تازہ ترین

گلگت بلتستان 2018 آرڈر.

آرٹیکل 2 (b) کے تحت پاکستان کا شہری بھی گلگت بلتستان کا شہری کہلائے گا.

اس آرڈر کے مطابق ہم پاکستان کے شہری نہیں کہلا سکتے لیکن پاکستان کے عوام گلگت کا شہری کہلا سکتے ہیں

شہری ہونے کے ناطے حسب ضرورت اعلی سرکاری عہدوں پر اور الیکشن لڑ سکتے ہیں 

17 (2) کے مطابق گلگت بلتستان کا کوئی شخص اور پارٹی ایسی کوئی activity نہیں کرے گی جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو.

اگر کوئی شخص یا پارٹی متنازعہ حیثیت کی بات کرتے ہوے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرے تو اسے نظریہ پاکستان کے منافی قرار دے کر کاروائی کیا جاے گا.

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے تحت تمام اختیارات کا منبع وزیراعظم پاکستان کو بنا دیا گیا

گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے نئے آرڈر کے آرٹیکل 41، 46اور 62، 61کے تحت گلگت بلتستان کی ایگزیکٹو اتھارٹی اپنے معاملات میں وزیراعظم کے ماتحت ہو گی جبکہ قانون سازی کے معاملات بھی آرٹیکل 60(6) اور 60(4)D اور 99(2) کی رو سے وزیراعظم کے زیراثر ہوں گے ، نئے آرڈر کے آرٹیکل 105 کے تحت گلگت بلتستان کے مالی معاملات وزیراعظم پاکستان کی نگرانی میں ہوں گے ، تمام ٹیکسز لاگو کرنے کا اختیار بھی وزیراعظم پاکستان کے پاس ہو گا، نئے آرڈر کے تحت ججز کی تقرری کیلئے کمیٹی بنے گی اور وہ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، وزیراعظم ان سفارشات کی روشنی میں ججز کی تقرری عمل میں لائیں گے ، کسی بھی حادثہ یا نقصان کی صورت میں معاوضوں کی ادائیگی بھی آرٹیکل 107کے تحت وزیراعظم کریں گے۔نیا آرڈر لاگو ہوتے ہی کونسل کے تمام ممبران فارغ ہوں گے تا ہم کونسل کے 6ممبران کو وزیراعلیٰ کا مشیر بنایا جائے گا، گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے کسی بھی مندرجات پر گلگت بلتستان کی کوئی بھی عدالت بشمول سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ سوال یا اعتراض نہیں کر سکے گی ، سپریم اپیلٹ کورٹ اور چیف کورٹ کا آرڈر گلگت بلتستان تک محدود ہو گا، ملک کے دوسرے صوبوں پر صوبے کی عدالت کا کوئی بھی فیصلے کے اطلاق نہیں ہو گا، گلگت بلتستان کی کوئی بھی عدالت کا فیصلہ وزیراعظم پاکستان کے فیصلے پر بھی اثرانداز نہیں ہو سکے گا، اراکین قانون ساز اسمبلی کی موجودہ تعداد برقرار رہے گی ، نئے آرڈر کے تحت نئے گورنر ، نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کیلئے موجودہ وزیراعلیٰ کو اپنی سیٹ پر برقرار رکھ سکے گا، گلگت بلتستان اسمبلی اور وزیراعظم پاکستان مختلف صورتوں میں قانون سازی کیلئے بااختیار ہوں گے تا ہم فائنل اتھارٹی وزیراعظم ہوں گے، آرٹیکل 34-B کے تحت صدر مملکت نگران حکومت کا تقرر کریں گے ، گلگت بلتستان آرڈر اور حکومت پاکستان کے قوانین میں ابہام یا متصادم ہونے کی صورت میں حکومت پاکستان کا قانون حاوی ہو گا، نئے آرڈر کے تحت سپریم اپیلٹ کورٹ کے چیف جج کیلئے عمر کی حد 60سال مقرر کی گئی ہے ، زائد عمر والے جج نہیں بن سکیں گے ، گلگت بلتستان کا صوبائی پبلک سروس کمیشن قائم ہو گا، کمیشن کے ممبران اور چیئرمین کا تقرر گورنر کی ایڈوائس پر وزیراعظم پاکستان تقرر کریں گے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کی تقرری بھی وزیراعظم کریں گے ، آڈیٹر جنرل گلگت بلتستان کا تقرر وزیراعظم کی ہدایت پر گورنر کریں گے۔

تحریر؛ ایڈوکیٹ محمد تقی لیوان
.

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*