تازہ ترین

میں کون ہوں اور میر ی شناخت کیا ہے۔۔ ؟

میں بولتا ہوں تو مجھ پہ الزام ہے بغاوت کا
میں چپ رہوں تو بڑی بے بسی سی ہوتی ہے.
اللّہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات پیدا کیا , یعنی آزاد اور تمام جاندار پہ فضیلت بخشی۔ انسان اس دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلے اس سے زندہ رہنے کیلئے (ہوا اور پانی) کی ضرورت پیش آتی ہے جب اس سے یہ میسر آتا ہے تو وہ کھانے کی چیزوں کی تلاش شروع کرتا ہے۔ اور جب اس سے یہ بنیادی ضروری تمام چیزیں میسر آتی ہیں تو پھر یہ پہنے کیلئے کپڑے اور رہنے کیلئے مکان کی خاطر فکرمند رہتا ہے۔ اس کے بعد وہ دوست , احباب، رشتہ داری، گاؤں شہر والوں سے میل جول اور ان کے ساتھ تعلقات اور اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا ہے ۔پھر ایک ایسا اسٹیج آتا ہے کہ انسان کو یہ ساری چیزیں میسر آتی ہیں تو وہ Self-actualization پہ پہنچ جاتا ہے جس کے بعد وہ چاہتا ہے کہ اس کی شہرت ہو اور وہ دوسروں کا احساس کرتا ہے اور لوگوں پہ خرچہ کرکے راحت محسوس کرتا ہے۔ میں آپ کی خدمت میں جو چیزیں عرض کی ہے وہ مشہور سائیکولوجسٹ Maslows کی Theory تھی۔ اس طرح اسی سے مربوط اب ہم آتے ہیں اپنے موضوع کی طرف کہ “میں کون ہوں؟” میری کیا حیثیت ہے؟ کیا پہچان ہے؟ کیا مقام ہے؟ کیا عزت ہے؟ کتنی اہمیت ہے؟ یہ ساری باتیں سب مل کے ہم کہتے ہیں
میں کون ہوں؟
یہاں لفظ “میں” کا مطلب میری نظر میں گلگت بلتستان کا ہر فرد ہے جنہیں اب تک کوئی آئینی پاکستانی تسلیم نہیں کررہا اور نہ ہی متنازعہ بنیاد پر حقوق دینے کیلئے تیار نظر آتا ہے۔ ہمارے عوام کے پاس شناختی کارڈ تو پاکستانی توہے لیکن ووٹ کے ذریعے صدر و وزیر اعظم منتخب کر کا اختیار حاصل نہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری کردہ پاسپورٹ تو ہے لیکن سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں کوئی مقدمہ نہیں لڑسکتا۔پاکستان کے ہر شہر میں جا تو سکتے ہیں لیکن دارالحکومت اسلام آباد میں موجود قومی اسمبلی اور سینٹ جہاں قوموں کی مستقبل کا فیصلہ ہونا ہوتا ہے وہاں شناختی کارڈ کی بنیاد پر داخل تک نہیں ہوسکتا
بیوروکرئسی اور دوسرے سیکورٹی اداروں میں نوکری تو کرسکتے ہیں لیکن ان کے چیف کے طور پر کہیں بھی بالخصوص گلگت بلتستان میں خدمات سرانجام نہیں دے سکتے۔K2 , ننگاپربت , سیاچن دیوسائی اور دیگر سیاحتی مقامات وہاں موجود تو ہیں لیکن اُن سےحاصل ہونے والے آمدنی پر گلگت بلتستان کواختیار حاصل نہیں۔موجودہ پروجیکٹ CPEC وہاں سے گزر تو رہا ہے لیکن اس میں کوئی حصہ یا پروجیکٹ بالخصوص گلگت بلتستان کیلئے مختص نہیں۔اسپتالیں موجود تو ہیں لیکن وہاں کوئی سہولیات موجود نہیں،شرخ خواندگی 100 فیصد ہیں لیکن وہ میڑک تک آگے پڑھنے کیلئے کوئی کالج ، یونیورسٹی موجود نہیں خصوصا میڈیکل ، انجنئرنگ، اور ٹیکنیکل یا قانون کی۔وہاں کے پہاڑوں میں معدنیات تو بہت ہیں لیکن ان پہاڑوں پہ رہنے والے باسیوں کے پاس کھانے پینے تک کی اشیاء نہیں اور شہروں کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہیں۔
زمینیں بہت ہیں لیکن لوگ اس زمین کو کاشت نہیں کرسکتے کیونکہ وہ “خالصہ سرکار” کے نام پر حکومتی گیسٹ ہاوسز , ریسٹ ہاوسز وغیرہ بناتے ہیں تاکہ گرمیوں میں بیروکرئٹس کی سالیاں , پھوپھیاں وغیرہ یہاں آکر موسم انجوائے کر سکیں وہ بھی گلگت بلتستان حکومت کے خرچے پر۔وہاں قانوں ساز اسمبلی تو ہیں لیکن اس اسمبلی کے وزیر اعلیٰ سے زیادہ اختیارات چیف سیکرٹیری کے پاس ہوتا ہے وہ چیف سیکرٹیری جو عوام کی ووٹ سے نہیں بلکہ ٹیسٹ پاس کرکے آتے ہیں اور گلگت بلتستان کی عوام پر حکومت کرتے ہیں۔
یہ سب چیزیں میری سمجھ سے بالاتر ہیں اس لئے میں کہہ رہا ہوں کہ “میں کون ہوں؟” میرا جرم کیا ہے ؟ آخر مجھے حقوق کیوں نہیں دئیے جارہے؟
کیوں 70 سالوں سے مجھے محرومیوں کے اندھیروں میں دھکیلا ہوا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے ہم خود یا حکمران ؟
اٹھائیس ہزار مربع میل پر محیطاور25 لاکھ سے زیادہ آبادی اور تین ایٹمی ملکوں کے سنگم پر واقع خطہ گلگت بلتستان آخر کس وجہ سے محرومیوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں؟کیا اس علاقے کے نوجوانوں کو پڑھنے کا حق نہیں ؟ کیا اس علاقے کی خواتین کو صحتمندانہ زندگی گزارنے کا حق نہیں؟ اس علاقے کے باشندوں کو دوسرے صوبوں جیسا حقوق کیوں نہیں حاصل؟۔ لاہور سے امرتسر کیلئے مظفر آباد سے سری نگر کیلئے بس سروس چل سکتا ہے تو سکردو کرگل ،خپلو تورتک لداخ بس سروس چلا کر ہزاروں منقسم خاندانوں کو ملانے اور تجارت سے کس کے نقصان اور کس کو فائدہ ہورہا ہے؟ سیاسی سرحدی لیکروں میں اس خطے کا عوام کا ایک دوسرے سے جدائی آخر کس وجہ سے ؟ کس جرم ؟۔ کیا یہی سترسالہ قربانیوں کا صلہ دیا جارہا ہے؟
عوام فیصلہ کریں “میں کون ہوں؟”
آخر میں اس تلخ شعر کے ساتھ آپ سے اجازت چاہوں گا.
تم نہ آنا وقت کے دریا میں بہہ کر اس طرف
میں تو مچھلی کی طرح الجھا ہوا ہوں جال میں.

تحریر: علی آصف بلتی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*