات، اعدادوشمار کے امور اور ان کے علاوہ وزیراعظم پاکستان کے صوابدیدی امور وغیرہ پر قانون سازی کا حق گلگت بلتستان کی اسمبلی کے بجائے پاکستان کے وزیراعظم کو ہو گا ۔
فورتھ شیڈول
اس شیڈول میں گلگت بلتستان کی سرکاری ملازمتوں میں پاکستان کے کوٹے کی تفصیل درج ہے ۔
جو اس طرح ہے:
گریڈ 17 میں کل ملازمتوں کا 18% پاکستانی
گریڈ 18 میں 30% پاکستانی
گریڈ 19 میں 40% پاکستانی
گریڈ 20 میں 50% پاکستانی
اور
گریڈ 21 میں 60% پاکستانی
تعینات ہوں گے ۔
قارئین کرام ۔
میں نے گلگت بلتستان کے 2018 آرڈر کی جو مختصر تفصیلات درج کی ہیں ان سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس آرڈر میں گلگت بلتستان کی حکومت اور عوام کو کسی قسم کا کوئی حق اور اختیار حاصل نہیں ہے ۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس آئین کے تحت گلگت بلتستان کے عوام کو گھروں سے باہر نکل کر پہاڑوں کو دیکھنے کے حق کے علاوہ کوئی اور حق حاصل نہیں تو یہ بیجا نہ ہو گا ۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مل کر اپنے آئینی، سیاسی، جمہوری اور بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کی مشترکہ جدوجہد کریں ۔صرف ایسی جدوجہد ہی گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے حقوق واپس دلا سکتی ہے ۔

تحریر و تجزیہ ۔ ثمینہ راجہ ۔ جموں و کشمیر ۔

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*