تازہ ترین

لبنان ، جمہوریت اور پاکستانی معاشرہ ۔۔

مشرق وسطیٰ کے ملک لبنان میں حالیہ الیکشن کے بعد میرے حلقہ احباب میں بہت زیادہ بحث دو حوالوں سے بہت زیادہ ہورہی ہے۔
ایک گروہ جمہوریت کے نظام کو طاغوت اور ووٹ دینے کو ربوبیت سے انکار کرنا قراردینے والے سپر انقلابی نظریئے کے افراد وہاں کے شیعہ انقلابی تنظیم حزب اللہ کا فرانسیسی جمہوری نظام میں بھرپور حصہ لیکر جیتنے پر دلائل دے رہے ہیں کہ لبنان اور ہے پاکستان اور۔ یعنی لبنان میں جمہوریت جائز جبکہ پاکستان میں طاغوت اور انکار ربوبیت یعنی شرک۔ اتنا ہی نہیں بلکہ لبنان کے جمہوری نظام میں انقلابی تنظیم حزب اللہ اور اتحادیوں کی جیت پر یہی پاکستانی ماڈل کے انقلابی گروہ بہت زیادہ شاداں بھی ہیں اور اسکو ایرانی ساختہ نظام ولایت فقیہ کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں پاکستانی جمہوریت میں حصہ لینے والے گروہ [جن کو پاکستانی ساختہ انقلابی گروہ انکار ربوبیت کے مرتکب یعنی مشرک قرار دیتے ہیں ] لبنان انتخابات اور حزب اللہ کی روش کو اپنے نظریئے کی فتح قراردیتے ہوئے پاکستان میں جمہوری عمل کا حصہ بننے کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہی مدلل اور حقائق کے مطابق سمجھ آنیوالی بات ہے کہ حزب اللہ کی کامیابی ایرانی انقلابی فارمولے کی یقینا جیت ہے لیکن وہ شروع دن سے اٗسی فرنچ جمہوری نظام کے اندر رہ کراور اس نظام میں بھرپور حصہ لیکر یہ جیت حاصل کرچکے۔
دوسرا گروہ اس وقت جلیلہ حیدر نامی خاتون کے ہزارہ برادری کی قتل عام کے خلاف احتجاج پر پاکستانی انقلابی عالم دین کے اعتراضات کے سامنے لبنانی عورتوں کی نیم عریاں حالت میں حزب اللہ کی سپورٹ سے موازنہ کررہے ہیں۔ یہ بات تو طے ہے کہ صرف لباس اور ظاہری حلئے سے کوئی بھی کسی پر فتویٰ نہیں لگا سکتا چاہے وہ مسلمان عورت پاکستان میں ہو یا باہر۔ اور غیر مسلم ہو یا بالفرض غیر مسلم نظریات پر ہوں تو کسی مولوی کا اس پر انگلی اٹھانا ہی نہیں بنتا۔ چہ جائیکہ وہ کوئی جلیلہ حیدر کی طرح اپنے لوگوں پر مظالم کے خلاف اٹھے یا ویسے ہی ایسے حلئے میں رہنا چاہتی ہو۔
دوسری جانب لبنان کی آبادی کو جاننے والے بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ وہاں کی چالیس سے پچاس فیصد آبادی اہل کتاب عیسائی ہیں۔ جبکہ باقی سنی اور شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہیں۔ آبادی کی اسی تناسب کے مطابق وہاں کا جمہوری سسٹم طے کیا ہوا ہے۔ سب سے بڑی آبادی سے عیسائی صدر ہوگا ، اہل سنت وزیر اعظم جبکہ شیعہ اسمبلی کا سپیکر۔ اور اس تقسیم کی وجہ سے وہاں سیاسی جماعتوں کی بجائے سیاسی اتحاد کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ جسکی مثال گزشتہ 2009 کی انتخابات اور حالیہ انتخابات سے واضح ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے بعد رفیق حریری کا اتحاد وزیر اعظم بنانے میں کامیاب ہوا تھا جو کہ اس بار مشکل لگ رہا ہے۔ وزیر بنے گا سنی مسلمان ہی ، لیکن یہ سنی اکثریت والا اتحاد طے کریگا کہ کونسے اتحاد میں زیادہ سنی سیٹیں ہیں ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ سنی وزیر اعظم حزب اللہ کا اتحاد بھی ہوسکتا ہے اور کسی مخالف اتحاد سے بھی۔ اسی طرح صدر سابق دور میں بھی عیسائی تھا جس کو حزب اللہ کی حمایت حاصل تھی، اور اس بار بھی واضح ہے کہ صدر حزب اللہ اتحاد سے ہی ہوگا کیونکہ حزب اللہ اتحاد میں شامل عیسائی زیادہ نشستیں حاصل کرچکے ہیں جبکہ مخالف اتحاد نے کم ۔ بالکل اسی طرح سپیکر پہلے بھی شیعہ ہی تھا، اب بھی شیعہ ہی ہوگا، جس کیلئے حزب اللہ کا اتحاد تنظیم امل کے ساتھ ہے جن کے پاس تقریبا تمام شیعہ نشستیں موجود ہیں۔ اور دوسرے اتحاد کے پاس ایک بھی نہیں۔
اب لبنان کی آبادی کے تناسب اور انتخابی اتحادی صورتحال پاکستان سے یکسر مختلف ہونے سے پتہ چلتا ہے کہ وہاں کے لوگوں کی وابستگیاں بھی ویسی نہیں جیسی ہمارے ملک میں ہے۔ نہ وہاں حزب اللہ کے حامی سارے شیعہ ہیں، نہ سعد الحریری کے سارے حامی سنی ہیں اور نہ عیسائی سیاسی جماعت میں سارے صرف عیسائی۔ اسلئے حزب اللہ کے حامی عیسائی اور سنی بھی ہیں جس کے شواہد موجود ہیں، اسی طرح دوسروں کے بھی ،لھٰذا حزب اللہ کے جھنڈے کو کسی نیم برہنہ عورت کے ہاتھ میں ہونے سے اسے شیعہ کہنا حقائق کے منافی ہے۔
واضح رہے ماضی میں لبنان فرنچ کالونی رہ چکی ہے ، جیسا آزادی سے قبل پاکستان و ہندوستان برطانوی کالونی تھی۔ مشرق وسطیٰ کی ماڈرن ترین ماحول لبنان میں آج سے تیس چالیس سال پہلے سے موجود تھا، اور مغربی لوگ چھٹیاں منانے بیروت آتے۔ شہید ڈاکٹر مصطفیٰ چمران تنظیم امل اور پھر حزب اللہ کی آبیاری کرنیوالوں میں سے تھے،انکی کتاب “لبنان” کا مطالعہ لبنان کے نو آبادیاتی نظام اور وہاں کے معاشرتی و معاشی اور جغرافیائی ماحول کو سمجھنے کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کتاب کے مطابق لبنانی شیعہ، خصوصا جنوبی لبنان کے شیعہ اکثریتی علاقے زیادہ تر غریب ہونے کی وجہ سے انکی عورتیں اسی کی دہائی میں بھی ہوٹلوں اور ہر عیاشی کے جگہوں پر کام کرنے پر مجبور تھیں۔ ہماری نسل کی پیدائش سے قبل بھی لبنان میں ماڈرن طور طریقے پاکستانیوں خصوصا گلگت بلتستان کے دیسی لبرلز کی سوچ سے بھی بہت آگے تھی۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کی آبادی مخلوط ہونے کی بنا پر شرعی امور اور نظریات میں زبردستی ہرگز ممکن نہیں تھی، اسکے باوجود حزب اللہ لبنان نے سیاست، مقاومت اور معاشرت میں وہ کام کرلیا کہ اس ماڈرن لبنان کے شیعہ انقلابی بن گئے،۔ انہوں نے طاغوت قرار دیکر کنارہ کش ہونے کی بجائے ہر شعبے میں کھل کر حصہ لیا۔ وہ زمانہ بھی دیکھا جب شیعہ تنظیم اور حزب کے اختلافات بھی عروج پر رہے۔ لیکن اختلافات کو وہ رخ نہیں دیاگیا جیسا پاکستان میں دیا جاتا ہے۔ حزب اللہ بھرپور حصہ لیکر سیاست ، معاشرت، مقاومت ہر ایک میں مثال بن گئی۔ اسرائیل کو2006 میں سبق سکھایا، اب میلی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا۔ امریکا بہادر نے دہشت گرد جماعت قراردیا، اور اس دہشت گرد جماعت نے اپنے ملک کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ شام میں بھی امریکی اتحاد کو ناکوں چنے چبوا دیا۔نتیجتا لبنان کے شیعہ اور سنی ہی نہیں بلکہ عیسائی بھی اب حزب پر فخر کرتی ہے۔
حزب اللہ ایک دم سے اپنے تمام حامیوں اور سپورٹر خواتین کو یقینا چادر نہیں اوڑھا سکتی، نہ ہی وہ ان سب کو زبردستی مسلمان بناسکتی ہے، لیکن نظریاتی طور پر اپنے آپ کو سب کیلئے مقبول عام بنانا یقینا معجزے سے کم نہیں۔ جبکہ ہمارے لوگوں کے نظریات کا یہ حال ہے کہ دیسی لبرلز ترقی کا زینہ عورتوں کی مخلوط تقاریب اور نیم عریانی کو قرار دیتے نہیں تھکتے؟ کس طرح ہم اپنی عورتوں کا مقابلہ ایسے معاشرے کے عورتوں سے کرسکیں گے جو اب سے چالیس سال پہلے بے پردگی و عریانی کی دنگل میں تھے؟ لبنانی مغربی مادر پدر آزادی کا تجربہ کرکے نظریات کی طرف آرہے ہیں، جبکہ ہمارے دیسی لبرل اسی کی دہائی سے پہلے والی لبنانیوں کو اب فالو کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ لبنانی بہت اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ فرنچ کالونی میں ذلت و رسوائی تھی، استحصال تھا، جبر وظلم تھا، بے پردگی اور عریانیت تھی، مگر عزت و شرف اگر ہے تو اسلامی اصولوں کی پاسداری، خالص نظریات، اور شجاعت و مردانگی میں ہے جو حزب اللہ نے عملا کردکھایا۔ تبھی لبرل شیعہ و سنی ہی نہیں بلکہ غیر مسلم عیسائی بھی ان کے دلدادہ ہیں۔
تحریر : شریف ولی کھرمنگی۔ بیجنگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*