تازہ ترین

بنیادی حقوق سے محروم طبقہ!!!

میں پیشے کے اعتبار سے ایک سماجی کارکن ہوں۔میرا پیشہ انسانیت کی بات کرتا ہے۔میرا پیشہ محبت کی بات کرتا ہے۔میرے پیشے میں قوم پرستی،ذاتی پرستی،فرقہ پرستی جیسے عوامل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔نہ میرے شعبے کے اصول و ضوابط مجھے اس طرح کی تعصب کی اجازت دیتے ہیں۔البتہ میرے شعبے کا سب سے اہم اور مقدس چیز انسان کے بنیادی حقوق کی تحفظ ہے۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں کوئی قوم پرست و فرقہ پرست ہوں البتہ معاشرے کے پسے ہوئے مظلوم و محروم طبقہ چاہے جس لسانی،علاقائی،مذہبی اقلیت،فرقہ سے بھی تعلق ہو اس کے حق کیلئے آواز بلند کرنا اپنی شریعی،اخلاقی و شعوری فریضہ سمجھتا ہوں۔آج میں آپ تمام قارئین کو ایک ایسے خطے کے باسیوں سے ملانے کیلئے لے جا رہا ہوں جو پچھلے 70 سالوں سے آئین جیسے مقدس روح سے محروم ہے۔پاکستان کےانتہائی شمال میں آباد یہ علاقے کے ٹو ،ننگا پربت ،راکا پوشی،شنگریلا،سدپارہ،دیوسائی،منٹھوکھا آبشار کھرمنگ،خموش آبشار کھرمنگ ،نلتر ویلی ،شگر فورٹ ،بلتت ،التت،خپلو فورٹ،راما جھیل،کچھورا جھیل،گانچھے جھیل کھرمنگ،فری میڈو دیامیر،طوطا جھیل کھرمنگ،بابوسر،شگر ویلی ،خپلو ویلی،ہنزہ ویلی،داریل تانگیر،غذر ویلی،ناژھوق و تھلے بوٹینکل گارڈن ،شیلا گاوں جیسے خوبصورت چمن کے مالک ہے۔لیکن یہ خوبصورتی اس وقت مانند پڑ جاتی ہے جب یہاں کے غریب عوام اپنے حق کیلئے آواز اٹھاتے ہے۔جب کوئی بھی شخص اپنے حقوقکیلئے آواز اٹھاتے ہے تو انہیں فورتھ شیڈول اور دوسرے حربوں کے زریعے خاموش کیا جاتا ہے۔جب بھی عوامی تحریک شروع ہوتی ہے پہلے پہل عوام کو ڈارانے کی کوشیش کی جاتی ہے لیکن جب عوام اپنے حقوق کیلئے ڈٹ جاتے ہوئےنظر آتے ہے تو مختلف حلیے بہانوں سے انہیں بے وقوف بنایا جاتا ہے۔چونکہ وہاں کے عوام مملکت پاکستان سے بہت محبت کرنےوالے لوگ ہے ان کی ڈیمانڈ تھی کہ پاکستان انہیں آئینی صوبہ بنائے لیکن حکومت کا موقوف ہے کہ اقوام متحدہ کے قرداد کے مطابق پاکستان چاہتےہوئے بھی گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ نہیں بنا سکتے ہے۔بجا فرما رہا ہے گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے۔جو مسئلہ کشمیر کا ایک فریق ہے۔جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا پاکستان و ہندوستان کشمیر و گلگت بلتستان کو اپنے آئین میں جگہ نہیں دے سکتے۔لیکن اقوام متحدہ کے قراداوں کے مطابق سیٹ اپ تو دے سکتا ہے۔لیکن پچھلے ستر سالوں سے اس بدقسمت قوم کو نہ تین میں نہ تیرہ میں رکھا گیا ہے۔جب کہ آذاد کشمیر و مقبوضہ جموں کشمیر میں ریاستی اسمبلیاں وجود رکھتی ہے۔جس کے زریعے وہاں کے مقامی اپنےلئے قانون بنانے میں آذاد ہے جبکہ گلگت بلتستان کو کبھی پولیٹکل ایجینٹ کے زریعے چلایا گیا تو کھبی وزیر امور کشمیر کے زیر نگرانی تو کھبی صدارتی آرڈنینس کے زریعے اس علاقے کے مستقبل کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔ایک بے اختیار ادارے کو قانون ساز اسمبلی کا نام دیا گیا ہے جو اپنے بنائے ہوئے قانون پر عملدرآمد نہیں کروا سکتا۔پچھلے مہینے کی بات ہے گلگت بلتستان اسمبلی کے ممبران نے پی آئی اے کے گلگت و سکردو روڈ پر کرایہ کم کرنے کیلئے ایک قرداد منظور کی تھی جیسے پوری ایوان کی مکمل حمایت سے منظور کروایا گیا لیکن پی آئی اے کے ذمہ داروں نے ایک ہفتے کے ہی اندر اس قراداد کو نظر انداز کر کے کرایوں میں 80 فیصد سے ذیادہ اضافہ کر دیا۔اس سے آپ تمام قارئین اندازہ کر لے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کتنی بااختیار ہے۔پی آئی اے کی کارستانی بھی صرف اتنی سی ہے کہ سکردو سے پنڈی تک کا سفر 45 منٹ اور کرایہ 14000 جبکہ کراچی سے روالپنڈی 2 گھنٹے اور کرایہ 8 سے 9 ہزار روپے ہے۔چلے جی ایسی ناانصافیاں لکھتے جاینگے تو کالم بہت طویل ہو جائنگے جس سے میرے معزز قارئین کے ذہین خراشی کا احتمال ہے اور کسی بھی لکھاری کے جمع پونجی اس کے قارئین ہوتے ہے۔اب گلگت بلتستان کو جو پیکج دینے جا رہے ہے وہ میڈیا پر آگیا ہے جس کے مطابق وزیر اعظم پاکستان گلگت بلتستان کے متلق اعنان بادشاہ بن گئے ہے۔تمام اختیارات وزیر اعظم کے ہاتھوں میں ہوگا۔پاکستان کے شہری گلگت بلتستان کے شہری بن سکتا ہے لیکن گلگت بلتستان کے شہری پاکستان کا شہری نہیں کہلائے گا۔تمام اختیارات جن میں سپریم اپلیٹ کورٹ جو گلگت بلتستان کے اعلی عدالتی کورٹ ہے کے چیف جسٹس کی تقرری کا حق صرف وزیر اعظم کو ہوگا۔جب کہ سپریم اپلیٹ کورٹ میں وزیر اعظم کے فیصلے کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں چل سکتا یعنی اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔اس کی تفصیل بہت طویل ہے جو یہاں بیان نہیں ہو سکتا البتہ اس أرڈنینس جس کو آرڈنینس 2018 کا نام دیا گیا ہے کے خلاف سوشل میڈیاپر گلگت بلتستان کے عوام خاص کر نوجوانوں نے کالا قانون نا منظور ،یہ دھرتی ہماری ہے ،اس پر حق ہمارا ہے، آذاد کشمیر طرز کابااختیار آئین ساز اسمبلی اور اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کرو کے تحریکیں چلنا شروع ہو گیاہے جب کہ عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان جس کو گلگت بلتستان کی مقامی و وفاقی بائیس جماعتوں کی حمایت حاصل ہے جلد تحریک چلانے کا عندیہ دے دیا ہے۔وفاقی حکومت کو بھی چاہے کہ وہ گلگت بلتستان کے عوامی امنگوں اورملکی و عالمی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے وہاں کے عوام کو بااختیار آئین ساز اسمبلی بمعہ اسٹیٹ سبجیکٹ رول بحال کریں جو مملکت اسلامی پاکستان ،کشمیر کاز اور گلگت بلتستان کے عوام کیلئے سود مند ہے۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

About TNN-SKARDU

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*