تازہ ترین

مہاجرین کرگل لداخ کا آخر کیا قصور۔؟

پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں بسنے والے بھارت کے زیر انتظام کرگل لداخ کے مہاجرین کو حکومت پاکستان نے 70 سالوں سے مذاق بنایا ہوا ان مہاجرین کے ساتھ ناانصافی کی تمام حد پار کرچکا ہے اور ضلع شگر کے ریگستان سرفرانگاہ کے مقام پر ایک بنجر زمین دیکر 1948 کے کرگل لداخ کے مہاجرین کو اور 1971 کے مہاجرین کرگل لداخ کو اپ تک ٹرخایا جارہا ہے پاکستان کے حکمرانوں نے مہاجرین کے ساتھ اپ تک دھوکہ دیا جارہا ہے پاکستان کے سبز رنگ کے پرچم کے سائے تلے زندگی گزارنے اور اسلام ملک کا نام لیکر انے والے مہاجرین کو اپ تک آم کا باغ دکھا رہا ہے یہ مہاجرین انتہائی عجیب مخلوق کا انسان ہے ان کو سمجھ بھی نہیں اہا رہا ہے ان کو اپنے حیثیت کا اندازہ بھی نہیں ہے ان کے پاس بہت بڑا طاقت ہے مگر طاقت کا اندازہ بھی نہیں ہے اور متنازعہ زمین والا جگہ دیکر عدالتوں کا چکر کاٹتے ہوئے مہاجرین کی زندگی تباہ وبرباد ہوچکا ہے زندگی بھر عدالتوں میں کیس کررہا ہے ایک بنجر زمین پر چند لوگ اپنی سیاست کررہا ہے پاکستان کے ظلم حکمرانوں نے اپ تک مہاجرین کو ایک بھی حقوق نہیں دیا گیا ہے پاکستان کے حکمرانوں نے بس ان کو لولی پاپ بھی نہیں دیا جارہا ہے ریگستان دے کر خاموش کیا گیا ہے انجمن مہاجرین کرگل لداخ کے جنرل سیکرٹری مولانا خافظ بلال زبیری نے حکومت کو دھمکی آمیز بیان دیکر ایک بار کہا تھا ہم بھارت کی طرف کفن پوش لانگ مارچ کرینگے اس کے بعد ان پر شدید سیاسی اور عسکری دباو ڈالتے ہوئے ان کو بھی خاموش کردیا گیا اور یہاں کے مہاجرین احساس کمتری کا شکار ہورہا ہے اور پاکستان کے حکمرانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو رہا ہے دوسری طرف یہاں کے مہاجرین کو اپنے بچھڑے ہوئے خاندانوں سے ملانے کیلئے کرگل سکردو اور لداخ خپلو روڈ کو بھی نہیں کھولا جارہا ہے اور یہاں کے مہاجرین تھک گئے ہیں اپنی بچھڑے ہوئے خاندانوں سے ملنے کا موقع دیا جائے مگر پاکستان اور بھارت کے ظلم حکمرانوں نے کبھی بھی ان مہاجرین کا یہ مطالبہ نہیں سنا جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بھارت کے زیر انتظام جموں وکشمیر کے پانچ مقامات سے بارڈر کھول کر تجارت کو فروغ بھی دیا جارہا ہے ویزے پر بھی نہیں انتہائی آسان بناکر فری پاس جاری کرکے بچھڑے ہوئے خاندانوں کو اپس میں ملنے کا مواقع فراہم کیا جارہا ہے۔

تحریر: محمد موسی چلونکھا

  •  
  • 83
  •  
  •  
  •  
  •  
    83
    Shares

About TNN-ISB

One comment

  1. Musa sab lagta hy aap be missing hona chahta hy …lol

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*